ایک ماحول دوست سواری کا قصیدہ
آج (تین جون) عالمی یومِ بائسکل ہے۔ اس دن کا مقصد اس واحد سواری کی اہمیت اجاگر کرنا ہے، جو انسان کی جسمانی قوت سے رواں رہتی ہے ، یہ ماحولیات دوست سواری نہ پٹرول پیتی ہے ، نہ دھواں چھوڑتی ہے ایجاد کردہ سواریوں میں سب سے سستی ہے جس کی رفتار پیدل رفتار…
پاکستانی سیاست، دودھ پر بلیوں کی لڑائی
بچپن سے مثال سنتے آ رہے ہیں ’من حرامی تے حجتاں ڈھیر‘ یعنی دل بے ایمان ہو تو کچھ نہ کرنے کے سو بہانے۔۔آئین کو سو سلام مگر جب دل چاہے گا تب عمل ہوگا، کبھی کلی تو کبھی جزوی عمل ہوگا۔۔ نہیں دل چاہے گا تو آئین کی کمر پے ایک سو ایک تاویلات…
یہ کیا ہوا، کیسے ہوا، کب ہوا؟
گزرے جمعہ کو دو بڑے واقعات ہوئے۔ پہلا یہ کہ دوسری بڑی عالمی سپرپاور کی پیپلز کانگریس نے صفر کے مقابلے میں دو ہزار نو سو بانوے ووٹوں سے شی جن پنگ کو تیسری مدت کے لیے صدر منتخب کر لیا۔ گویا کم از کم اگلے پانچ برس بھی چین اسی داخلی و خارجہ ٹریک…
بلوچستان کی تکلیف معاشی نہیں، سیاسی ہے
گذشتہ تین دہائیوں میں بلوچستان کی سیاسی، سماجی و اقتصادی محرومی کے خاتمے کے نام پر جتنے میگا پیکیجز کا اعلان ہوا اگر ان میں سے پچاس فیصد پر بھی عمل ہو جاتا تو آج بلوچستان بھی صوبہ پنجاب اور سندھ نہیں تو خیبر پختون خواہ کے ہم پلہ ضرور ہو جاتا پرویز مشرف…
کیا ہماری قسمت میں یہی لوگ بچے ہیں؟
اس خطے کے عوام کو بس دو بار اپنے اظہار کا حقیقی موقع ملا۔ پہلی بار 1947 میں، جب اُن سے پوچھا گیا کہ نیا ملک چاہیے یا نہیں۔ انھوں نے کہا کیوں؟ جواب ملا تاکہ تم استحصال سے پاک ایک پُرامن آزاد زندگی بسر کر سکو۔لوگوں نے کہا ٹھیک ہے، یہ بات ہے تو…
بھاگتے رہنا، ہمارے بھروسے نہ رہنا
پچھتر برس پہلے لاکھوں لوگ اپنی مٹی، گھر بار اور یادیں چھوڑ کے پاکستان آ رہے تھے۔آج انہی لاکھوں لوگوں کی تیسری چوتھی نسل ہر حربہ استعمال کر کے اپنے گھر بار اور یادیں چھوڑ کے یا تو پاکستان سے جا رہی ہے یا پہلی فرصت میں یہاں سے نکلنا چاہتی ہے پہلی نسل نے…
جانِ من کہاں جا رہی ہو مجھے ڈسے بغیر؟
اس سے پہلے کہ پاکستانی حکومت 30 جنوری کے پشاور خود کش دھماکے کے ڈانڈے کابل سے ملاتی، افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے پشتو کا ایک محاورہ داغ دیا ’پاکستان اپنی چھت پر پڑی برف خود صاف کرے، ہماری چھت پر نہ پھینکے۔‘ اس بیان کے بعد پاکستانی دفترِ خارجہ نے…
حکومت کوئی بھی ہو، غیر محفوظ ہی ہوتی ہے!
مغربی بنگال والے کہتے ہیں کہ جو بنگال آج سوچ رہا ہے، وہ باقی بھارت کل سوچے گا۔اگر میں اس بات کو جنوبی ایشیا کی سطح پر جا کے دیکھوں تو بات کچھ یوں بنے گی کہ جو پاکستان کل کر چکا، وہ بھارت آج کر رہا ہے۔ مثلاً ہم نے پچھلے پچھتر برس میں…