Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

ادباہم ترینتازہ ترین

امر گل کی تین نثری نظمیں

By Akhtar Rasool
جولائی 17, 2022 3 Min Read
0

جمہوری نظام کی بکری اور ہم ۔۔۔


ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ
ﺟﺐ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﻣﯿﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﮔﻨﺠﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ
ﺟﮭﻮﭨﮯ ﻭﻋﺪﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﻮﮐﮭﻠﮯ ﻧﻌﺮﻭﮞ ﮐﮯ
ﺍﻭﻟﮯ ﺑﺮﺳﻨﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺍﺱ ﺑﮯ ﻣﮩﺮ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ
ﺍﺱ ﺩﯾﺲ ﮐﮯ ﺟﻤﮩﻮﺭﯼ ﻧﻈﺎﻡ ﮐﯽ ﺑﮑﺮﯼ
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ
ﭼﻨﺪ ﻣﯿﻨﮕﻨﯿﺎﮞ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﮈﮬﺎﭨﺎ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﭼﺮﻭﺍﮨﺎ
ﺍﭘﻨﯽ ﻻﭨﮭﯽ ﮔﮭﻤﺎ ﮐﺮ
ﮨﻤﯿﮟ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﺎ ﻟﻮ!
ﮨﻢ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﻨﮕﻨﯽ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﺎ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻨﮧ ﮐﺎ ﺫﺍﺋﻘﮧ
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮭﺪّﺍ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﺑﮑﺎﺋﯿﺎﮞ ﻟﯿﺘﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﺎﻝ
ﭼﺮﻭﺍﮨﺎ، ﺑﮑﺮﯼ ﮐﺎ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯿﺘﺎ
ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﮟ ﮨﺎﻧﮑﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔۔۔


میں نہ جانے کیوں لکھتا ہوں ۔۔۔

کبھی کبھی لکھتے وقت مجھے،
اندھوں کے شہر میں
آئینہ لے کر پھرنے کا سا احساس ہوتا ہے،
لیکن کیا کیجیے
کہ آنکھوں کا ہسپتال کھولنے کا جادو
جس الہ دین کے پاس ہے
وہ میری جیب کے چراغ میں نہیں رہتا…
اب اکثر ایسا ہوتا ہے
کہ میں لکھنے کے لیے
جب بھی نوٹ بک پر قلم چلاتا ہوں
تو مجھے، میرا قلم
شیخ چلّی کی طرح لگتا ہے،
جو خوابوں کے انڈوں کا ٹوکرا سر پر لادے
خیالوں ہی خیالوں میں
ایک دنیا بسا لیتا ہے
لیکن ایک ہی ٹھوکر سے
وہ دھڑام سے کاغذ کی زمین پر گر جاتا ہے
اور خوابوں کے سارے انڈے ٹوٹ کر
زمین پر بکھر جاتے ہیں..
اب اکثر لکھتے وقت مجھے
میرا قلم، علی بابا کی طرح لگتا ہے
جو دنیا کے بکھیڑوں کے
چالیس چوروں سے بچ بچا کر
غارِ سخن کے سامنے
ہونکوں کی طرح کھڑا ہے،
لیکن دروازہ کھولنے کا اسم
اس سے یکسر بھول چکا ہے!
پھر مجبور ہو کر میں
اُس پُل کے نیچے کھڑا ہو جاتا ہوں
جس پر ٹرین کی پٹڑی بچھی ہوئی ہے،
جب ٹرین گزرتی ہے
تو وہ ٹرین مجھے
میرے دل پر سے گزتی ہوئی محسوس ہوتی ہے
اور میرے دل کی پٹڑی میں پیوست تختوں میں
ایک دھڑ دھڑ کی سی حرکت
دھڑکن کی طرح سرایت کر جاتی ہے،
میں اس حرکت کو
اپنے قلم میں منتقل کر دیتا ہوں۔۔۔
الفاظ کی سیٹیاں بجتی ہیں
اور ایک نظم
میرے ذہن کے اسٹیشن پر آ کر رک جاتی ہے،
اس پر سوار ہونے کا کوئی بھی ٹکٹ نہیں لگتا
لیکن باجود اس کے
کوئی بھی مسافر اس پر سوار نہیں ہوتا!


خاموشی کے حبس میں ۔۔۔

ﺑﮩﺮﯼ ﺳﻤﺎﻋﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮯ ﻭﻓﺎﺋﯽ ﺳﮯ
ﺩﻝ ﺑﺮﺩﺍﺷﺘﮧ ﮨﻮ ﮐﺮ
صدائے احتجاج نے
ﺧﻮﺩﮐﺸﯽ ﮐﺮ ﻟﯽ۔۔۔
ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺒﻮﮞ ﭘﺮ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻌﺰﯾﺖ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ
ﺍﺩﺍﺱ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﮯ اس ﺣﺒﺲ ﻣﯿﮟ
ﺩﻡ ﮔُﮭﭩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﮯ…
ﭼﻠﻮ ﺁﺅ
ﮐﮧ ﺍﺏ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﺑﺎﻧﯿﮟ
ﺩﺭﺩ ﮐﮯ ﻧﻮﺣﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﺍﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ…

Tags:

Urdu Poetryاردو شاعریامر گل
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کیا 2060ع تک کراچی ڈوب جائے گا؟

Next

ہالا ناکہ: گرڈ اسٹیشن میں آتشزدگی، سندھ کے کئی علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme