ججوں کا خط اور ذوالفقار علی بھٹو کا ٹرائل
4 اپریل 1979ء کی صبح آج بھی میرے ذہن میں نقش ہے۔ میں علی الصبح اسکول جانے کے لیے بیدار ہوا تو میں نے دیکھا کہ میری والدہ کی آنکھیں سرخ ہیں۔ انہوں نے زبان سے کچھ نہیں کہا مگر میں سمجھ گیا کہ وہ ہو گیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ میری والدہ نے…
قیدی نمبر 1772 اور اس کے آخری 24 گھنٹے۔۔۔
یہ چار عشروں پرانا منظر ہے۔ ایک قیدی نقاہت کے باوجود سر اٹھائے، وقار کے ساتھ مسلح افراد کے جلو میں جیل کی نیم روشن راہ داریوں سے گزر رہا ہے۔ ایک قیدی، جو پاکستان کی سیاسی تاریخ کی سب سے بڑی اساطیر بننے والا ہے۔ یہ کہانی 18 مارچ 1978ء کو شروع ہوئی جب…