Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

رگڑے پے رگڑا لگتا ہی چلا جا رہا ہے

By Akhtar Rasool
دسمبر 3, 2023 4 Min Read
0

اگر یہ مقدمے اصلی ہیں تو پھر سزا مکمل ہونے سے پہلے ختم کیسے ہو جاتے ہیں؟ اگر یہ مقدمے انتقامی ہیں تو عدالت سزا کیسے سنا دیتی ہے؟

تو جس عدالت نے انہی مقدمات میں پہلے سزائیں سنائیں، وہ انصاف تھا، یا جو عدالتیں اب انہی سزا یافتگان کو انہی مقدمات میں بری کر رہی ہیں، وہ انصاف ہے؟

جو احتسابی ادارہ کل دل و جان سے ایڑی چوٹی کا زور لگا کے اپنی ہی عائد کردہ فردِ جرم کی بنیاد پر ملزم کو زیادہ سے زیادہ سزا دلوانے پر کمر بستہ تھا، وہی ادارہ آج اسی فردِ جرم کو پانچ منٹ میں کیسے یہ کہتے ہوئے واپس لے لیتا ہے، کہ اگر عدالت ملزم کو بری کر دے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔

کیسے پتہ چلے کہ یہ ادارہ کل دباؤ میں تھا، یا آج دباؤ میں ہے یا کل بھی تھا اور آج بھی ہے؟

پس ثابت ہوا کہ کوئی شے قائم ہے تو وہ الہ دین کا چراغ ہے۔ سیدھا رگڑو تو ہر ہر دروازہ کھلتا چلا جاتا ہے، چھینی عزت بحال ہو جاتی ہے، پیروں تلے سے کھینچا جانے والا سرخ قالین پھر سے خود بخود کھلتا چلا جاتا ہے۔

کل تک پیچھے دوڑنے والا، دیواریں پھاندنے والا، ہتھکڑیاں ڈالنے والا دستہ اچانک سے ہٹو بچو ٹائپ محافظوں میں بدل جاتا ہے۔ زمین پر کیل کی طرح گڑے مقدمات اور ان مقدمات کے نتیجے میں کڑی سزائیں، اسپانسرڈ تزلیلات، کردار کشیاں، غدارانہ الزامات، ضبطیاں، میڈیائی سنسریات، غرض جملہ منفیات روئی کے گالوں کی طرح اڑنے شروع ہو جاتے ہیں اور سب کے سب بارِ دگر ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں۔

گویا ہماری ریاستی ڈکشنری میں عروج کی جدید تعریف یہ ہے کہ ’پکڑ دھکڑ اور آزادی کے درمیانی وقفے کو عروج کہتے ہیں۔‘

یہی الہ دین کا چراغ الٹا رگڑا جائے تو دوڑتے اونٹ پر بیٹھے آدم کو بھی کتا کاٹ لیتا ہے۔ وہی انسان جسے قوم کی تقدیر بنا کے رائے عامہ کی منڈی میں جنسِ نادر کے طور پر اتارا جاتا ہے، پلک جھپک کے وقفے میں قومی خطرہ، جنسی کج رو، مال پیٹ تحریک کا سرغنہ، فاشسٹ، اقربا نواز، جھوٹا، بدتمیز، ریاست کا باغی، کسی بھی اعلٰی عہدے کے لیے ان فٹ اور جَنتا کو گمراہ کرنے والا قرار پاتا ہے۔

ایسے خوش قسمت بدقسمت کا مقدر وہی کال کوٹھڑی بن جاتی ہے کہ جو خدا معلوم کب سے چراغِ الہ دین کے زخم خوردگان کا مسکن ہے اور اس کی سنگی دیواروں پر جلّی حروف میں وقت سے نچڑی روشنائی نے لکھ دیا ہے:

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا،
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا (جالب)

پس ثابت ہوا کہ جس کے پاس الہ دین کا چراغ ہے، وہی تخت کو تختہ اور تختے کو تخت بنانے پر قادر ہے۔ چاہے تو کٹھ پتلی میں حرکت پیدا کر دے، نہ چاہے تو اسی کٹھ پتلی کو گودام میں رکھوا دے۔

فرض کریں، جس کے پاس آج یہ چراغ ہے، اس سے اگر کوئی چھین لے تو کیا ہم اس منحوس چکر ویو سے نکل آئیں گے؟ ہرگز نہیں۔ جس کسی کے پاس یہ چراغ ہوگا وہ اسے اپنے پسندیدگان و ناپسندیگان و پسماندگان کے لیے رگڑے گا اور اس کی بھی یہی خواہش ہوگی کہ سب کے سب کٹھ پتلیاں بن کے چراغ کی لو میں ناچیں اور انکار کریں تو اندھیر گودام میں پھینک دیے جائیں۔

یعنی چراغ کی اپنی کوئی سرشت نہیں۔ مظلوم کے ہاتھ لگ جائے تو اسے ظالم بنتے دیر نہیں لگتی۔ چھن جائے تو مظلوم بنتے دیر نہیں لگتی۔

اب ذرا ہمارے فیصلہ سازوں کی انفرادی و اجتماعی لفظیات ملاحظہ فرمائیے۔ میرے پاس کوئی جادوئی چھڑی نہیں کہ آنکھ بند کر کے ’اوبڑ دی گڑگڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی لالٹین‘ پڑھوں اور ڈالروں کی برسات ہونے لگے اور پاک سرزمین خوشحالی سے جل تھل ہو جائے۔

میرے پاس الہ دین کا چراغ نہیں کہ راتوں رات مسائیل حل ہو جائیں۔ یہ بحران میں نے پیدا نہیں کیا۔ اس گند کو صاف کرنے میں وقت لگے گا۔ جہاں آپ نے اتنا صبر کیا، صرف چھہتر برس اور صبر کر لیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔

اور جب ان سے پوچھو کہ واقعی ان کے پاس جادو کی چھڑی یا الہ دین کا چراغ نہیں تو پھر وہ کون سی گیدڑ سنگھی ہے، جس کے استعمال سے ایک شوگر مل بیس شوگر ملوں میں بدل جاتی ہے۔ پانچ لاکھ کے بیلنس میں پانچ اور صفر راتوں رات جڑ جاتے ہیں۔ گریڈ بائیس کے برابر تنخواہ میں اتنی برکت کیسے آ جاتی ہے کہ اندرون و بیرونِ ملک املاک کی تفصیل پیاز کے چھلکے کی طرح کھلتی چلی جاتی ہے۔

جنہوں نے نجات دہندہ، جادو کی چھڑی، گیدڑ سنگھی اور الہ دین کے چراغ سے نجات پالی وہ یورپ، امریکہ، جاپان، چین، برازیل، انڈیا اور بنگلہ دیش ہو گئے۔

ہم کیسے نجات پائیں اس چراغ سے، جسے ہم نہیں بلکہ وہ ہمیں رگڑے جا رہا ہے اور رگڑے پر رگڑا لگتا ہی جا رہا ہے۔

شکستگی کا یہ درماں ہے تیرگی میں جئیں،
چراغ ہو تو جلائیں، لباس ہو تو سئیں۔۔

بشکریہ: بی بی سی اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

allahallam sajid ali naqviasad ullah khanasad ullah khan latest videoasadullah khanbbc wusatblogger wusatdr. hasan abbasjournalist wusat ullah khanrana sana ullahullahurdu column written by columnist wusat ullah khanwasatwasatullah khanwusat pervaizwusat ullah khanwusat ullah khan colomnistwusat ullah khan columnwusat ullah khan twitterwusat ullah khan urdu columnswusatullah khanwusatullahkhanWussatullah Khan
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ہنری کسنجر کے سو برس، جن کا فائدہ صرف انہیں اور امریکا کو ہی ہوا

Next

موئن جو دڑو سے ملنے والے سکوں پر تصویر کس کی ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme