امام دستہ (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
قصبے میں سوکھے میووں کے سب سے پرانے بیوپاری روشن آغا کی کوٹھی میں اس صبح خفگی کا ماحول تھا۔ آنگن میں چمپا کے جھرمٹ میں چھپی چڑیاں چپ تھیں۔ تیسری کلاس میں پڑھنے والا ان کا نواسا، مِیسَم روز کی طرح سلام کر کے ممی سے گال ملانے گیا تو انہوں نے جھڑک دیا۔…
شکاری (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
مرطوب، حبس آلود دوپہر۔ آسمان پر بادل کی کترن تک نہیں۔۔۔ دھوپ میں پکی ہوئی گھاس تھکی ماندی، مایوس دکھائی دے رہی ہے، جیسے اگر بارش ہو بھی جائے تب بھی یہ کبھی سرسبز نہیں ہو سکے گی۔ جنگل خاموش، ساکت کھڑا ہے، جیسے درختوں کے اوپر سے کسی کی راہ تک رہا ہے، یا…
رضو باجی (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
سیتاپور میں تحصیل سدھولی اپنی جھیلوں اور شکاریوں کے لیے مشہور تھی۔ اب جھیلوں میں دھان بویا جاتا ہے۔ بندوقیں بیچ کر چکیّاں لگائی گئی ہیں، اور لائسنس پر ملے ہوئے کارتوس ’بلیک‘ کر کے شیروانیاں بنائی جاتی ہیں۔ یہاں چھوٹے چھوٹے قصبوں کا زنجیرا پھیلا ہوا تھا،…
بادِ نو بہار (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
اس نے دیکھا کہ جن حویلیوں کے در دیمک کھا گئی، ان کی خستہ اینٹوں سے نئی کونپلیں جنم لے رہی تھی۔برسوں پہلے جہاں صور پھونک دیا گیا تھا، وہاں سے قلقاریوں کی صدائیں سنائی دے رہی تھیں۔ بے رنگ دریچوں پر لٹکے پھٹے ہوئے پردوں کے پیچھے سے جو اداس آنکھیں جھانکتی…
قرض کی پیتے تھے۔۔۔ (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
ایک جگہ محفل جمی تھی۔ مرزا غالب وہاں سے اکتا کر اُٹھے۔ باہر ہوا دار موجود تھا۔ اس میں بیٹھے اور اپنے گھر کا رخ کیا۔ ہوادار سے اتر کر جب دیوان خانے میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ متھرا داس مہاجن بیٹھا ہے۔ غالب نے اندر داخل ہوتے ہی کہا، ’’اخاہ متھرا…
پو پھٹنے تک (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
راملو کی چھوٹی سی کٹیا میں آٹھ زندگیاں سانس لیتی تھیں۔ اسی کٹیا میں انکیا کا بچپن جوانی سے جا ملا تھا۔ اسی کٹیا میں ملیا کی مسیں بھیگی تھیں۔ اسی کٹیا میں پوچی نے شرمانا سیکھا تھا۔۔ اور پھر اسی کٹیا میں انکیا کی بیوی نے دو بچے بھی جنے تھے۔۔۔ اور اب یہی…
چغد (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
لڑکوں اور لڑکیوں کے معاشقوں کا ذکر ہو رہا تھا۔ پرکاش جو بہت دیر سے خاموش بیٹھا اندر ہی اندر بہت شدت سے سوچ رہا تھا، ایک دم پھٹ پڑا، ’’سب بکواس ہے، سو میں سے ننانوے معاشقے نہایت ہی بھونڈے اور لچر اور بے ہودہ طریقوں سے عمل میں آتے ہیں۔ ایک باقی رہ…
چندرو کی دنیا (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
کراچی میں بھی اس کا یہی دھندا تھا اور باندرے آ کر بھی یہی دھندا رہا۔ جہاں تک اس کی ذات کا تعلق تھا، کوئی تقسیم نہیں ہوئی تھی۔ وہ کراچی میں بھی سدّھو حلوائی کے گھر کی سیڑھیوں کے پیچھے ایک تنگ و تاریک کوٹھری میں سوتا تھا اور باندرے میں وہی سیڑھیوں کے…