Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Sand-and-Gravel-mining-in-Malir-and-khirthar-National-Park-A-serious-environmental-problem
کالماہم ترینتازہ ترینماحولیات

ملیر اور گڈاپ میں ریتی بجری کی چوری اور درختوں کی کٹائی: ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ

By Akhtar Rasool
فروری 5, 2025 3 Min Read
0

کراچی کے علاقے ملیر اور گڈاپ قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں۔ یہ علاقے اپنی خوبصورتی، زرخیز زمین اور قدرتی ماحول کے لیے جانے جاتے تھے، مگر بدقسمتی سے آج یہ قدرتی وسائل کی بے دریغ لوٹ مار اور درختوں کی اندھا دھند کٹائی کا شکار ہیں۔ ترقی کے نام پر یہ غیر قانونی سرگرمیاں ان علاقوں کے ماحولیاتی توازن کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔

جب سے علاقے میں میگا ہاؤس اسکیم بحریہ ٹاؤن کی بنیاد رکھی گئی ہے، اس دن سے اس پورے علاقے کی ریتی بجری کی چوری جنگلات کی کٹائی پہاڑوں کی کٹائی ندی نالوں کی کٹائی ہو رہی ہے اور یہ سلسلہ رکنے کا نام بھی نہیں لے رہا۔ سپر ہائی وے سے لے کر جام شورو کے حدود سے آگے بڑھتے ہوئی قبضہ گیر دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ ان سرگرمیوں میں مقامی لوگ بھی شامل ہیں، جو اپنے ذاتی فائدے کے لیے ماحول کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ریتی بجری، جو تعمیراتی کاموں میں بنیادی مواد کے طور پر استعمال ہوتی ہیں، ملیر اور گڈاپ کے علاقے سے غیر قانونی طور پر نکالی جا رہی ہیں۔ یہ سرگرمی نہ صرف زمین کی ساخت کو بگاڑ رہی ہے بلکہ دریاؤں اور ندیوں کے نظام کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ ریتی اور بجری کی چوری سے زمین کی تہہ کمزور ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے زمینی کھسکاؤ اور کٹاؤ جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف ان علاقوں کی زرخیزی کو ختم کر رہا ہے بلکہ آبی حیات کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔

درخت، جو زمین کے لیے قدرتی حفاظتی ڈھال ہیں، ترقیاتی منصوبوں، زرعی زمین کے حصول، اور ایندھن کے لیے کاٹے جا رہے ہیں۔ درخت آکسیجن پیدا کرتے ہیں، کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں اور ہوا کو صاف رکھتے ہیں۔ ان کی کٹائی سے نہ صرف فضائی آلودگی بڑھ رہی ہے بلکہ گلوبل وارمنگ کے اثرات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی سے جنگلی حیات کی پناہ گاہیں ختم ہو رہی ہیں اور کئی نایاب نسلیں معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ بحریہ ٹاؤن اور تھدو ندی کرکٹی ندی کے گردونواح میں جنگل کی کٹائی شروع کی گئی ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ 20 سے 25 لاکھ میں جنگل کا یہ حصہ بیچ دیا گیا ہے اور جس کی کٹائی ہو رہی ہے۔ سو سال پرانے درختوں کو چند پیسوں کے عوض کاٹ رہے ہیں، بقول شاعر:
”درخت تھے جنگلوں کا زیور، زمین کی شان،
کٹ گئے تو چھن گئی سبز زمین کی پہچان.“

یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا ماحولیاتی بحران کے حل کے لیے کوششیں کر رہی ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ مقامی لوگوں، جو ان علاقوں کے قدرتی محافظ ہونے چاہیے تھے، کی کچھ تعداد اس تباہی میں شریک ہے۔ یہ لوگ قلیل مدتی مالی فائدے کے لیے نہ صرف اپنے علاقے کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی ایک غیر محفوظ ماحول وراثت میں دے رہے ہیں۔

مقامی لوگوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقے کے قدرتی وسائل کا تحفظ کریں۔ انہیں چاہیے کہ وہ درختوں کو کاٹنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اور ریتی بجری کی چوری جیسے غیر قانونی کاموں میں ملوث نہ ہوں۔ اگر وہ خود ان سرگرمیوں میں شریک نہ ہوں اور ان کے خلاف آواز بلند کریں تو یہ ماحولیاتی تباہی رک سکتی ہے۔

آج تھدو ندی، کھار ندی، حب ندی، مول ندی اور ملیر ندی میں مختلف جگہوں سے ریتی بدری چوری کی جا رہی ہے، جبکہ ڈسٹرکٹ ملیر میں دفعہ 144 کے تحت ریتی بدری اٹھانے بے سخت پابندی کی قانون لاگو ہے، اس کے باوجود ریتی بجری کی چوری ہو رہی ہے۔

یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کر اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور اپنے ماحول کو بچانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ اگر ہم نے آج ان مسائل پر توجہ نہ دی تو ہماری زمین اور ہمارا ماحول ہمیشہ کے لیے تباہ ہو سکتا ہے۔ ملیر اور گڈاپ کے لوگوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ چند سکوں کے لیے اپنے مستقبل کو داؤ پر لگانا چاہتے ہیں یا ایک محفوظ اور خوبصورت ماحول کے لیے جدوجہد کرنا چاہتے ہیں۔ وقت کی پکار یہی ہے کہ ہم قدرتی وسائل کو بچانے اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک بہتر دنیا میں جی سکیں۔

Tags:

Air pollution riseBahria Town’s impactclimate change effectsClimate resilience ignoredCorrupt practices in real estateDamage to Malir’s greenbeltDamage to urban biodiversityDeforestation in Malir and GadapDepletion of Karachi’s riversDesertification in SindhDestruction of Karachi’s natural defenseDestruction of local floraDeteriorating air qualityDisplacement of local communitiesEcological imbalanceEncroachment on protected landsEndangered flora and faunaEnvironmental advocacy neededEnvironmental DestructionEnvironmental injusticeExploitation of natural heritageFlood risk increaseForced land acquisitionsForest encroachmentGlobal warming accelerationGovernment inactionGovernment negligenceGroundwater recharge lossHabitat fragmentationHeat island effectHeavy machinery damageHydrological cycle disruptionIgnoring ecological consequencesIllegal ConstructionIllegal loggingIllegal occupation of forest landIllegal sand and gravel miningImpact on Karachi’s coastlineImpact on Karachi’s rural economyImpact on local agricultureImpact on Pakistan’s ecological heritageImpact on rainwater absorptionImpact on river flowImpact on traditional livelihoodsImpact on underground aquifersIncreased carbon emissionsIndigenous displacementIndigenous rights violationIrreversible ecological damageKarachi’s environmental crisisLack of regulation enforcementLand degradationLand mafia activitiesLand mafia influence on policyLand subsidenceLocal involvement in deforestationLocal resistance against deforestationLoss of biodiversityLoss of greenery in KarachiLoss of Karachi’s natural identityLoss of native plant speciesMangrove destructionNatural disaster risksNatural resources exploitationNeed for environmental activismNeglect of ecosystem servicesOxygen depletionProtecting Karachi’s environmentPublic awareness neededPublic health hazardsRisk of desertificationRiver system disruptionSand extraction despite legal banssand mining mafiaSand theftShort-term financial gains vs. long-term damagesoil erosionSoil fertility lossSoil structure weakeningSuper Highway land grabbingSustainable development neglectSustainable solutions requiredThreat to Karachi’s water supplyThreat to rare speciesThreat to regional weather patternsThreats to historical ecosystemsUnchecked mining operationsUncontrolled urban expansionUnethical business practicesUnlawful excavationUnscrupulous buildersunsustainable developmentUnsustainable infrastructure projectsUnsustainable urban policiesUrban sprawl challengesViolation of environmental lawsViolation of section 144Water scarcity riskWater table depletionWeak law enforcementWildlife habitat loss
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Earth-has-six-continents-not-seven-A-new-study-reveals
Previous

زمین کے سات نہیں، چھ براعظم ہیں! ایک نئی تحقیق کا انکشاف

Urdu-fiction-by-Upendernath-Ashk-indian-fiction-writer
Next

ابال (منتخب اردو افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme