Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Marriage-of-widow-democracy-in-Askari-Darul-Aman
کالماہم ترینتازہ ترین

عسکری دارالامان میں بیوہ جمہوریت کی شادی

By Akhtar Rasool
فروری 5, 2024 5 Min Read
0

’رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے۔۔ جتھے وی دیکھو پی ٹی آئی اے‘

مذکورہ بالا تاریخی الفاط رکشہ ڈرائیور نواز میتلا کے ہیں۔ جو پچھلے سات برس سے میرے اپارٹمنٹ کمپلیکس کے باہر رکشہ کھڑا کرتا ہے۔ اسے موبائیل کمپنیوں کے تمام رعائیتی پیکیجز ازبر ہیں اور اس کی بدولت آس پاس کے تمام رکشہ ڈرائیورز کے پاس سیکنڈ ہینڈ اینڈورائیڈ فونز ہیں۔

جب سواری نہیں ملتی تو یا تو یہ فونز رکشہ چالکوں کے کانوں سے لگے رہتے ہیں یا پھر وہ ان پر گیمیں کھیلتے ہیں، ایک دوسرے کو خریدتے بیچتے ہیں یا پھر آج کل ان پر پی ٹی آئی کے گانے سنتے ہیں۔ ان میں سے کسی کا ووٹ بھی کراچی میں نہیں۔ زیادہ تر کا تعلق جنوبی پنجاب کی سرائیکی پٹی سے اور سوشل میڈیا کی وبا کی بدولت پی ٹی آئی سے ہے۔

میرے محلے میں دن میں دو ڈھائی بار کسی جماعتِ اسلامی، ایم کیو ایم یا پی پی پی کی لاؤڈ اسپیکر والی اعلانچی وین گذرتی ہے تو اچانک سے یاد آتا ہے کہ ارے ہاں جمعرات کو الیکشن بھی ہونے والے ہیں۔۔

پچھلے دو تین روز کے دوران تھوڑے بہت جھنڈے اور پوسٹرز بھی نظر آنے لگے ہیں۔ روایتی تام جھام، لونڈوں لپاڑوں کی موٹر سائیکل ریلیاں، نعرے بازی اور آپس میں ذومعنی فقرے بازی کا فقدان ہے۔

ہمہ وقت فارغ حالت میں کمپلیکس کے گیٹ پر آتوں جاتوں کو اسکین کرنے والے بے روزگار ادھیڑ عمر امداد قریشی کا کہنا ہے کہ ”میں اب تک ہر الیکشن میں ایم کیو ایم کا پولٹیکل ایجنٹ رہا ہوں مگر اس والے سے زیادہ ’سلیمانی الیکشن‘ آج تک نہیں دیکھے۔ کوئی رونق میلہ نہیں۔ دو ہزار اٹھارہ میں کم ازکم آخری دو ہفتوں میں لگتا تھا کہ سیاست بیاہی جا رہی ہے۔ پر آج تو یوں ہے گویا عسکری دارالامان میں لاوارث، غریب یا بیوہ بچیوں کی اجتماعی شادی ہو رہی ہو۔ بس ہاتھ پیلے کرو اور جان چھڑا کے حجت تمام کرو۔ اسی لیے میں نے اس بار پارٹی کو بھی کہہ دیا کہ میں ایسے باسی اور اکتائے ہوئے الیکشن میں پولنگ ایجنٹ بن کے ٹائم ضائع نہیں کروں گا۔ یہیں گیٹ پر بیٹھا بیٹھا تماشا دیکھوں گا۔“

ایک زمانے میں مالاباریوں کے چائے خانے اور ایرانی ریسٹورنٹس کراچی کے سیاسی مزاج کا قطب نما ہوا کرتے تھے۔ اب نہ مالاباری رہے اور نہ ہی ایرانی کیفے۔۔ اب کراچی کے ہر نکڑ پر کوئٹہ پشین کے چائے خاندانوں کی اجارہ داری ہے۔

ہر محلے میں اوسطاً دو سے تین کوئٹہ ہوٹل ملیں گے جہاں انڈہ پراٹھا چائے چوبیس گھنٹے دستیاب ہے۔ فارغ البالوں اور بے روزگار لمڈوں کا جھمگھٹا شام کے بعد سے صبحِ کاذب تک یہیں ملے گا۔

اسی ہجومِ بیکراں میں چند ادھیڑ عمر خشخشی یا سفید سر بھی دور دراز جزیروں کی طرح ابھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ چلے ہوئے کارتوس آپس میں کیا باتیں کرتے ہوں گے، مجھے نہیں معلوم۔۔ مگر ان جزائر سے کبھی کسی قہقہے کی آواز نہیں ابھری۔

میں کبھی کبھی انہی جھمگھٹوں کے کنارے کرسی لے کر چائے سڑکنے کی دیر تلک اداکاری کرتا ہوں اور ایک اجتماعی غوغے کی ترتیب شدہ بے ترتیب سمفنی میں سے کوئی سیاسی و دانشی ساز الگ سے سننے کی ناکام کوشش کرتا ہوں۔

میرے کانوں کی تحقیقی رپورٹ یہ ہے کہ اس ہجومِ نو نسلاں کی بیشتر بھڑاس آپس کے ابے تبے میں یا پرانی نسل کی فقرے بازی کی جگہ لینے والی گالم گلوچ کے تبادلے میں نکل جاتی ہے۔

ان میں سے اکثر فلیٹوں اور چھوٹے گھروں میں رہتے ہیں، جہاں زندگی ’جس کو جہاں جگہ ملی، سو گیا‘ کے اصول پر چلتی ہے۔ والدین ان سے اور یہ والدین سے تنگ ہیں۔ ان میں سے 90 فیصد خواندہ و ناخواندہ بچے کالج یا کوچنگ سینٹر کی کلاسیں لیں نہ لیں مگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے اردگرد کی دنیا ناپنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔

ان کے دماغوں میں دقیق سوچ کی جگہ نہیں بچی۔ کیونکہ تنقیدی سوچ ضرورت، جستجو اور کسی ہدف کو حاصل کرنے کی للک سے پیدا ہوتی ہے۔ ان میں سے اکثر نہیں جانتے کہ وہ کہاں سے آئے ہیں اور کدھر کو جا رہے ہیں۔ اکثر کے والدین واجبی قسم کی نوکریوں یا چھوٹے موٹے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ البتہ اس ریوڑ میں آنے والے کل کے بارے میں مایوسی مشترک ہے۔۔ مگر اس دلدل سے نکلنے کا راستہ کیا ہے، کچھ نہیں معلوم۔۔

میں نے سنا ہے کہ پنجاب بالخصوص وسطی پنجاب کے جی ٹی روڈ اضلاع میں ہر نوجوان اس ملک سے جانا چاہتا ہے، مگر میرے محلے کے چائے خانوں کی نوجوان بھیڑ بس ایک گول گول حیاتیاتی دائرے میں گھوم رہی ہے۔ دن میں سونے اور رات کو جاگنے اور اس کے وقفے کے درمیان کچھ تھوڑا بہت تعلیمی نصاب زہر مار کرنے یا چھوٹا موٹا کام کرنے والوں کی بھیڑ۔۔

سنہ 2015 تک یہ ریوڑ ایم کیو ایم کے پیچھے تھے۔ پھر عمران خان ان کا گڈریا بن گیا اور ان دنوں کوئی نام زیرِ بحث نہیں۔ البتہ ان میں سے کچھ نوجوان، جو یہ تو نہیں جانتے کہ میں کیا پیشہ کرتا ہوں مگر ان کے آس پاس منڈلانے کے سبب چہرہ شناس ضرور ہو گئے ہیں

زیادہ سے زیادہ یہ پوچھ لیتے ہیں کہ ’سر جی کیا ہونے جا رہا ہے؟‘ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ پہلے تم بتاؤ اس وقت تمہارے خیال میں کیا ہو رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں معلوم نہیں۔ پھر میں پوچھتا ہوں کہ اچھا پہلے کیا ہوا، وہی بتا دو۔ کہتے ہیں معلوم نہیں پر جو ہوا اچھا نہیں ہوا۔

وہ جو کہتے ہیں کہ دوستی دشمنی، نفرت محبت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور یہی سکے زندگی کا چہرہ ہیں۔ جب کسی نسل سے یہ بنیادی احساسات چھین لیے جائیں اور وہ رفتہ رفتہ آس پاس سے لاتعلق ہوتی چلی جائے تو پھر ایسا بے یقین سماج گنے کے پَھوک کی طرح ہو جاتا ہے جو وزن رکھتا ہے اور جگہ بھی گھیرتا ہے مگر رس سے خالی ہوتا ہے۔

یہ سماج ایسا نہیں تھا۔ بہت رسیلا تھا۔ اسے بڑی محنت سے زندگی سے بیزار پَھوک میں تبدیل کیا گیا ہے۔ ایسے میں یہ ڈھیر کیا اور اس کا ووٹ کیا اور اس کا فیصلہ کیا؟

اور جو اس نسل کو متوجہ کرنے کے لیے ان دنوں گلا پھاڑ رہے ہیں، وہ سوائے صوتی آلودگی بڑھانے کے اور کیا کر رہے ہیں؟

بشکریہ بی بی سی اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

anwaar ul haq kakaranwar ul haq kakaranwar ul haq kakar interviewanwar ul haq kakar latestbaat se baat | wusatullah khan fansbaat se baat wusatullah khancaretaker pm anwar ul haq kakarlatest column of wusatullah khanpm anwar ul haq kakarsaeed ghaniwasatullah khanwasatullah khan |talk |ayaz melo 2018wusatullahwusatullah khanwusatullah khan baat se baatwusatullah khan baat se baat latestwusatullah khan fans
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Maybe-thats-the-plan
Previous

شاید یہی تو پلان ہے؟

Yesterday-and-Today-Selected-Fiction-from-Italian-Literature
Next

کل اور آج (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme