ہم اور ہمارے بچے کیا کھا رہے ہیں؟
حالانکہ کھانا زندہ رہنے کے لیے کھایا جاتا ہے لیکن کبھی کبھی کھانا زندگی چھین بھی لیتا ہے۔ یہی بات سمجھانے کے لیے ہر برس کی طرح محفوظ خوراک کے فروغ کا عالمی دن سات جون منایا جا رہا ہے یہ درست ہے کہ رزق کا وعدہ اوپر والے نے کیا ہے۔ یہ بھی بجا…
بندہ مُک سکتا ہے، تمباکو نہیں
عالمی ادارہِ صحت کے تحت انیس سو ستاسی سے ہر سال اکتیس مئی کو یومِ نجاتِ تمباکو منایا جاتا ہے مقصد تمباکو کی پیداوار کے اثرات و متبادلات کے بارے میں آ گہی بڑھانا اور حکومتوں کو باور کرانا ہے کہ اگر وہ تمباکو پر دی جانے والی سبسڈی خوراک کی قلت میں کمی…
زندگی و موت کے فیصلے کرنے والے روبوٹس
میزائلوں سے تحفظ کے امریکی سسٹم پیٹریاٹ، اسرائیلی سسٹم آئرن ڈوم، چین کے بلو فش اے ٹو ڈرون، ٹینکوں کو میزائلوں اور راکٹوں سے بچانے والے روسی سسٹم ایرینا، اسرائیلی سسٹم ٹرافی اور جرمن سسٹم اماپ ایڈز میں کیا قدرِ مشترک ہے مصنوعی ذہانت سے مسلح یہ سب ہتھیار…
پی ٹی آئی سے میرا اعلانِ لاتعلقی
میں وسعت اللہ خان نو مئی کے وحشت ناک واقعات کی پُرزور مذمت کرتا ہوں۔ جو جو بھی ملوث ہے، اسے بلاامتیازِ طبقہ و جنس عبرت ناک سزا ملنی چاہیے تاکہ کسی کو مستقبل میں ایسے واقعات دہرانے کی جرأت نہ ہو حکومتِ وقت اور پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی بیدار مغز بہادر…
ہجوم کے نڈر ہونے کا وقت ہوا چاہتا ہے
کھلونوں کی دوکانوں! راستہ دو، میرے بچے گذرنا چاہتے ہیں۔۔ (نامعلوم) عاصم بارہ برس کا ہے۔ لاہور میں گلبرگ کے کاروباری علاقے میں پھیری لگاتا ہے۔ صبح دس بجے سے شام سات بجے تک وہ تمام مارکیٹوں کے اندر اور باہر گھومتا گھماتا چھوٹی موٹی چیزیں بیچ کے پانچ سے چھ…
جب روبوٹ ہاتھ سے نکل جائے؟
جس طرح سولہ دسمبر دو ہزار چودہ کے پشاور آرمی پبلک اسکول سانحے میں ڈیڑھ سو بچوں اور اساتذہ کی موت نے سولہ دسمبر انیس سو اکہتر کے سقوطِ ڈھاکہ کی تکلیف دہ یاد سے جان چھڑا دی اسی طرح نو مئی کو جی ایچ کیو پنڈی اور کور کمانڈر لاہور کی رہائش گاہ سمیت…
آج میں کس کی حمایت کروں؟
یا توان لوگوں کو ادراک نہیں کہ ہم کھائی میں گر چکے ہیں اور اپنا وزن اٹھانے کے لیے کرین اور اس کے کرائے کا انتظام بھی ہمیں خود ہی کرنا ہے۔ پھر گمان ہوتا ہے کہ جو ریاست اپنے ہی چڑیا گھر میں ایک ہاتھی (نور جہاں) کو ہی خشک تالاب سے اٹھا کے…
اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کا اصل مطلب
کل (بائیس مارچ) جنگلات کے تحفظ کا عالمی دن ہے۔ یہ دن دو ہزار بارہ سے منایا جاتا ہے اور اس کا مقصد یہ آگہی دینا ہے کہ اگر انسان اس کرہِ ارض سے ختم ہو بھی جائیں تو زمین کو کوئی فرق نہیں پڑے گا،لیکن جنگلات ختم ہو جائیں تو کچھ بھی نہیں بچے…