کیداری کی ماں (انڈین ادب سے منتخب کہانی
تمہید: حال ہی میں جب میں نے اخباروں میں ‘امامی اپالم’ (خالا کے پاپڑ) کا اشتہار دیکھا تو حیران سا رہ گیا کیونکہ مجھے بھاگیرتی امامی یاد آ گئی تھیں۔ جب مجھے ان کے دلارے بیٹے اور اپنے بہترین دوست کیداری کی بے وقت موت کا خیال آیا تو میرے بدن میں بے چینی کی…
بُن بَست (منتخب افسانہ)
اس بار وطن آنے کے بعد میں نے شہر میں دن دن بھر گھومنا شروع کیا، اس لیے کہ میرے پاس کچھ کرنے کو نہیں تھا۔ میری اماں سلائی کڑھائی کا کام کرکے جو تھوڑی بہت رقم پیدا کرتی تھیں، وہ ہم ماں بیٹوں کا پیٹ بھرنے کو کافی تھی، بلکہ میرے لیے تو ہمیشہ…
بادِ نو بہار (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
اس نے دیکھا کہ جن حویلیوں کے در دیمک کھا گئی، ان کی خستہ اینٹوں سے نئی کونپلیں جنم لے رہی تھی۔برسوں پہلے جہاں صور پھونک دیا گیا تھا، وہاں سے قلقاریوں کی صدائیں سنائی دے رہی تھیں۔ بے رنگ دریچوں پر لٹکے پھٹے ہوئے پردوں کے پیچھے سے جو اداس آنکھیں جھانکتی…
قرض کی پیتے تھے۔۔۔ (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
ایک جگہ محفل جمی تھی۔ مرزا غالب وہاں سے اکتا کر اُٹھے۔ باہر ہوا دار موجود تھا۔ اس میں بیٹھے اور اپنے گھر کا رخ کیا۔ ہوادار سے اتر کر جب دیوان خانے میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ متھرا داس مہاجن بیٹھا ہے۔ غالب نے اندر داخل ہوتے ہی کہا، ’’اخاہ متھرا…
پو پھٹنے تک (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
راملو کی چھوٹی سی کٹیا میں آٹھ زندگیاں سانس لیتی تھیں۔ اسی کٹیا میں انکیا کا بچپن جوانی سے جا ملا تھا۔ اسی کٹیا میں ملیا کی مسیں بھیگی تھیں۔ اسی کٹیا میں پوچی نے شرمانا سیکھا تھا۔۔ اور پھر اسی کٹیا میں انکیا کی بیوی نے دو بچے بھی جنے تھے۔۔۔ اور اب یہی…
مجھ سے باتیں کرو! (افسانہ)
اس واہیات گاؤں میں ویسے ہی گنتی کے چند بلب تھے، جو کوتاہ قد دیواروں سے ذرا اوپر ٹِکے، سہمے سہمے انداز میں یوں جھانکتے تھے، جیسے شریف زادیاں گلی سے گذرتے کسی وجیہہ اجنبی نوجوان کو سب سے نظریں بچا کر پردوں کی اوٹ سے جھانکتی ہیں۔۔ ایسے میں جونہی لائٹ گئی،…
ریشمی جُرابوں کا ایک جوڑا
ننھی مسز سمرس کو ایک روز غیر متوقع طور پر پندرہ ڈالر کے مالکانہ حقوق حاصل ہو گئے۔ اس کے نزدیک یہ بہت بڑی رقم تھی۔ اس کا پھٹا پرانا بٹوہ جس طرح ان پیسوں سے ٹھنسا ہوا تھا، اس نے مسز سمرس کو عجیب سی تسکین دی۔ ایسا لطف، جس سے وہ سالہا سال…