ستمگر ستمبر (افسانہ)
اس سال سردی جلدی آ گئی ہے مگر ابھی ٹھنڈی ہوا جسم کو اتنی ناگوار نہیں ہے بس ایک جیکٹ سے کام چل جاتا ہے. میں نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے پسنجر سیٹ کے پائیدان سے کافی کا تھرماس اٹھایا ساتھ ہی پلاسٹک کے مربع ڈبے میں سلیقے سے رکھی گئی سینوچ نے بھی…
بانکا زمیندار (افسانہ)
ٹھاکر پردمن سنگھ ایک ممتاز وکیل تھے اور اپنے حوصلہ ہمت کے لئے سارے شہر میں مشہور۔۔ ان کے اکثر احباب کہا کرتے کہ اجلاس عدالت میں ان کے یہ مردانہ کمالات زیادہ نمایاں طور پر ظاہر ہوا کرتے ہیں۔ اسی کی برکت تھی کہ باوجود اس کے کہ انہیں شاذ ہی کسی معاملہ میں…
گُم شُدہ شہر کی کہانی (افسانہ)
آدھی رات کو اس نے اپنے گھر کے دروازے پر دستک دی تو اسے یوں محسوس ہوا، جیسے وہ ساری عمر دستک دیتا رہے گا اور یہ دروازہ کبھی نہیں کھلے گا وہ جوان ہوگیا تھا لیکن اس کا دل پانچ سال کے بچے جیسا تھا، اس نے بہت چاہا کہ وہ بڑا ہوجائے لیکن…
خوامخواہ کے سوالات (افسانہ)
دوپہر سے بادل گِھر آئے تھے۔ کالے نیلے بادل جانے کہاں کہاں سے جمع ہوگئے تھے۔ ہوا تیز چلنے لگی۔ آنگن میں سیم کی پھلی کا درخت ہلنے لگا۔ دوچار پھلیاں یکے بعد دیگرے ٹوٹ کر پیڑے سے نیچے گر پڑیں گھاس، سوکھے ڈنٹھل اور پتے ہوا کی انگلی پکڑ کر چکراتے ہوئے اوپر…
چچا منٹو کے نام ایک بھتیجے کا خط
۱۱ مئی ۱۹۵۲ء چچا منٹو صاحب السلام علیکم۔ یہ خط اس بھتیجے کی طرف سے ہے، جسے آپ نہیں جانتے اور نہ جسے آپ نے جاننے کی کبھی کوشش کی۔ جسے پاکستان میں شاید کوئی بھی نہیں جانتا اور وہ اپنے کام سے بچے ہوئے اس تھوڑے سے وقت میں آپ جیسے بلند پایہ ادیب…
ندی (افسانہ)
ندی بہت بڑی تھی۔ کسی زمانے میں اس کا پاٹ کافی چوڑا رہا ہوگا۔ مگر اب تو بے چاری سوکھ ساکھ کر اپنے آپ میں سمٹ کر رہ گئی تھی۔ ایک زمانہ تھا، جب اس کے دونوں کناروں پر تاڑ اور ناریل کے آسمان گیر درخت اُگے ہوئے تھے، جن کے گھنے سائے ندی کے…
کپاس کا پھول (افسانہ)
مائی تاجو ہر رات کو ایک گھنٹے تو ضرور سو لیتی تھی لیکن اس رات غصے نے اسے اتنا سا بھی سونے کی مہلت نہ دی۔ پو پھٹے جب وہ کھاٹ پر سے اتر کر پانی پینے کے لیے گھڑے کی طرف جانے لگی تو دوسرے ہی قدم پر اسے چکر آ گیا تھا اور…
میلہ گھومنی (افسانہ)
کانوں کی سنی نہیں کہتا، آنکھوں کی دیکھی کہتا ہوں۔ کسی بدیسی واقعے کا بیان نہیں، اپنے ہی دیس کی داستان ہے۔ گاؤں گھر کی بات ہے۔ جھوٹ سچ کا الزام جس کے سر پر چاہے رکھیے۔ مجھے کہانی کہنا ہے اور آپ کو سننا۔۔ دو بھائی تھے چنو اور منو نام۔ کہلاتے تھے پٹھان۔…