یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
کسی کا اچانک غائب ہو جانا، یک دم کسی پریس کلب یا ٹی وی چینل پر نمودار ہو جانا، کمرہِ عدالت سے ضمانتی کاغذ لہراتے ہوئے باہر نکلتے ہی بنا نمبر پلیٹ کی کسی گاڑی میں ڈنڈہ ڈولی ہو کے اڑن چھو ہو جانا۔ ان میں سے کچھ بھی ہرگز ہرگز اب کوئی غیر معمولی…
رزق اپنی ناقدری کبھی نہیں بھولتا
آٹھ ارب کی دنیا میں روزانہ اسی کروڑ انسان بھوکے سوتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ خدا انہیں آزما رہا ہے یا قدرت نے کرہِ ارض پر انسان سمیت ہر ذی روح کے لیے خوراک کا حصہ مختص نہیں کیا، مگر پیٹ بھروں کی لاپرواہی، ناشکری اور ہوس ان اسی کروڑ لوگوں کا پیٹ خالی رکھنے…
وعدوں کی ہانڈی میں دلاسے کی ڈوئی
ماضی کے بارے میں تو ہم سب جانتے ہیں کہ درخشاں ہی ہوتا ہے۔۔ بالکل اس شخص کی طرح، جو بھلے زندگی میں کیسا ہی کمینا ہو، مرنے کے بعد اس میں خوبیاں ہی ڈھونڈی جاتی ہیں۔ کوئی بھی حکومت ہو، اس لحاظ سے اچھی ہی ہوتی ہے کہ وہ حال سے بے حال لوگوں…
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
یہ بات ہے دسمبر دو ہزار گیارہ کی، اس وقت کے وزیرِ اعلٰی شہباز شریف کی فلاحی اسکیم کے تحت پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی جانب سے حسبِ معمول دل کے ایک لاکھ سے زائد رجسٹرڈ مریضوں کو دواؤں کی مفت سپلائی جاری تھی۔ ان دواؤں میں کراچی کی ایک فارماسيوٹیکل…
مہمانوں کی آمد مرحبا!
بچپن کی یادوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب کبھی گھر میں اعلان ہوتا کہ کل پرسوں کوئی اہم مہمان آنے والا ہے اور وہ چند دن قیام بھی کرے گا تو بس پھر کیا تھا، سب لگ پڑتے۔۔ فرش چمکائے جاتے، کونوں کھدروں میں جمع شدہ کچرا کھرچ کھرچ کے صاف ہوتا،…
کیا خودکشی قابلِ علاج ہے؟
وہ جو کہتے ہیں کہ خودکشی کرنے والا تو ’مکتی‘ پا جاتا ہے مگر ساتھ کے کئی لوگ معاشی و سماجی طور پر زندہ درگور ہو جاتے ہیں۔ خود کشی سوچ سمجھ کے بھی کی جاتی ہے، البتہ زیادہ تر لوگ کسی کمزور لمحے میں آناً فاناً فیصلہ کر کے اپنی جان لے لیتے ہیں۔…
آنکھیں اور کتنی پھٹیں گی؟
پاکستان میں اس وقت ضرورت سے زائد بجلی پیدا ہو رہی ہے اور ساتھ ہی دیگر کے علاوہ بجلی کا بحران بھی جاری ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جلد آنے والی سرمایہ کاری سے سب مسئلے ٹھیک ہو جائیں گے اور سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ کیا عجب انتظام ہے…
برکس اتحاد عالمی معیشت کے لیے کتنا مفید؟
جب دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد امریکا اور سوویت یونین کے مابین چھڑنے والی سرد جنگ میں دونوں بڑی طاقتیں چھوٹے ممالک کو اپنے اپنے کیمپ میں لانے کے لیے طرح طرح سے رجھا رہی تھیں تو اس دباؤ سے تنگ آ کے انیس سو پچپن میں سوئیکارنو کی دعوت پر تیسری دنیا…