آٹھ فروری کو بوتل ہی ٹوٹ گئی
نیا کیا ہو رہا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ کچھ ہوگا؟ کچھ ہوا بھی تو ہم سے پوچھ کے تھوڑی ہوگا۔ دسمبر 1970 میں نہ فارم 45 تھا نہ فارم 47 کا ٹنٹا۔ بڑے پیمانے پر دھاندلی کی بھی شکایات نہیں موصول ہوئیں۔ پھر بھی واضح طور پر سب سے بڑی اکثریتی جماعت (عوامی لیگ) کو…
بلی تھیلے سے باہر آ ہی گئی
ویسے تو بلی سات اکتوبر کے فوراً بعد ہی تھیلے سے باہر آ گئی تھی، مگر اب اس نے اپنے نوکیلے دانت اور پنجے بھی پوری طرح گاڑ دیے ہیں۔ پہلا نقبہ انیس سو اڑتالیس سے انیس سو پچاس تک جاری رہا، جب ساڑھے سات لاکھ فلسطینیوں کو گھروں سے نکال کے ہمسایہ ممالک میں…
ووٹ کو نہ سہی، خود کو ہی عزت دے دو
ماڈل بھی وہی ستر برس پرانا ہے اور خواہش بھی جوں کی توں، یعنی انتخابات اچھے ہیں اگر نتائج کنٹرول میں رہیں۔۔ مگر سوار لاکھ اچھا ہو، کبھی کبھی گھوڑا بدک بھی جاتا ہے۔ جیسے 1970 میں صدرِ مملکت کو حساس اداروں نے رپورٹ پیش کی کہ ’ایک آدمی، ایک ووٹ‘ کے اصول پر…
عسکری دارالامان میں بیوہ جمہوریت کی شادی
’رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے۔۔ جتھے وی دیکھو پی ٹی آئی اے‘ مذکورہ بالا تاریخی الفاط رکشہ ڈرائیور نواز میتلا کے ہیں۔ جو پچھلے سات برس سے میرے اپارٹمنٹ کمپلیکس کے باہر رکشہ کھڑا کرتا ہے۔ اسے موبائیل کمپنیوں کے تمام رعائیتی پیکیجز ازبر ہیں اور اس کی…
بلا بلا ڈالا ڈالا حال ہمارا جانے ہے
اگر پولٹیکل ہرڈل ریس (رکاوٹوں والی دوڑ) کی عالمی چیمپیئن شپ ہر چار برس بعد منعقد ہو تو اس میں پاکستان کا وہی مقام ہوگا، جو فٹ بال میں ارجنٹینا، کرکٹ میں آسٹریلیا، ہاکی میں جرمنی اور رگبی میں جنوبی افریقہ کا ہے۔ اس میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو سب سے پہلے…
گڈاپ سے اسلام آباد تک: اب دارالحکومت کہاں اٹھا کے لے جانا ہے؟
یہ تو سب جانتے ہیں کہ انڈیا کا دارالحکومت تاریخی دلی سے جڑا ایک سو گیارہ برس پرانا نئی دلی ہے، افغانستان کا دارالحکومت صدیوں سے آباد کابل ہے، تہران کی اپنی ایک طویل تاریخ ہے اور پاکستان کا چوتھا ہمسایہ چین جب کمیونسٹ نہیں تھا، تب بھی بیجنگ مرکز تھا، آج…
ریاستیں بھی خودکشی کرتی ہیں
اسرائیل جس راہ پر گامزن ہے اس کے خود اسرائیل کی بقا کے لیے کیا نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، اسرائیلی فیصلہ ساز اور تجزیہ کار اس بابت کیا کہتے ہیں؟ آج ان ہی کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ اسرائیل میں ایک انتہا پسند مذہبی لابی صاف صاف کہتی ہے کہ دریاِ اردن سے بحیرہ…
سیاست میں گر رہنا ہے تو جیے جنرل کہنا ہے
سیاست میں آدھا کام سیاستدان کی عام آدمی سے رابطے کی صلاحیت اور محنت کرتی ہے اور باق کام اس پر لگی چھاپ سے ہو جاتا ہے۔ یعنی سیاستدان دائیں بازو کا ہے کہ بائیں کا، دبنگ ہے کہ موقع پرست، وعدہ نبھانے والا ہے یا وعدہ فراموش، عوامی طاقت پر کامل یقین رکھتا ہے…