پاکستانی سیاست، دودھ پر بلیوں کی لڑائی
بچپن سے مثال سنتے آ رہے ہیں ’من حرامی تے حجتاں ڈھیر‘ یعنی دل بے ایمان ہو تو کچھ نہ کرنے کے سو بہانے۔۔آئین کو سو سلام مگر جب دل چاہے گا تب عمل ہوگا، کبھی کلی تو کبھی جزوی عمل ہوگا۔۔ نہیں دل چاہے گا تو آئین کی کمر پے ایک سو ایک تاویلات…
اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کا اصل مطلب
کل (بائیس مارچ) جنگلات کے تحفظ کا عالمی دن ہے۔ یہ دن دو ہزار بارہ سے منایا جاتا ہے اور اس کا مقصد یہ آگہی دینا ہے کہ اگر انسان اس کرہِ ارض سے ختم ہو بھی جائیں تو زمین کو کوئی فرق نہیں پڑے گا،لیکن جنگلات ختم ہو جائیں تو کچھ بھی نہیں بچے…
یہ کیا ہوا، کیسے ہوا، کب ہوا؟
گزرے جمعہ کو دو بڑے واقعات ہوئے۔ پہلا یہ کہ دوسری بڑی عالمی سپرپاور کی پیپلز کانگریس نے صفر کے مقابلے میں دو ہزار نو سو بانوے ووٹوں سے شی جن پنگ کو تیسری مدت کے لیے صدر منتخب کر لیا۔ گویا کم از کم اگلے پانچ برس بھی چین اسی داخلی و خارجہ ٹریک…
بلوچستان کی تکلیف معاشی نہیں، سیاسی ہے
گذشتہ تین دہائیوں میں بلوچستان کی سیاسی، سماجی و اقتصادی محرومی کے خاتمے کے نام پر جتنے میگا پیکیجز کا اعلان ہوا اگر ان میں سے پچاس فیصد پر بھی عمل ہو جاتا تو آج بلوچستان بھی صوبہ پنجاب اور سندھ نہیں تو خیبر پختون خواہ کے ہم پلہ ضرور ہو جاتا پرویز مشرف…
کیا ہماری قسمت میں یہی لوگ بچے ہیں؟
اس خطے کے عوام کو بس دو بار اپنے اظہار کا حقیقی موقع ملا۔ پہلی بار 1947 میں، جب اُن سے پوچھا گیا کہ نیا ملک چاہیے یا نہیں۔ انھوں نے کہا کیوں؟ جواب ملا تاکہ تم استحصال سے پاک ایک پُرامن آزاد زندگی بسر کر سکو۔لوگوں نے کہا ٹھیک ہے، یہ بات ہے تو…
اقتصادی مار اور ساتواں بیڑہ
جو پاکستانی اس وقت کم از کم 60 برس کے ہیں، انہیں شاید یاد ہو کہ 16 دسمبر 1971ء کو ڈھاکہ میں بھارتی فوج کے داخل ہونے سے لگ بھگ ایک ماہ قبل سرکاری خبرنامے کی اولین سرخی یہ ہوا کرتی تھی کہ امریکہ کے ساتویں بحری بیڑے کو خلیجِ بنگال جانے کا حکم ملا…