سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 7)
”وہ شخص جو برہما پتر اور میرے منبع دریافت کرنے کا پختہ عزم لے کر یہاں آیا سویڈش سیاح ’سیون ہیڈن‘ تھا جو 1907 ء میں مانسرور پہنچا۔ وہ لکھتا ہے؛ ’جھیل مانسرور کی سطح گنبد کی طرح ہے جس کی سنہری ریت پر ایک بڑا درخت اگا ہے جس پرسادھوؤں کے بے شمار سنہرے…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 6)
چلو میں اپنی کہانی آگے بڑھاتا ہوں، ”دارا پہلا بادشاہ تھا جس نے میرے منبع کی تلاش میں اپنے سالار ’اسکا لکس‘ کو بھیجا۔ پہلا یونانی ’کنیشاس‘ تھا جس نے ایرانیوں کو میرے بارے معلومات فراہم کیں۔ سکندر کے مورخین میں ’ٹالمی، آریان، سواٹر، نیرچس‘ وغیرہ نے مجھ پر…
بُک ریویو: ’سندھو گھاٹی اور سمندر‘
’سندھو گھاٹی اور سمندر‘، ابوبکر شیخ کی تیسری کتاب ہے۔ مصنف کا تعلق زیریں سندھ کے ضلع بدین سے ہے اور وہ تقریباً 3 دہائیوں سے ماحولیاتی تحفظ اور ماہی گیروں کے حقوق کے حوالے سے متعدد بار قلم اٹھا چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ ابوبکر شیخ کی گزشتہ دو کتابوں، ’نگری…