حسنِ خوابیدہ کے سنگ پرواز
وہ خوب صورت اور نازک تھی۔ ملائم گندمی رنگت، سبز بادامی آنکھیں اور کاندھوں کو چھوتے کالے بال۔ اس کے گرد قدامت کا ایسا ہالہ تھا جو انڈونیشی بھی ہو سکتا تھا اور اینڈیز کا بھی۔ اس کے لباس میں بھی نفاست اور نازکی تھی۔ جنگلی بلی کی سُمور والی جیکٹ، راسلک کا…
قربانی (منتخب افسانہ)
خواہشات بغیر دستک دیے آدمی کے دل میں گھر کر جاتی ہیں اور جب تک وہ غور کرتا ہے تو یہ خواہشات اندر تک سرائیت کر چکی ہوتی ہے۔ اس آدمی کے اندر بھی خواہشوں کا جال پھیل رہا تھا لیکن اس کی تنخواہ محض 35 ہزار روپے تھی۔ وہ جب اپنی یا اپنے اردگرد…
اندھیروں کے عادی۔۔ تین مختصر کہانیاں
اندھیروں کے عادی معلوم نہیں کتنی مدت وہ سوتا رہا، حتیٰ کہ وہ اکتا گیا۔ ”آخر یہ سورج کیوں نہیں نکل رہا؟ رات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی“ اس نے سوچا۔ ”اس ناختم ہونے والے اندھیرے کے بارے میں کس سے پوچھوں، مجھے پڑوسیوں سے پوچھنا چاہیے۔“ پھر وہ آدمی اپنے…
چندراوتی (منتخب افسانہ)
چندراوتی سے میری محبت کا جب آغاز ہوا، اُسے مرے ہوئے تیسرا یا چوتھا دن تھا۔ میری آنکھوں کے سامنے اسے ایک سفید کپڑے میں لپیٹ کر شعلوں میں رکھ دیا گیا تھا اور بہت دیر تک ہمیں چرمر، چرمر کی سی آواز آتی رہی تھی۔۔۔۔ پھر اس کی راکھ بھی گنگا کی لہروں میں…
ٹوبیاس مائنڈرنکل (جرمن ادب سے منتخب افسانہ)
گودی سے شہر کے وسط تک جاتی گلیوں میں سے ایک گلی گرے اسٹریٹ کہلاتی ہے۔ اگر آپ دریا کی طرف سے جائیں تو تقریباً درمیان میں دائیں طرف مکان نمبر سینتالیس ہے، ایک پتلی اور خاکستری عمارت، جو اپنی پڑوسی عمارتوں سے مختلف نہیں ہے۔ نچلی منزل پر ایک دکان ہے، جہاں سے…
لوہے کا بکسا اور بندوق (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
تنہائی میں ڈوبتے، ابھرتے مارکُش کا پُلِسیا لائن میں یہ تیسرا سال تھا۔ تین سال، جیسے تین پوری صدیاں، لوہے کے بکسے اور بندوق کے ساتھ۔۔ لوہے کے بکسے میں بند زندگی گھسٹتی جا رہی تھی۔ یہ گھسٹنا اتنی دور تک نہیں ہوتا، اگر مارکُش کے والد جنگل چھوڑ کر مزدوری کے…
شیلٹر ہوم میں عید منانے والی افسانہ نگار
عید کی آمد آمد تھی، لوگ اپنے اپنے طریقہ سے عید منانے کی تیاریوں میں مصروف تھے، فوٹو جرنلسٹ اور ٹی وی اینکر پرسن ربابہ میرزئی بھی اپنی عید کوریج کے سلسلہ میں شہر سے باہر ایک شیلٹر ہوم یا بوڑھے اور نادار لوگوں کی پناہ گاہ آئی ہوئی تھی۔ اس کا یہ پروگرام عید…
دو بیل (اُردو ادب سے منتخب افسانہ)
جانوروں میں گدھا سب سے بیوقوف سمجھا جاتا ہے۔ جب ہم کسی شخص کو پرلے درجہ کا احمق کہنا چاہتے ہیں تو اسے گدھا کہتے ہیں۔ گدھا واقعی بیوقوف ہے یا اس کی سادہ لوحی اور انتہا درجہ کی قوتِ برداشت نے اسے یہ خطاب دلوایا ہے۔ اس کا تصفیہ نہیں ہو سکتا۔ گائے شریف…