قانون سازی نہیں، ریتی بجری کی چوری ہی رکوا دو!
ملیر کی زرعی تہذیب کی ”رگِ جاں“ اور ”شہہ رگ“ وہ مخزنِ عظیم ہے، جس کا نام ”ریتی بجری“ ہے۔ اس عظیم الشان زرعی تہذیب کے زوال کی اصل وجہ ملیر کی ندیوں سے وسیع پیمانے پر ریتی بجری کے اخراج اور چوری کا بھیانک عمل ہے، جو اربوں روپے کا کالا کاروبار ہے۔ فطری…
ملیر اور گڈاپ میں ریتی بجری کی چوری اور درختوں کی کٹائی: ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ
کراچی کے علاقے ملیر اور گڈاپ قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں۔ یہ علاقے اپنی خوبصورتی، زرخیز زمین اور قدرتی ماحول کے لیے جانے جاتے تھے، مگر بدقسمتی سے آج یہ قدرتی وسائل کی بے دریغ لوٹ مار اور درختوں کی اندھا دھند کٹائی کا شکار ہیں۔ ترقی کے نام پر یہ غیر…