اتنا ظالم ہے کہ مظلوم نظر آتا ہے
کیا کسی کی بھی سمجھ میں آ رہا ہے کہ ہونا کیا چاہیے، ہو کیا رہا ہے اور کیا ہونے جا رہا ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ ہونی کو انہونی اور انہونی کو ہونی بنانے کے مشاقینِ کرام کے سوا سب کی سمجھ میں آ رہا ہے۔میرے دوست عبداللہ پنواڑی اور خواجہ فرید فروٹ چاٹ…
تاریخ اور ثقافت کا قتلِ عام
انیس سو چون کے دی ہیگ کنونشن کے مطابق دورانِ جنگ ثقافتی ورثے کی جان بوجھ کر تباہی جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہے۔ جرائم کی بین الاقوامی عدالت کے مطابق دورانِ جنگ ثقافتی ورثے کی تباہی پر فردِ جرم کی سماعت اس کے دائرہِ اختیار میں شامل ہے۔ ہیگ کنونشن برائے…
فلسطین اسرائیلی ہتھیاروں کی لیبارٹری ہے
سات اکتوبر کے بعد پہلے چار ہفتے میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر پچیس ہزار ٹن سے زائد بارود برسا دیا، جس کی مجموعی طاقت دو ایٹم بموں کے برابر ہے۔ جب کہ زمین پر پچھلی دو دہائیوں میں ایسے ایسے نئے ہتھیاروں کی فلسطینیوں پر ٹیسٹنگ ہوئی ہے، جو اکیسویں صدی میں…
رگڑے پے رگڑا لگتا ہی چلا جا رہا ہے
اگر یہ مقدمے اصلی ہیں تو پھر سزا مکمل ہونے سے پہلے ختم کیسے ہو جاتے ہیں؟ اگر یہ مقدمے انتقامی ہیں تو عدالت سزا کیسے سنا دیتی ہے؟ تو جس عدالت نے انہی مقدمات میں پہلے سزائیں سنائیں، وہ انصاف تھا، یا جو عدالتیں اب انہی سزا یافتگان کو انہی مقدمات میں بری کر…
یہ جنگ نہیں، مذہبی نسل کشی ہے!
کیا یہ کسی ایک گروہ (حماس) سے جنگ ہے یا فلسطینی قوم کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کی کوشش؟ بالکل ایسے ہی، جیسے ہٹلر نے اپنی نسل پرستانہ نفرت کو ’فائنل سلوشن‘ کا نام دے کر جتنے یہودیوں اور جپسیوں کو قتل کیا جا سکتا تھا، کیا۔ اور اب کل کے مظلوم (یہودی) اسی ’فائنل…
پچاس برس پرانا تازہ زخم
جنوبی امریکا کے ملک چلی میں دنیا کی پہلی منتخب مارکسٹ حکومت کو ٹھیک پچاس برس پہلے (گیارہ ستمبر انیس سو تہتر) آزادی اور جمہوریت کے عالمی چیمپئن امریکا نے پرتشدد انداز میں ختم کرایا۔ اس ڈرامے کے سب کلیدی کردار سوائے ڈاکٹر ہنری کسنجر مر چکے ہیں۔ تب ہنری…
افریقہ برائے فروخت نہیں رہا (قسط دوم/آخری)
آپ نے کبھی نہ کبھی ٹمبکٹو کا نام تو سنا ہوگا۔ آج یہ نام غیرسنجیدگی کا استعارہ ہے مگر یورپی طاقتوں کی ہوس ناک نگاہوں سے قبل ٹمبکٹو مغربی افریقہ کی خوشحال ترین سلطنت مالی کا دارالحکومت تھا، جہاں چہار جانب کے تجارتی قافلے ملتے تھے۔ دو ہزار تیرہ میں اس شہر…
افریقہ برائے فروخت (قسط اول)
مغربی افریقہ کے سولہ ممالک معدنی و قدرتی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود نوآبادیاتی اثر و رسوخ ، آمریت اور کرپشن کے سبب آزادی کے بعد سے اب تک غربت ، بدامنی ، کرپشن ، دہشت گردی اور قتل وغارت گری کے ہاتھوں پریشان ہیں ان دنوں انہیں ایک اور وبا کا سامنا…