اِک جرنیل لائبریری میں (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
پینڈوریا کی مشہور قوم میں ایک روز، اعلیٰ حکام کے ذہنوں میں اس شک نے جنم لیا کہ کتابوں میں ایسے خیالات پائے جاتے ہیں، جو عسکری عزت و وقار کے منافی ہوتے ہیں۔۔ اصل میں ہوا یہ تھا کہ تفتیش اور قائم کیے گئے مقدمات نے اس رجحان کی نشان دہی کی تھی اور…
دریچے سے دور (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
کبھی وہ زمانہ تھا کہ کہانی شفیق ماں کی طرح اسے لوریاں دیتی تھی۔ اس وقت وہ ورکشاپ میں کام کرتا تھا۔ دن بھر ہتھوڑوں کی آوازوں میں کرچ کرچ ہو کر جب شام کو گھر لوٹتا تو کہانی دبے پاؤں اس کے پیچھے آتی اور کسی سنسان سڑک پر اس کا ہاتھ تھام کر…
یہ وقت محبت کا نہیں (جدید یونانی ادب سے منتخب افسانہ)
محبت کی اس کہانی نے تب کھِلنا چاہا، جب قرضے کا بحران ہر طرف چھایا ہوا تھا۔ یہ ایک مشکل وقت تھا۔ تناﺅ والے اِس دور میں لٹیرے سرمایہ داروں کے محنت کشوں پر حملے جاری تھے اور یہ ایک ایسا زمانہ تھا کہ سرمایہ فراہم کرنے والے عالمی سرمایہ داروں نے بھی کُھل کر…
تلہ گنگ میں کرن جوہر کی ’آبائی حویلی‘ کس حال میں ہے؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ بھارتی فلم انڈسٹری کے ماضی کے نامور اسٹار اندرسین جوہر، جنہیں دنیا آئی ایس جوہر کے نام سے جانتی ہے، کا تعلق اسلام آباد سے 136 کلو میٹر دور اور حال ہی میں ضلع بننے والے شہر تلہ گنگ سے تھا آئی ایس جوہر وہ پہلے ہندوستانی فلم اسٹار تھے،…
سوانگ (چیک ادب سے منتخب افسانہ)
1 کار کے پٹرول گیج کی سوئی نے اچانک ٹینک کے خالی ہونے کا اشارہ دیا اور اسپورٹس کار کے نوجوان ڈرائیور نے اعلان کیا کہ یہ کار پاگل کر دینے کی حد تک زیادہ پٹرول کھاتی ہے۔ ’’دیکھنا کہیں پٹرول ختم نہ ہو جائے،‘‘ لڑکی نے، جو تقریباً بائیس برس کی تھی، احتجاج کیا…
فرے منریک: ایک پرتگیز پادری کی سفرِ سندھ کی کتھا (دوسرا حصہ)
یہ 21 اگست 1641ء بدھ کے دن کے ابتدائی پہر ہیں۔ بارش کا موسم اس برس تھوڑی بارشوں کے ساتھ آیا اور اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ رات کے وجود میں ہلکی سی نمی اور ٹھنڈک ہے۔ شاہی قلعے کے شمال میں راوی کنارے بندرگاہ پر چہل پہل ہے۔ بہت سارے جہاز جانے کی…
آخری فرار
کروڑ پتی مجرم کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔۔ اور اس سزا پر عمل درآمد کے لیے اسے شہر سے دور دراز ایک گمنام جزیرے کی جیل میں قید کر دیا گیا تاکہ وہ اپنی دولت یا اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے فیصلے پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ کروڑ پتی مجرم…
اگرتم ایک گھوڑے ہوتے۔۔۔ (افسانہ)
”اگر تم ایک گھوڑے ہوتے تو میں گولی مار کر۔۔ تمکارا۔۔ بھیجا۔۔۔ اڑا دیتا۔۔۔“ ایک گھوڑا ہی کیوں؟ کوئی اور جانور کیوں نہیں۔۔کتا، بلی، چوہا یا کوئی بھی دوسرا جانور ہوتا تو گولی اس کی کھوپڑی سے بھی گزر سکتی تھی۔ ہوش سنبھالتے ہی جو پہلی آواز اس کی سماعتوں سے…