اتنی مداراتوں کے بعد
بچپن سے سنتے آئے ہیں سفر وسیلہ ظفر لیکن کچھ سفر ایسے بھی ہوتے ہیں، جن میں دل گھائل ہوتا ہے اور تل تل ڈوبتا ہے. منزل جیسے جیسے قریب آتی جاتی روح بدن کا ساتھ چھوڑتی محسوس ہوتی ہے. میں یعنی شہباز علی پاکستان کی قومی پرواز سے دبئی پہنچا ہوں اور چار گھنٹوں…
اورنگزیب عالمگیر، جنہوں نے اپنے بیٹے کو ہندی سکھانے کے لیے ڈکشنری بنوائی۔
اورنگزیب عالمگیر کو ہندوؤں سے نفرت کرنے والے ایک سخت گیر اسلامی حکمران کے طور پر پیش کیا جاتا ہے مگر وہ تاریخ کا ایک ایسا پیچیدہ کردار ہیں، جن کی کہانی میں موجود کئی چیزیں لوگوں کو حیران کر سکتی ہیں اورنگزیب کے بھائی دارا شکوہ ایک اعتدال پسند شہزادے تھے،…
خالی ڈھول (افسانہ)
ایمیلیان ایک مزدور تھا، جو اپنے مالک کے لئے کام کرتا تھا۔ ایک دن چراگاہ سے گزرتے ہوئے وہ ایک مینڈک، جو اچانک پھدک کر اس کے سامنے آ گیا تھا، اپنے پاؤں تلے دینے ہی لگا تھا، لیکن اس نے اپنے آپ کو بچا لیا۔ تب اچانک اس نے اپنے پیچھے سے کسی کو…
موم کی مریم (افسانہ)
آج بھی اندھیرے میں لیٹا میں خیالی ہیولوں سے کھیل رہا تھا۔۔ اور جب بھی اندھیرا چھا جاتا ہے۔ تم نہ جانے کہاں سے نکل آتی ہو۔ جیسے تم نے تاریکی کی کوکھ سے ہی جنم لیا ہو۔ اور مجبوراً مجھے جلے ہوئے سگریٹ کی راکھ کی طرح تمہیں بھی زمین پر جھٹک دینا پڑتا…
آخری کوشش (افسانہ)
ٹکٹ بابو نے گیٹ پر گھسیٹے کو روک کر کہا، ’’ٹکٹ!‘‘ گھسیٹے نے گھگھیا کر بابو کی طرف دیکھا۔ انھوں نے ماں کی گالی دے کر اسے پھاٹک کے باہر دھکیل دیا۔ ایسے بھک منگوں کے ساتھ، جب وہ بلا ٹکٹ سفر کریں، اور کیا ہی کیا جا سکتا ہے؟ گھسیٹے نے اسٹیشن سے باہر…
مسیحائی (کہانی)
پرانے وقتوں کا قصہ ہے کہ کوئی ملک تھا، جس کے باشندوں کے روگ مشہور تھے۔ یوں ان کے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ تھا اور بڑے بڑے صناع اور قابل لوگ ان میں پیدا ہوتے تھے لیکن علاقے کی آب و ہوا امراض و علائق کے لیے غیرمعمولی طور پر اثرپذیر واقع ہوئی…
معصوم خوابوں کا قتل (افسانہ)
یہ ایک پراٸمری اسکول کی پانچویں جماعت کا کمرہ تھا۔ دوسرا پیریڈ اردو کا ہی تھا۔ پیریڈ لینے کی غرض سے منہ میں پان چباتا ہوا درمیانے قد کا ایک استاد چوتھی جماعت کے کمرے سے نکل کر پانچویں جماعت کی طرف جانے لگا۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے، بال بڑھنے کی وجہ سے…
’یہ گڑیا جاتے ہوئے دریا میں پھینک دینا۔۔ میری پوتی کو یہ بہت پسند تھی’
ہائے میرے تو بچے بہہ گئے۔۔۔ کہانی نمبر ایک: مدد کب آئے گی؟ وہ پانچ تھے، جو ایک بڑے پتھر کے اوپر موجود تھے اور انہیں چاروں جانب سے پانی نے گھیر لیا تھا ’بچاؤ، بچاؤ۔۔۔ خدا کے لیے ہمیں بچاؤ‘، وہ چلّا چلّا کر کنارے پر موجود لوگوں کو آواز دینے لگے، تاہم پانی…