ماں بولی (حصہ ششم)
ماں بولی کے اس پڑاؤ میں ہم بات کریں گے برصغیر میں زبان، اقتدار اور تاریخ کی، اور اس حصے میں قدیم ہندوستان سے تقسیم تک کا ذکر کریں گے۔ زبان کبھی محض الفاظ کا مجموعہ نہیں رہی۔ انسانی تاریخ میں زبان ہمیشہ طاقت، علم اور اختیار کے ساتھ جڑی رہی ہے۔ جس کے پاس…
ادل بدل (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
”چوہدری جی! لٹیا گیا، کسے نوں منہ دکھانڑ جوگا نہیں رہیا۔۔۔“ واویلا سن کر گہری نیند سویا ہوا زمیندار ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ تیزی سے حویلی کے اندرونی حصے سے باہر کی طرف لپکا۔ نکلتے قد، گھنگریالے بالوں والا خوشرو چوہدری دلاور، جسے ہر کوئی نکا چوہدری کہ کر…
دکھ (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
پہاڑوں سے گھرے اس گاؤں سے، جہاں ’باکو‘ رہتا تھا، بڑے شہر کا فاصلہ پچاس کلو میٹر تھا۔ باکو ایک ترکھان تھا، خراد کی مشین اس کی زندگی کا محور تھی، اسے اپنی خراد اور اپنے ہنر پر بڑا فخر تھا۔ وہ اس خراد پر لکڑی کی خوبصورت چیزیں ایسی مہارت سے بناتا کہ دور…
سمندر کنارے ایک گھر (تین مختصر کہانیاں)
سمندر کنارے ایک گھر ہمارے گھر کے باہر ایک سمندر ہے، ہم نے دروازہ کھولا تو پانی میں ڈوب جائیں گے۔ اسی لیے ہم دروازے بند رکھتے ہیں، کیونکہ ایسا ہی کرنے کے لیے ہمیں کہا گیا ہے۔ بہت پہلے کسی نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی تھی تو پانی کی لہریں اسے اپنے ساتھ…
معذرت خواہ لومڑ (عربی ادب سے انتخاب)
ایک دیہاتی علاقے میں چند لومڑیاں اپنے ذریعۂ معاش کے سلسلے میں مشاورت کے لیے جمع ہوئیں۔ اُس علاقے میں ان کا کھانا بہت کم رہ گیا تھا اور کئی لومڑیاں تو رات کا کھانا کھائے بغیر ہی سو جاتی تھیں۔ ایک لومڑ نے کہا: ”آج کل سبھی مرغیاں غير متزلزل اور تالا لگے…
رسّی (فرانسیسی ادب سے منتخب افسانہ)
میرا دوست مجھے کہہ رہا تھا: ”خوش فہمیاں بھی اس قدر ہوتی ہیں، جتنے زیادہ ایک انسان کے دوسرے انسانوں سے روابط ہوتے ہیں۔۔ اور جب خوش فہمی رفع ہوتی ہے تو کہنا چاہیے کہ، ہم دوسرے انسان کی ذات یا حقیقت کو ویسے ہی دیکھتے ہیں، جیسے کہ وہ ہمارے باہر پہلے سے ہی…
وہ جو دیوار کو نہ چاٹ سکے۔۔۔ (اُردو ادب سے منتخب تمثیلی افسانہ)
پھر یہی ہوا کہ یاجوج ماجوج رات بھر دیوار کو چاٹا کیے۔۔ یہاں تک کہ دیوار تحلیل ہوتے ہوتے انڈے کے چھلکے کی مانند ہو گئی اور پھر یاجوج ماجوج تھک گئے اور انہیں نیند آنے لگی اور وہ یہ کہہ کر سو گئے کہ باقی دیوار صبح کو چاٹیں گے۔۔ مگر جب وہ صبح…
دلی کی سیر
’’اچھی بہن ہمیں بھی تو آنے دو‘‘ یہ آواز دالان میں سے آئی اور ساتھ ہی ایک لڑکی کرتے کے دامن سے ہاتھ پونچھتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی۔ ملکہ بیگم ہی پہلی تھیں جو اپنی سب ملنے والیوں میں پہلے پہل ریل میں بیٹھی تھیں۔۔ اور وہ بھی فرید آباد سے چل کر دہلی…