کُوچ کا سمے (افسانہ)
نجانے مجھے یقین کیوں نہیں آ رہا تھا کہ یہ ہماری آخری ملاقات تھی ۔ وہ ابھی چند لمحے پہلے میرے کمرے سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوئی تھی ۔ اس کے جانے کے بعد کمرے میں صحراؤں سے کارواں گزر جانے کے بعد والا سکوت طاری ہوگیا تھا ۔ مجھے ایسے لگا جیسے میرے…
اتنی مداراتوں کے بعد
بچپن سے سنتے آئے ہیں سفر وسیلہ ظفر لیکن کچھ سفر ایسے بھی ہوتے ہیں، جن میں دل گھائل ہوتا ہے اور تل تل ڈوبتا ہے. منزل جیسے جیسے قریب آتی جاتی روح بدن کا ساتھ چھوڑتی محسوس ہوتی ہے. میں یعنی شہباز علی پاکستان کی قومی پرواز سے دبئی پہنچا ہوں اور چار گھنٹوں…
جواں مردی (افسانہ)
وہ میری بیوی جا رہی، مگر اس کے لبوں پر اس مسکراہٹ کا نام تک نہیں جیسا کہ لوگوں نے میری تسکین قلب کے لیے مجھ سے کہا تھا۔ بس ہڈیوں کا ایک ڈھانچا ہے۔ اس کی بھیانک صورت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک مہلک بیماری کا شکار ہے اور موت کا خوف…
آج کا مرنا (افسانہ)
وہ میری آج کی موت تھی۔ اس کو مرے ہوئے نہیں دیکھا میں نے، مرتے ہوئے دیکھا۔ اتنا ہی بتا سکتا ہوں، جس قدر میں نے دیکھا ہے۔ جو یوں بھی زیادہ نہیں ہے۔ اوڑھے لپیٹے کوئی لیٹا ہوا ہے۔ شاید وہ سو رہی ہے۔ میری نظر پڑی تو مجھے ایسا لگا۔ ورنہ میں تو…
بے دخلی (افسانہ)
کسی آواز سے میری آنکھ کھلی تو میں ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھا، وہ باہر برآمدے میں کھڑا تھا۔ یقیناً میری آنکھ اس کی موجودگی سے ہی کھلی تھی۔ پہلے تو میں اسے پہچان نہیں سکا۔ آنکھ کھلتے ہی ہر چیز ایک سی نظر آتی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ ذہن کے کسی گوشے میں شناسائی کے…
حضرت علی مجسٹریٹ اعزازی
دس سالہ بیدار بخت ایک ہاتھ میں اپنا پھٹا سر دوسرے ہاتھ میں سائیکل کا ہینڈل آنکھوں میں آنسو اور زبان پر موٹی موٹی گالیاں لئے پیڈل پر پیڈل مارتا مجسٹریٹ آفس کی طرف رواں دواں تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ آج صبح اس کی ماں بیگم گل اور چاچی زیتون میں بجلی کے بل…
شرط (افسانہ)
دکان سے باہر آتے ہی اس کا لچکیلا دروازہ ایک خاص ادا کے ساتھ خود بہ خود بندہوگیا، اس نے مسکرا کر بند دروازے کے شیشوں پر اپنا ہاتھ پھیرا اور سامنے بہتی ہوئی دنیا پر ایک نظر ڈالی۔ دنیا، زندگی سے بھرپور، خوبصورت اور رواں دواں تھی اور اس میں اس قدر حرارت تھی…