میئر کے کان (پیرووین ادب سے منتخب افسانہ)
سولہویں صدی کے وسط میں پوٹوسی (بولیویا کا شہر) کا شاہی شہر مہم جُو لوگوں کے اجتماعات کے لئے موزوں ترین جگہ تھی۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ چاندی کی کانیں دریافت ہونے کے پانچ سال کے اندر یہاں کی آبادی بیس ہزار نفوس سے بڑھ چکی تھی۔ محاورہ ہے کہ…
ہماری آنکھوں پر بندھی غزہ کی ’پٹی‘ اور اسرائیل کے لیے بددعاؤں کے کنٹینرز۔۔
’’آپ اپنا دفاع بھلے مضبوطی سے کرنے کے قابل ہیں، مگر جب تک امریکا قائم ہے، آپ کو ہرگز فکرمند نہیں ہونا چاہیے۔ ہم ہمیشہ آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں (امریکی وزیرِ خارجہ انتنی بلنکن۔ تل ابیب۔ بارہ اکتوبر دو ہزار تئیس) حالانکہ دانتوں تک مسلح اسرائیل کے آگے…
یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
کسی کا اچانک غائب ہو جانا، یک دم کسی پریس کلب یا ٹی وی چینل پر نمودار ہو جانا، کمرہِ عدالت سے ضمانتی کاغذ لہراتے ہوئے باہر نکلتے ہی بنا نمبر پلیٹ کی کسی گاڑی میں ڈنڈہ ڈولی ہو کے اڑن چھو ہو جانا۔ ان میں سے کچھ بھی ہرگز ہرگز اب کوئی غیر معمولی…
رزق اپنی ناقدری کبھی نہیں بھولتا
آٹھ ارب کی دنیا میں روزانہ اسی کروڑ انسان بھوکے سوتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ خدا انہیں آزما رہا ہے یا قدرت نے کرہِ ارض پر انسان سمیت ہر ذی روح کے لیے خوراک کا حصہ مختص نہیں کیا، مگر پیٹ بھروں کی لاپرواہی، ناشکری اور ہوس ان اسی کروڑ لوگوں کا پیٹ خالی رکھنے…
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
یہ بات ہے دسمبر دو ہزار گیارہ کی، اس وقت کے وزیرِ اعلٰی شہباز شریف کی فلاحی اسکیم کے تحت پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی جانب سے حسبِ معمول دل کے ایک لاکھ سے زائد رجسٹرڈ مریضوں کو دواؤں کی مفت سپلائی جاری تھی۔ ان دواؤں میں کراچی کی ایک فارماسيوٹیکل…
مہمانوں کی آمد مرحبا!
بچپن کی یادوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب کبھی گھر میں اعلان ہوتا کہ کل پرسوں کوئی اہم مہمان آنے والا ہے اور وہ چند دن قیام بھی کرے گا تو بس پھر کیا تھا، سب لگ پڑتے۔۔ فرش چمکائے جاتے، کونوں کھدروں میں جمع شدہ کچرا کھرچ کھرچ کے صاف ہوتا،…
اے خیرات دتی اے بے غیرتا؟
حزبِ اختلاف میں ہو تو گالی دو، برسرِ اقتدار ہو تو گھٹنوں کے بل بیٹھ کے کشکول آگے کر دو، خیرات مل جائے تو پھر پلٹ کے منہ بھر گالی دو ’اے خیرات دتی اے بے غیرتا؟ آیندہ جو تیرے ول آواں تے اپنے پئیو دا نئیں۔‘ کم ازکم میں نے تو اپنے ہوش میں…
صنعتِ پتلا سازی کے پیداواری کمالات
مشکل یہ ہے کہ جتنی محنت اور لگن سے ایک نئی سیاسی جماعت یا کسی تازہ نجات دھندہ کا پتلا مارکیٹ میں لایا جاتا ہے، وہ دو، تین، چار برس تو خالق کا احسان مند رہتا ہے، پھر اس پتلے میں ڈالی جانے والی روح اپنے آزادانہ اظہار کے لیے انگڑائیاں لینا شروع کر دیتی…