Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Urdu-Stories-and-Fictions-Amar-Gul
ادباہم ترینتازہ ترین

کھنڈر سے برآمد ہوئی اک کہانی (افسانہ)

By Akhtar Rasool
جنوری 21, 2025 3 Min Read
0

کہتے ہیں کہ ایک وادی تھی، جو دو گاؤں کے بیچوں بیچ پھیلی ہوئی تھی۔ یہ گاؤں اپنی زمین کی زرخیزی، اپنی قدیم روایات اور ایک دوسرے سے نفرت کے لیے مشہور تھے۔ پہلا گاؤں ’کھیت گاؤں‘ اور دوسرا ’جبل گاؤں‘ کہلاتا تھا۔ دونوں کے درمیان ایک سرسبز میدان تھا، جو کبھی ان کی یکجہتی کی علامت ہوا کرتا تھا، مگر اب وہی میدان دونوں کے درمیان نفرت کا وسیع صحرا بن چکا تھا، جہاں ہر وقت کدورتوں کی ریت اڑتی رہتی۔

اکثر اس میدان کے قطعات پر دونوں طرف کے شریر گاؤں واسیوں کی جانب سے ملکیت کے دعوے سامنے آتے اور پھر لفظی گولہ باری شروع ہو جاتی جو کبھی کبھار سر پھٹول تک جا پہنچتی۔ بڑے بوڑھے بیچ بچاؤ کراتے اور اس کے بدلے ان پر بزدلی کے الزام کا بوجھ لاد دیا جاتا۔

جبل گاؤں والوں کا ماننا تھا کہ وہ زیادہ محنتی، بہادر اور خالص ہیں، جبکہ کھیت گاؤں کے لوگ خود کو زیادہ ذہین اور برتر سمجھتے تھے۔ دونوں ہی گاؤں کے لوگوں میں ایک قدر مشترک تھی کہ وہ اپنے اجداد کے شجرے کو ربڑ کی طرح یوں کھینچتے کہ وہ توبہ توبہ کر اٹھتا۔۔ علاوہ ازیں وہ اپنے ماضی کے عشق اور آباؤ اجداد کی شان و شوکت کے نشے میں مخمور رہتے، یہ ایک ایسا نشہ تھا، جس نے ان کا وہ حال کر دیا تھا کہ وہ اپنے حال اور مستقبل کو بھی مخمور نظروں سے دیکھتے۔

دونوں گاؤں کے درمیان چھوٹے چھوٹے جھگڑے ہمیشہ ہوتے رہتے تھے: کبھی پانی کی تقسیم پر، کبھی کھیتوں کی حد بندی پر، اور کبھی محض اس پر کہ کس کے گاؤں کی فصل زیادہ سرسبز ہے۔ ’یہ میرا، وہ میرا‘ بھی لگا رہتا۔۔۔

یہ دونوں گاؤں ایک مشترکہ دشمن کے نشانے پر تھے۔ وہ دشمن تھا ’پتھر نگر‘ کے طاقتور لوگ، جو شہروں سے نکل آتے اور دونوں گاؤں کی زمینوں پر قبضہ کرتے جا رہے تھے۔ وہ کھیتوں میں آگ لگا دیتے، پانی کے چشمے بند کر دیتے، وہ ان کے بچوں کو اغوا اور قتل کرتے اور ہر طرف خوف و ہراس پھیلا دیتے۔

مگر کھیت گاؤں اور جبل گاؤں کے باسی اپنی زمین کے دشمن کو پہچاننے کے بجائے ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہراتے۔ ”یہ کھیت گاؤں والے ہی ہیں جن کی کمزوری کی وجہ سے دشمن ہم پر غالب آ رہا ہے!“

”یہ جبل گاؤں والے خود دشمن سے ملے ہوئے ہیں اور ہمیں بزدلی اور غداری کا طعنہ دیتے ہیں!“

ایک رات، جب پتھر نگر کے لوگ کھیت گاؤں کی زمینوں پر قبضہ کر رہے تھے، جبل گاؤں کے لوگ انہیں بزدل کہہ کر خوش تھے کہ ان کا گاؤں محفوظ ہے۔ ”دیکھا، یہ ان کے غرور کی سزا ہے!“ جبل گاؤں کے ایک شخص نے کہا۔

مگر جلد ہی وہی دشمن، جبل گاؤں پر چڑھ دوڑا اور اس کے کئی نوجوانوں کو اٹھا کر لے گیا۔

”یہ سب کھیت گاؤں والوں کی چال ہے!“ جبل گاؤں کے نوجوانوں نے غصے میں آ کر کھیت گاؤں پر حملہ کر دیا۔

دونوں گاؤں کے درمیان ایک چرواہا رہتا تھا، جو اپنی بکریوں اور بھیڑوں کے ساتھ اس میدان میں گھومتا رہتا تھا۔ وہ اکثر گاؤں والوں کو سمجھاتا، ”دشمن تم دونوں کا مشترکہ ہے، تمہیں ایک ہو جانا چاہیے!“

مگر دونوں گاؤں کے لوگ اسے دیوانہ سمجھتے، ”یہ چرواہا کس کے لیے کام کرتا ہے؟ کھیت گاؤں یا جبل گاؤں؟“ وہ سوال کرتے۔

وہ دونوں اسے مخالف گاؤں کا ایجنٹ گردانتے۔

چرواہا من ہی من سوچتا کہ یہ لوگ تو اس کی بکریوں اور بھیڑوں کی طرح ہیں۔ وہ بکریوں کی طرح ’میں میں‘ کرتے ہیں اور بھیڑوں کی طرح بھیڑ چال چلتے ہیں۔۔

ایک دن پتھر نگر کے لوگ کھیت گاؤں اور جبل گاؤں دونوں پر بیک وقت حملہ آور ہوئے۔ وہ زمینیں جن پر کبھی فصلیں اگتی تھیں، اب راکھ ہو چکی تھیں۔ میدان جو کبھی سبز تھا، اب سنسان اور بنجر ہو گیا۔

چرواہا، جو ان دونوں گاؤں کی تباہی دیکھ رہا تھا، اپنی بکریوں کے ساتھ میدانوں اور پہاڑوں کی طرف چلا گیا۔

”یہ گاؤں کے باسی اندھے تھے۔ انہیں اپنی دشمنی کے آگے کچھ دکھائی نہیں دیا۔ اب ان کے پاس کچھ باقی نہیں رہا، نہ زمین، نہ عزت، نہ زندگی۔” وہ زیرِ لب بڑبڑایا۔ اس کے الفاظ کرب کے آنسوؤں سے بھیگے ہوئے تھے۔۔

کہتے ہیں کہ اس کے یہ آنسو سیاہی بن گئے اور اس نے اسی سیاہی سے یہ کہانی لکھی، جو ایک کھنڈر سے برآمد ہوئی۔

Tags:

fairy tales stories in urdukoo koo tv urdu storiesmagical stories in urdumoral storiesmoral stories in urdunew stories in urdushort stories in urdushort urdu storiesStoriesstories for kids in urdustories in urdustories in urdu newstories urduurdu fairy tales new stories 2018urdu fairy tales new stories 2020urdu fairy tales storiesurdu moral storiesurdu romantic short storiesUrdu Short StoriesUrdu Storiesurdu stories for kids
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
The-Secret-of-the-Indus-Script-Dravidian-Not-Sanskrit-or-Language.
Previous

انڈس اسکرپٹ کا راز: دراوڑی، سنسکرت یا زبان ہی نہیں؟

The-extraordinary-story-of-the-value-of-a-modest-note-of-five-hundred-reaching-three-crore-rupees
Next

پانچ سو کے ایک معمولی نوٹ کی قیمت پونے تین کروڑ روپے تک پہنچنے کی غیر معمولی داستان!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme