وسعت اللہ خان کا تفصیلی انٹرویو۔ (قسط 4)
س: ہم بات کر رہے تھے کہ کاروباری سوچ کے نتیجے میں تحقیقاتی رپورٹنگ کہیں دفن ہو گئی اور چینل مالکان کی ترجیحات نے اصل کام کو پس منظر میں دھکیل دیا؟ ج: آپ دیکھیں بظاہر چینل 24 گھنٹے کا ہے، اس کو تین حصوں میں تقسیم کریں تو اصل پراڈکٹ 8 گھنٹے کی بنتی…
وسعت اللہ خان کا تفصیلی انٹرویو۔ (قسط2)
س: آپ نے والد محترم کا ذکر کیا کہ انہوں نے آپ کو کتابیں فراہم کیں، جس سے آپ کا پڑھنے کا ذوق بڑھا۔ والدہ کا آپ کی شخصیت سازی میں کیا کردار رہا۔ آپ کا ایک کالم بھی ’’ماں‘‘ کے حوالے سے بہت مقبول ہوا تھا، جسے اس موضوع پر معرکۃ الآرا تحریر قرار…
وسعت اللہ خان کا تفصیلی انٹرویو۔ (قسط 1)
نامور کالم نویس، منفرد تجزیہ کار، صحافی و دانش ور اور مقبول اینکر پرسن وسعت اللہ خان کی شخصیت کا احاطہ اگر مختصر ترین الفاظ میں کیا جائے تو وہ جملہ ہوگا ’’اپنی شرائط پر زیست کرنے والا انسان۔‘‘ رحیم یار خان کے ایک متوسط گھرانے میں جنم لینے والا خداداد…
غزہ کا پیاسا کتا اور آخری گھونٹ
اگست دو ہزار دس کے سیلاب میں افواہ اڑی کہ مظفر گڑھ شہر ڈوبنے والا ہے ۔چنانچہ ہزاروں کنبے گھروں سے نکل پڑے۔ میں نے دریاِ چناب کے پل پر انسانی سروں کا ویسا ہی ہجوم دیکھا، جیسے 1947 کی کوئی ہجرتی فلم دیکھ رہا ہوں۔ کسی بوڑھے کے سر پے گٹھڑ، کسی عورت کی…
شناختی کارڈ نمبر پچاس ہزار
جبر، گھٹن، غم و ابتلا انفرادی و اجتماعی انسانی المیوں کے اجزائے لازمی ہیں تو دوسری جانب یہی اجزا تخلیقی فصل کے لیے کھاد کا کام کرتے ہیں اور اس کھاد سے لمحہِ موجود کی قلم بند تاریخ اگتی ہے اور اس کی لہلہاہٹ اگلی نسل کو بھی پاؤں جمائے رکھنے کا حوصلہ دیتی…
میئر کے کان (پیرووین ادب سے منتخب افسانہ)
سولہویں صدی کے وسط میں پوٹوسی (بولیویا کا شہر) کا شاہی شہر مہم جُو لوگوں کے اجتماعات کے لئے موزوں ترین جگہ تھی۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ چاندی کی کانیں دریافت ہونے کے پانچ سال کے اندر یہاں کی آبادی بیس ہزار نفوس سے بڑھ چکی تھی۔ محاورہ ہے کہ…
ہماری آنکھوں پر بندھی غزہ کی ’پٹی‘ اور اسرائیل کے لیے بددعاؤں کے کنٹینرز۔۔
’’آپ اپنا دفاع بھلے مضبوطی سے کرنے کے قابل ہیں، مگر جب تک امریکا قائم ہے، آپ کو ہرگز فکرمند نہیں ہونا چاہیے۔ ہم ہمیشہ آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں (امریکی وزیرِ خارجہ انتنی بلنکن۔ تل ابیب۔ بارہ اکتوبر دو ہزار تئیس) حالانکہ دانتوں تک مسلح اسرائیل کے آگے…
یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
کسی کا اچانک غائب ہو جانا، یک دم کسی پریس کلب یا ٹی وی چینل پر نمودار ہو جانا، کمرہِ عدالت سے ضمانتی کاغذ لہراتے ہوئے باہر نکلتے ہی بنا نمبر پلیٹ کی کسی گاڑی میں ڈنڈہ ڈولی ہو کے اڑن چھو ہو جانا۔ ان میں سے کچھ بھی ہرگز ہرگز اب کوئی غیر معمولی…