کھنڈر سے برآمد ہوئی اک کہانی (افسانہ)
کہتے ہیں کہ ایک وادی تھی، جو دو گاؤں کے بیچوں بیچ پھیلی ہوئی تھی۔ یہ گاؤں اپنی زمین کی زرخیزی، اپنی قدیم روایات اور ایک دوسرے سے نفرت کے لیے مشہور تھے۔ پہلا گاؤں ’کھیت گاؤں‘ اور دوسرا ’جبل گاؤں‘ کہلاتا تھا۔ دونوں کے درمیان ایک سرسبز میدان تھا، جو کبھی ان…
کوئی نہ سر اٹھا کے چلے۔۔ (افسانہ)
شہر کا آسمان سرمئی تھا، جیسے حقیقت اور فریب کے درمیان کشمکش جاری ہو۔ لوگ سڑکوں پر چلتے، اپنی دنیا میں مگن تھے، لیکن ان کی نظروں میں ایک عجیب سا خالی پن تھا۔ اس شہر کا ہر کونہ محرومی کی ایک داستان سنا رہا تھا، لیکن وہ داستانیں کہیں دفن تھیں، حکومت کے…
کٹھ پتلی (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
مرد کمرے میں داخل ہوا اور دروازے کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا: ”تم ابھی تک تیار نہیں ہوئیں؟“ عورت نے پہلے اپنے بال سر کے اوپر جمع کیے، پھر انہیں اپنے شانوں پر گرا دیا اور آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے لگی۔ اس نے پاؤڈر کا ڈبہ اٹھایا اور اپنا مخصوص پاؤڈر چہرے…
جوتے (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
مرکن نامی ایک پیانو کے سر ملانے والا، تازہ منڈے ہوئے زرد چہرے، ناک پر نسوار کا داغ اور کانوں میں روئی ٹھونسے، ہوٹل کے کمرے سے نکل کر راہداری میں آیا اور کپکپاتی آواز میں چلایا: ”خادم! سیمیون۔۔۔!“ اس کے خوف زدہ چہرے کو دیکھ کر شاید آپ سمجھتے کہ اس پر چھت…
دستک (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
آسمان پر سویرے ہی سے گہرے بادل چھائے ہوئے تھے، ہوائیں تھمی ہوئی تھیں اور یہ قدرے سرد اور بے رونق دن انہی کہریلے دنوں میں سے ایک تھا جب بہت دیر سے بہت نیچائی پر معلق بادلوں کو دیکھ کے خیال ہوتا ہے کہ بارش بس اب ہونے ہی کو ہے، پر ہوتی نہیں۔…
ایک چپ سو دکھ (منتخب افسانہ)
ایک وقت آتا ہے جب کچھ بھی ٹھیک ٹھیک یاد نہیں رہتا، اگرچہ کچھ نہ کچھ ہمیشہ یاد رہتا ہے اور وہ وقت مجھے ہمیشہ یاد رہا، جب اس نے مجھ سے کلام کیا تھا۔ یہ ایک تپتے دن کی تپش بھری شام تھی اور میں اس قہوہ خانے میں تھا، جہاں لفظ ساز اکٹھے…
فریبِ نظر (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
آدمی مچھلیوں کی طرف متوجہ تھا۔ مچھلیاں شیشے کے پیچھے ساکت اور معلق تھیں۔ شیشے کے عقب میں ان کے لیے پتھر کی سِلوں کے درمیان ایک تالاب بنایا گیا تھا جو کافی وسیع تھا۔ اس کی منڈیریں ایک دوسرے سے خاصے فاصلے پر واقع تھیں اور یہ فاصلہ نیم تاریکی میں کہیں آگے…
ماں پڑھتی ہے (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
کئی مہنوں بعد گاؤں آیا ہوں۔ماں یہاں اکیلی رہتی ہے۔ آج گھر کا دروازہ کھلا ہے، ورنہ تو ماں صبح سویرے دروازہ بند کر کے باہر کا کام نمٹانے چلی جاتی ہیں۔ صبح کا سارا وقت حویلی میں گزرتا ہے۔جانوروں کو چارا ڈالتے، گائے کا دودھ دھوہتے، گوبر پھینکتے۔ اِس سمے بھی…