شیخ ایاز کا سندھ اور شیخ سحر کا بلتستان
شیر دریا سندھ (سنگے کھابب) بلتستان سے خیبرپختونخوا، پنجاب سے ہوتا ہوا سندھ دھرتی میں بحیرہ عرب میں جا گرتا ہے۔ اس دریا کے کنارے کنارے کئی تہذیبوں نے جنم لیا ہے، یوں بالائی سندھ میں گلگت بلتستان اور انڈس ویلی تہذیب کا آخری کنارہ سندھ ہے، اس طرح ہم اور آپ…
’چاندنی تمہارے بن نہیں ہو گی‘، لفظوں سے تصویریں بنانے والے شاعر شیخ ایاز
ایک مصور اپنے جذبات و احساسات کی قوسِ قزح کے رنگوں سے کینوس پر شاعری کرتا ہے اور اس کے یہ رنگ باتیں کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ انقلاب کے گیت، رومان کے نغمے اور ہجر کی طویل راتوں کے قصے، وصل کے دلآویز لمحے۔ اس کے کینوس کی زینت بڑھاتے ہیں۔ دوسری جانب شاعر…
یادگارِ غالب: دلی میں مرزا کا آخری گھر
پچھلے دنوں جب میں دلی (یا دہلی) میں تھا تو میں نے ایک عجیب سی بات محسوس کی۔ وہ یہ کہ میں جب جب گلی قاسم جان (جو کہ بَلّی ماراں سے نکلتی ہے) میں ایک حویلی کے سامنے سے گزرتا تھا تو منہ پر یہ شعر خود بخود، باترنم آجایا کرتا: ہیں اور بھی…
امر گل کی تین نثری نظمیں
جمہوری نظام کی بکری اور ہم ۔۔۔ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﻣﯿﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﮔﻨﺠﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﻭﻋﺪﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﻮﮐﮭﻠﮯ ﻧﻌﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺍﻭﻟﮯ ﺑﺮﺳﻨﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﺑﮯ ﻣﮩﺮ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺩﯾﺲ ﮐﮯ ﺟﻤﮩﻮﺭﯼ ﻧﻈﺎﻡ ﮐﯽ ﺑﮑﺮﯼ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭼﻨﺪ ﻣﯿﻨﮕﻨﯿﺎﮞ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮈﮬﺎﭨﺎ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﭼﺮﻭﺍﮨﺎ…
ناصر کاظمی اور احمد مشتاق کی دوستی: تو نے ہی سکھائی تھی مجھ کو یہ غزل خوانی
ناصر کاظمی اور احمد مشتاق کا نام یاری دوستی کے سلسلے میں ہی ایک ساتھ نہیں آتا، شاعری کے تذکرے میں بھی دونوں کا حوالہ اکٹھے آتا ہے۔ ایک کے دوسرے سے متاثر ہونے کا ایک بلیغ حوالہ علامہ اقبال کا وہ مصرع بھی ہے جو احمد مشتاق نے اپنی پہلی کتاب ’مجموعہ‘، ناصر…
غالب کی انانیت
یہ تو سبھی کہتے ہیں کہ غالب کے مزاج میں انانیت تھی۔ لیکن کسی شاعر کو اس کے مزاج کی بنا پر پسند یا ناپسند کرنا بالکل ایسا ہی ہے، جیسے آپ اسے لمبا یا ٹھگنا ہونے کی بنا پر مطعون کریں یا سراہیں.. شاعری میں اصل مسئلہ مزاج نہیں ہوتا کیونکہ مزاج تو حالات…
ایک ’’سچ مچ‘‘ کا شاعر!
سچے شعراء کے بارے میں میری یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ وہ اندر سے صوفی ہوتے ہیں، وہ اپنے محبوب کے خیال میں مگن رہتے ہیں۔ انہیں ستائش کی تمنا ہوتی ہے، نہ صلے کی پروا… وہ ہمیں خوبصورت خیال ’’دان‘‘ کرتے ہیں، ان کی دنیا ایک خوبصورت دنیا ہوتی ہے جس میں وہ…