Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

اقتصادی مار اور ساتواں بیڑہ

By Akhtar Rasool
جنوری 8, 2023 5 Min Read
0

جو پاکستانی اس وقت کم از کم 60 برس کے ہیں، انہیں شاید یاد ہو کہ 16 دسمبر 1971ء کو ڈھاکہ میں بھارتی فوج کے داخل ہونے سے لگ بھگ ایک ماہ قبل سرکاری خبرنامے کی اولین سرخی یہ ہوا کرتی تھی کہ امریکہ کے ساتویں بحری بیڑے کو خلیجِ بنگال جانے کا حکم ملا ہے، اب وہ آبنائے ملاکا پار کر رہا ہے، آج وہ انڈیمان کے نزدیک سے گذر رہا ہے، اس وقت وہ خلیج بنگال سے ڈیڑھ سو ناٹیکل میل کے فاصلے پر ہے، اب خلیج بنگال کے دہانے تک پہنچ گیا ہے اور اب اب اب اب وہ مشرقی پاکستان میں پھنسے امریکی باشندوں کو نکالنے کے بعد غالباً واپس جا رہا ہے

جیسے جیسے ساتواں بحری بیڑہ خلیج بنگال سے دور تر ہوتا چلا گیا، ویسے ویسے یحیٰی حکومت اور پھر ہم مغربی پاکستانیوں کی آخری امیدیں بھی دھند میں لپٹتی چلی گئیں۔ بعد میں کیا بیتی؟ آپ تو جانتے ہیں

آج مجھے یہ منظر یوں یاد آ رہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے مطابق اب ہمارے زرِمبادلہ کا ذخیرہ پچھلے 12 ماہ کے دوران 16.5 بلین ڈالر سے گھٹتے گھٹتے 5.5 بلین ڈالر تک آن لگا ہے۔ یعنی ریاستی بینک کی تحویل میں جو ڈالر باقی ہیں، ان سے بمشکل تین ہفتے کی برآمدات منگوائی جا سکتی ہیں۔ کہنے کو نجی بینکوں کی تحویل میں بھی 5.8 بلین ڈالر پڑے ہیں مگر وہ نجی کھاتے داروں کی امانت ہیں۔تاوقتیکہ وفاقی حکومت 1998ء کی طرح معاشی ایمرجنسی نافذ کر کے انہیں اپنی نگرانی میں لے کر پاکستانی روپے سے نہ بدل دے

بظاہر ایک امریکی ڈالر کی سرکاری قیمت آج کی تاریخ میں 228 روپے تک جا پہنچی ہے، مگر کھلی مارکیٹ میں یہ 235 روپے میں بھی مل جائے تو بڑی بات ہے۔ جبکہ افغان فری ٹریڈ اور اسمگلنگ کے ذریعے روزانہ تقریباً تین ملین ڈالر سرحد پار جا رہے ہیں جہاں فی ڈالر 275 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ اس شرحِ منافع کے ہوتے ڈالر کی سرحد پار اسمگلنگ روکنا تقریباً ناممکن ہے

دوسری جانب بیرونِ ملک سے زرِمبادلہ کی مسلسل ترسیل کے ضامن سمندر پار پاکستانیوں نے بھی معاشی بے یقینی کے ہاتھوں اپنا ہاتھ کھینچ کے رکھا ہوا ہے۔ اب اوسطاً تین ارب ڈالر ماہانہ کے بجائے دو ارب ڈالر پاکستان پہنچ رہے ہیں اور ان میں سے بھی بہت سے ڈالر بینکنگ چینلز کے بجائے ہنڈی کے ذریعے آ رہے ہیں۔ اس کا سبب بینکوں کے ایکسچینج ریٹ اور کھلی مارکیٹ کے ریٹ میں تیزی سے بڑھتا ہوا فرق ہے

نجی بینکوں کو چونکہ کھاتے داروں کو دینے کے لیے اوپن مارکیٹ سے ڈالرز مہنگے داموں خریدنا پڑ رہے ہیں لہذا وہ اسٹیٹ بینک کی جاری کردہ لازمی درآمدی اشیا کی فہرست کے مطابق لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کھولنے کی اجازت کے باوجود ایل سی کے ضمانتی بننے سے انکاری ہیں

چنانچہ اس وقت کراچی اور پورٹ قاسم کی بندرگاہوں پر بیرونِ ملک سے آنے والے مال کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔ کسٹمز گوداموں میں 358,000 ٹن خوردنی تیل ایل سیز کے کلیئر ہونے کا منتظر ہے۔ گودام اور ایل سی کی تاخیر کے چارجز روزانہ کے حساب سے مال منگوانے والے پر پڑ رہے ہیں۔جبکہ پونے دو لاکھ ٹن خوردنی تیل سے لدے دس جہاز پورٹ کے باہر کئی دن سے کلیئرنس نہ ملنے کے سبب کھڑے ہیں

لہٰذا ملک میں خوردنی تیل کی قلت اور قیمت کا بحران سر پے ہے۔ پاکستان اپنی ضروریات کا 90 فیصد خوردنی تیل باہر سے منگواتا ہے

یہی حالات صنعتی مشینری کی امپورٹ کو بھی درپیش ہیں۔ روپے کی گراوٹ کے سبب اندرونِ ملک منڈی بھی سکڑ رہی ہے۔زرعی آلات بنانے والے سب سے بڑے مقامی ادارے ملت ٹریکٹرز نے چھ جنوری سے ٹریکٹرز کی پیداوار غیر معینہ مدت کے لیے روک دی ہے کیونکہ مانگ میں خاصی کمی ہوئی ہے اور یوں کمپنی مالی بحران کی لپیٹ میں ہے جبکہ ٹریکٹرز اور فاضل پرزے بنانے والے یونٹوں کو ملنے والا آٹھ ارب روپے کا ٹیکس ریبیٹ بھی گزشتہ دو برس سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو، بےباق کرنے سے معذور ہے

کاروں اور موٹر سائیکلوں کی پیداوار میں بھی انہی مشکلات کے سبب کمی ہوئی ہے۔ نشاط، کریسنٹ اور سرتاج جیسے بڑے صنعتی گروپس نے اپنی ٹیکسٹائل کی پیداوار میں کٹوتی کا اعلان کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے پہلے سے موجودہ لاکھوں بے روزگاروں میں مزید چند لاکھ کا اضافہ

چونکہ اقتصادی بحران عارضی اقدامات اور سرسری علاج سے ٹھیک ہوتا نظر نہیں آ رہا اور پہلے سے حاصل قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرضوں کی بھاگ دوڑ جاری ہے، لہٰذا جس جس کا بس چل رہا ہے بیرونِ ملک جانے کے خواب پہلے سے زیادہ دیکھ رہا ہے

ریاستی قسمت پر قابض فیصلہ ساز اشرافیہ نے تو اپنا اور اہلِ خانہ کے مالی و رہائشی مستقبل کا بندوبست بہت پہلے سے خلیجی ریاستوں، یورپ اور شمالی امریکہ میں کر لیا ہے۔ اب بڑے بڑے صنعت کار اور تاجر بھی اپنا ٹین تپڑ رفتہ رفتہ بیرونِ ملک منتقل کر رہے ہیں

مہنگائی کا اشاریہ سالانہ کی حدیں پار کر کے ماہانہ سے ہوتا ہوا ہفتہ وار کی حدود میں ڈبل ہندسے کے ساتھ گھس چکا ہے۔ دو برس پہلے 100 روپے کی جو قوتِ خرید تھی اب وہ 40 سے 50 روپے کے برابر رہ گئی ہے۔ لاکھوں پنشن یافتہ ان حالات میں سب سے زیادہ پریشان ہیں۔مڈل کلاس کس منہ سے کہے کہ اب وہ عملاً لوئر مڈل کلاس بن چکی ہے جو بمشکل بچوں کی تعلیمی فیس، دوا دارو اور روزمرہ دال سبزی کے اخراجات پورا ہونے پر ہی شکر مند ہے

مگر وہ جو کہتے ہیں کہ ساری خدائی ایک طرف جورو کا بھائی ایک طرف۔۔ نواز شریف کے سمدھی اسحاق ڈار المعروف وزیرِ خزانہ اور برادرِ خورد شہباز شریف المعروف وزیرِ اعظم روزانہ تسلی دے رہے ہیں۔۔ گھبرانا نہیں ہے۔ دوست ملکوں سے امداد بس آیا چاہتی ہے۔۔ آئی ایم ایف کے پیکیج کی نویں قسط بس آج کل میں ملنے والی ہے (گویا جب اگست میں آٹھویں قسط ملی تھی تو دودھ کی نہریں بہہ نکلی تھیں)

اب شاید آپ کو احساس ہو کہ میں 52 برس پہلے خلیج بنگال پہنچنے والے ساتویں امریکی بحری بیڑے کو کیوں یاد کر رہا ہوں۔

بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

baat se baat wusatullah khanfamous journalist wusatullah khan'slatest column of wusatullah khanwasatullah khanwasatullah khan |talk |ayaz melo 2018wasatullah khan radio column baat se baatwusatillah khanwusatullahwusatullah dawnwusatullah khawusatullah khanwusatullah khan analysiswusatullah khan baat se baatwusatullah khan bbcwusatullah khan bbc urduwusatullah khan educationwusatullah khan fanswusatullah khan urdu columnwusuatullah khan
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

امریکہ میں چھ سالہ بچے نے کلاس میں اپنی ٹیچر کو گولی مار دی!

Next

ہم کتنی زہریلی ہوا میں سانس لے رہے ہیں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme