اک آسماں تمہارا، اک آسمان میرا (سندھی ادب سے منتخب تجریدی افسانہ)
پمی! تم میری سوچوں میں بنائی گئی وہ پہلی تصویر ہو، جسے میں ابھی تک مکمل نہیں کر سکا۔ کیا انسان اپنی پہلی محبت کی تصویر مکمل کر سکتا ہے؟ میں نہیں جانتا۔۔۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میں اب بھی تمہاری تصویر مکمل کرنے میں مشغول ہوں۔ میں آج بھی تمہاری یہ…
حصارِ تنہائی (موزمبیق کے ادب سے منتخب افسانہ)
ڈونا برتا گارڈن میں ایک بنچ ہے، یا پھر یوں کہنا چاہیے کہ ایک ہی بنچ باقی رہ گیا ہے۔ بقیہ تمام کو وہاں سے اکھاڑ لیا گیا ہے۔ ان کے تختے جلانے کے لیے استعمال کیے جا چکے ہیں۔ اس آخری بنچ پر ایک بوڑھا رہتا ہے۔ ہر رات وہ بوڑھا اور بنچ اس…
ٹوٹی چھت کا مکان (افسانہ)
وہ گھر میں اکیلا اور بیزار بیٹھا تھا۔ کبھی کبھی تنہا رہنا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے۔ اکیلے بیٹھے بلاوجہ گھر کی ایک ایک چیز کو گھورتے رہنا۔۔ سوچنے کے لیے کوئی خیال یا موضوع بھی تو نہیں ہے کہ اسی کے بارے میں غور کیا جائے۔ عجیب و غریب خیالات و موضوعات ذہن میں…
یکجہتی (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
میں انہیں دیکھنے کے لیے رُک گیا۔ وہ رات کے وقت، سنسان گلی میں ایک دکان کے شٹر کے ساتھ کچھ کر رہے تھے۔ دکان کا شٹر تھوڑا بھاری تھا۔ اسے اٹھانے کے لیے انہوں نے ایک لوہے کا ڈنڈا نیچے لگایا ہوا تھا،لیکن شٹر اُٹھ ہی نہیں رہا تھا۔ میں ادھر ویسے ہی چہل…
بے خوشبو عکس (اردو ادب سے منتخب ایک شاہکار علامتی افسانہ)
داستان گو اس کہانی کو یوں سناتا ہے کہ جب میں شہر میں داخل ہوا تو کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، ہر طرف ایک شور اور ہنگامہ تھا۔ شہر کے کُل مرد، عورتیں، بوڑھے، جوان اور بچے ہاتھوں میں کچھ نہ کچھ پکڑے بجا رہے تھے۔ شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں…
کالی بھیڑ (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
ایک ملک ایسا تھا، جس کا ہر باسی چور تھا۔۔۔ اس کا ہر باسی، رات میں تالا شکن اوزار اور اندھے شیشے والی لالٹین لیے گھر سے نکلتا اور اپنے کسی ہمسائے کے گھر میں نقب لگاتا۔ وہ جب پَو پھٹتے سمے، لُوٹا ہوا مال لیے اپنے گھر لوٹتا تو اسے پتہ چلتا کہ اس…
خواب آئنے (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
میں، وہ اور دوسرے سب تصویر کی نا تکمیلی کا نوحہ ہیں۔ ایسا نوحہ کہ جس کا نہ کوئی عنوان ہے، نہ موضوع۔۔ پہلی سطر سے ماتم شروع ہوتا ہے اور آخری سطر، لیکن آخری سطر تو ابھی لکھی ہی نہیں گئی، اس آخری سطر کو لکھنے کے لیے میں، وہ اور دوسرے سب کبھی…
گوئیبلز! تم کیا جانو جھوٹ کسے کہتے ہیں؟
نوٹ: برطانوی اخبار گارجیئن اور بی بی سی بنیادی طور پر برطانیہ کے دانش ور طبقے کے ترجمان سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن زیرنظر تحریر میں ان ’مستند‘ سمجھے جانے والے اداروں کی جانب سے غیر محسوس انداز میں کیے گئے پروپیگنڈے کا ایک تصوراتی خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ دنیا میں…