موسمیاتی تبدیلی: کیا کیلے کا پھل ناپید ہو جائے گا؟
کیلے کی کہانی ہزاروں سال پر محیط ہے، جو گھنے جنگلات سے نکل کر دنیا بھر کے بازاروں تک پہنچا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا آغاز پاپوا نیو گنی کی کُک وادی سے ہوا، جہاں 8000 قبل مسیح میں انسان نے اسے پہلی بار کاشت کیا۔ وہاں سے یہ جنوب مشرقی ایشیا، فلپائن، بھارت،…
سندھ نہروں کا معاملہ، ماحولیاتی نظام کے لیے خطرہ
حکومت نے کچھ ہی عرصہ پہلے دریائے سندھ سے چھ نئی نہریں نکالنے کی منظوری دی ہے جن میں چولستان اور تھر کے علاقے سیراب کرنے کے لیے بھی نہروں کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ نہریں ملک کی 48 لاکھ ایکڑ زمین پر ’گرین کارپوریٹ فارمنگ‘ کرنے کے لیے نکالی جا رہی ہیں، جس…
صحرا میں تبدیل ہوتا سندھ
زمین اور اس کے وسائل کی ملکیت، قبضے اور تقسیم کا سوال، جو درحقیقت انسانیت کے لیے ایک مشترکہ ورثہ ہونا چاہیے، ہزاروں سال سے متنازع مسائل میں شامل رہا ہے اور ریاستوں کے اندر اور ان کے درمیان تنازعات کی ایک بڑی وجہ بھی۔ اگرچہ زمین بذاتِ خود کوئی خاص قدر…
چھ نوجوان بمقابلہ بتیس ممالک۔۔ گلوبل وارمنگ کے خلاف انوکھی جنگ!
پرتگال کے چھ نوجوان، بتیس ملکوں کے خلاف گلوبل وارمنگ روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے پر حقوقِ انسانی کی یورپی عدالت ’ای سی ایچ آر‘ میں مقدمہ دائر کر رہے ہیں۔ یہ عدالتوں کے توسط سے موسمیاتی انصاف حاصل کرنے کی تازہ ترین اور منفرد کوشش ہے یہ اقدام…
یہ زمیں ہے یا خلا میں کوئی تابوت رواں
گیارہ جولائی انیس سو ستاسی کو جب دنیا کی آبادی پانچ ارب نفوس کے ہندسے پر پہنچ گئی تو اس دن کو اقوامِ متحدہ نے سالانہ یومِ آبادی قرار دے دیا تاکہ ریاستوں، سماج اور افراد کو آگہی ہو کہ ایک حد سے زیادہ بوجھ شاید یہ زمین بھی نہ اٹھا سکے کیونکہ بڑھتی ہوئی…
پاکستان میں واٹر ایمرجنسی کا الارم بجنے کو ہے
پاکستان کونسل برائے تحقیق آبی ذخائر (پی سی آر ڈبلیو آر) کی جانب سے جاری کردہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق 1990ء میں پاکستان ان ممالک کی فہرست میں آ چکا تھا، جہاں زرعی صنعتی اور گھریلو استعمال کے لیے پانی کی طلب میں اضافے کے باعث مسقبل میں خوراک اور پانی کا…
سیلاب کے بعد اب تک لاکھوں پاکستانی صاف پانی سے محروم: اقوام متحدہ
بین الاقوامی اداروں کی تسلسل سے آنے والی رپورٹس اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ حکومت کے گزشتہ سال آنے والے سیلاب کے متاثرین کی بحالی اور امداد کے وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ جس کے بعد ان شکوک نے جنم لیا ہے کہ آخر خطیر امدادی فنڈ کہاں خرچ ہو رہے…