زمیں زادے (افسانہ)
رات کی سیاہی اپنی چادر پھیلا چکی تھی اور چہار سو مہیب خاموشی کا راج تھا۔ ریڈ انڈین قبیلے کا ایک بوڑھا شخص ایلان، قدیم جنگل کے کنارے اداس بیٹھا تھا، جہاں کبھی اس کا قبیلہ آزاد گھومتا تھا۔ یہ جنگل اب جدید دنیا کے تیز رفتار قدموں کے نیچے دب چکا تھا۔ یہاں کی…
خوابوں کی لڑکی۔۔ (جاپانی ادب سے منتخب افسانہ)
اپریل کی ایک خوب صورت صبح ٹوکیو کے سب سے فیشن ایبل علاقے ہاروجوکو سے گزرتے ہوئے میں نے وہ لڑکی دیکھی جو سو فی صد میرے خوابوں کے جیسی تھی۔ سچ کہوں تو وہ اتنی حسین دکھنے والی نہیں ہے۔ وہ کسی بھی طرح دوسروں سے الگ نہیں دکھتی۔ اس کے کپڑے بھی کچھ…
ریو (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
بیرونِ ملک سات برس گزارنے کے بعد میں موسمِ گرما میں ریو ڈی جنیرو پہنچی۔ سات طویل برسوں بعد فلیٹ کا دروازہ کھولا تو اندر ہر چیز پر پھپھوندی جمی تھی۔ اگر یہ پھپھوندی نہ ہوتی تو مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ میں یہاں سے کہیں گئی ہی نہیں۔ بند گھر کی بُو ناقابلِ…
ٹوبیاس مائنڈرنکل (جرمن ادب سے منتخب افسانہ)
گودی سے شہر کے وسط تک جاتی گلیوں میں سے ایک گلی گرے اسٹریٹ کہلاتی ہے۔ اگر آپ دریا کی طرف سے جائیں تو تقریباً درمیان میں دائیں طرف مکان نمبر سینتالیس ہے، ایک پتلی اور خاکستری عمارت، جو اپنی پڑوسی عمارتوں سے مختلف نہیں ہے۔ نچلی منزل پر ایک دکان ہے، جہاں سے…
لوہے کا بکسا اور بندوق (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
تنہائی میں ڈوبتے، ابھرتے مارکُش کا پُلِسیا لائن میں یہ تیسرا سال تھا۔ تین سال، جیسے تین پوری صدیاں، لوہے کے بکسے اور بندوق کے ساتھ۔۔ لوہے کے بکسے میں بند زندگی گھسٹتی جا رہی تھی۔ یہ گھسٹنا اتنی دور تک نہیں ہوتا، اگر مارکُش کے والد جنگل چھوڑ کر مزدوری کے…
شیلٹر ہوم میں عید منانے والی افسانہ نگار
عید کی آمد آمد تھی، لوگ اپنے اپنے طریقہ سے عید منانے کی تیاریوں میں مصروف تھے، فوٹو جرنلسٹ اور ٹی وی اینکر پرسن ربابہ میرزئی بھی اپنی عید کوریج کے سلسلہ میں شہر سے باہر ایک شیلٹر ہوم یا بوڑھے اور نادار لوگوں کی پناہ گاہ آئی ہوئی تھی۔ اس کا یہ پروگرام عید…
امام دستہ (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
قصبے میں سوکھے میووں کے سب سے پرانے بیوپاری روشن آغا کی کوٹھی میں اس صبح خفگی کا ماحول تھا۔ آنگن میں چمپا کے جھرمٹ میں چھپی چڑیاں چپ تھیں۔ تیسری کلاس میں پڑھنے والا ان کا نواسا، مِیسَم روز کی طرح سلام کر کے ممی سے گال ملانے گیا تو انہوں نے جھڑک دیا۔…
بادِ نو بہار (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
اس نے دیکھا کہ جن حویلیوں کے در دیمک کھا گئی، ان کی خستہ اینٹوں سے نئی کونپلیں جنم لے رہی تھی۔برسوں پہلے جہاں صور پھونک دیا گیا تھا، وہاں سے قلقاریوں کی صدائیں سنائی دے رہی تھیں۔ بے رنگ دریچوں پر لٹکے پھٹے ہوئے پردوں کے پیچھے سے جو اداس آنکھیں جھانکتی…