بھاگتے رہنا، ہمارے بھروسے نہ رہنا
پچھتر برس پہلے لاکھوں لوگ اپنی مٹی، گھر بار اور یادیں چھوڑ کے پاکستان آ رہے تھے۔آج انہی لاکھوں لوگوں کی تیسری چوتھی نسل ہر حربہ استعمال کر کے اپنے گھر بار اور یادیں چھوڑ کے یا تو پاکستان سے جا رہی ہے یا پہلی فرصت میں یہاں سے نکلنا چاہتی ہے پہلی نسل نے…
یہ کر دیں گے، وہ کر دیں گے
کسی کو یاد ہے کہ تیس جنوری کو اس ملک میں کیا ہوا تھا ؟ پشاور کی پولیس لائنز کی انتہائی سیکیورٹی والی مسجد کے اندر خود کش دھماکا ہوا تھا جس کے سبب ایک سو دو لوگ جاں بحق اور ڈھائی سو سے تین سو نمازی زخمی ہوئے۔مرنے اور زخمی ہونے والوں میں اکثریت…
جانِ من کہاں جا رہی ہو مجھے ڈسے بغیر؟
اس سے پہلے کہ پاکستانی حکومت 30 جنوری کے پشاور خود کش دھماکے کے ڈانڈے کابل سے ملاتی، افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے پشتو کا ایک محاورہ داغ دیا ’پاکستان اپنی چھت پر پڑی برف خود صاف کرے، ہماری چھت پر نہ پھینکے۔‘ اس بیان کے بعد پاکستانی دفترِ خارجہ نے…
حکومت کوئی بھی ہو، غیر محفوظ ہی ہوتی ہے!
مغربی بنگال والے کہتے ہیں کہ جو بنگال آج سوچ رہا ہے، وہ باقی بھارت کل سوچے گا۔اگر میں اس بات کو جنوبی ایشیا کی سطح پر جا کے دیکھوں تو بات کچھ یوں بنے گی کہ جو پاکستان کل کر چکا، وہ بھارت آج کر رہا ہے۔ مثلاً ہم نے پچھلے پچھتر برس میں…
اقتصادی مار اور ساتواں بیڑہ
جو پاکستانی اس وقت کم از کم 60 برس کے ہیں، انہیں شاید یاد ہو کہ 16 دسمبر 1971ء کو ڈھاکہ میں بھارتی فوج کے داخل ہونے سے لگ بھگ ایک ماہ قبل سرکاری خبرنامے کی اولین سرخی یہ ہوا کرتی تھی کہ امریکہ کے ساتویں بحری بیڑے کو خلیجِ بنگال جانے کا حکم ملا…
گزر آیا میں چل کے خود پر سے
ضمیر کسی نے نہیں دیکھا مگر ضمیر ہوتا ضرور ہے۔ یہ مطمئن بھی ہوتا ہے، بے چین بھی رہتا ہے، سو بھی جاتا ہے اور کبھی اچانک جاگ بھی پڑتا ہے۔ ضمیر انفرادی بھی ہوتا ہے اور اجتماعی بھی۔۔ جو مطمئن ضمیر ہے، وہ تو خیر ہے ہی مطمئن۔ مگر جو ضمیر پھانس بن کے…