Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Judges-letter-and-trial-of-Zulfiqar-Ali-Bhutto
کالماہم ترینتازہ ترین

ججوں کا خط اور ذوالفقار علی بھٹو کا ٹرائل

By Akhtar Rasool
اپریل 4, 2024 5 Min Read
0

4 اپریل 1979ء کی صبح آج بھی میرے ذہن میں نقش ہے۔ میں علی الصبح اسکول جانے کے لیے بیدار ہوا تو میں نے دیکھا کہ میری والدہ کی آنکھیں سرخ ہیں۔ انہوں نے زبان سے کچھ نہیں کہا مگر میں سمجھ گیا کہ وہ ہو گیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ میری والدہ نے روتی ہوئی آنکھوں سے میرے اس خدشے کی تصدیق کی۔ ایک قابلِ نفرت فوجی حکومت کے ہاتھوں پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم کو پھانسی دی جا چکی تھی۔

ایسا ہونا مکمل طور پر حیران کُن تو نہیں تھا لیکن ہاں یہ ایک جھٹکا ضرور تھا۔ بہت سے پاکستانیوں کو آخری لمحات تک امید تھی کہ کوئی دوسرا راستہ نکل آئے گا۔ وہ تمام ممالک، جن کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات تھے، سب نے معافی کی اپیل کی۔ (یہ قابلِ ذکر ہے کہ انڈونیشیا کے سہارتو کی حکومت ان ممالک میں شامل نہیں تھی۔)

جنرل ضیاءالحق نے عالمی ممالک کی اپیلوں کو سیاستدانوں کی بین الاقوامی یونین کی جانب سے ایک اقدام سمجھ کر مسترد کر دیا۔ بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب ’ڈوٹرز آف ایسٹ‘ میں نوٹ کیا کہ سپریم کورٹ جس نے لاہور ہائی کورٹ کے سزائے موت کے حکم کو 3-4 سے برقرار رکھا تھا، اس نے بھی متفقہ طور پر سزا تبدیل کرنے کی سفارش کی تھی۔ لیکن ضیاءالحق نے ’مشکل راستہ‘ چننے سے انکار کر دیا۔ اس وقت وہ مان چکے تھے کہ کسی ایک کو تو موت کو گلے لگانا ہوگا پھر چاہے وہ خود ہوں یا ذوالفقار علی بھٹو۔ دوسرا انتخاب آسان نظر آیا اور یوں ان کی زندگی کی ڈور کاٹ دی گئی۔

یہ پاکستان کی وہ 45 سال پرانی وہ عبرتناک تاریخ ہے، جس نے حالیہ دنوں ایک نیا موڑ لیا ہے۔ ہم صرف تصور کرسکتے ہیں کہ جولائی 1977ء میں فوج مداخلت نہ کرتی اور ضیاالحق کے مارشل لا سے پہلے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نئے انتخابات پر اتفاق ہوجاتا تو کیا ہوتا۔

اس سے کسی کو انکار نہیں کہ 1971ء سے 1977ء تک ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں ایک ناقص جمہوریت رائج تھی۔ البتہ مارشل لا اٹھایا گیا تو اس وقت سامنے آنے والی ابتدائی علامات مثبت تھیں۔ یہاں تک یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ 1972ء وہ سنہرا سال تھا جس میں پاکستان نے دوبارہ جنم لیا۔ یہ حقیقت الگ ہے کہ اس میں پچھلے سال ہونے والے قتل عام کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جس کے نتیجے میں ہمارا دایاں بازو کٹ گیا اور بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا۔

1973ء میں بہت سی امیدیں ٹوٹ گئیں خاص طور پر جب نیشنل عوامی پارٹی (نعپ) کی بلوچستان اور سرحد کی حکومت کو برطرف کردیا گیا۔ اس وقت تک نہ صرف نیپ کے متعدد لیڈران کو الزامات لگا کر جیل میں ڈال دیا گیا تھا بلکہ خود پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) میں بائیں بازو کے نظریات کی طرف جھکاؤ رکھنے والے رہنماؤں کو کنارہ کش کردیا گیا، جبکہ ان کی جگہ جاگیردار اور ان وقتی ساتھیوں کو دے دی گئی جو 1977ء میں یا اس کے فوراً بعد پی پی پی کو چھوڑ کر چلے گئے۔

اگر فوج مداخلت نہ کرتی تو پاکستان کی ترقی کی رفتار کے بارے میں کوئی واضح طور پر نہیں بتاسکتا لیکن یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ عوامی حکومت کے تحت ہونے والی واپسی شاید ملک کے لیے کم نقصان دہ ہوتی۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ متعصب شخصیت کے مالک ضیاءالحق کو چیف آف آرمی اسٹاف بنانا ذوالفقار علی بھٹو کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ لیکن ضیاءالحق کے پیشرو جنرل ٹکا خان جنہیں ’بنگال کا قصائی‘ بھی کہا جاتا ہے، انہیں بلوچستان میں آپریشن کا ذمہ دار بنانا اس سے بھی بڑی بھول تھی۔

نیم فوجی ادارے پیرا ملٹری سیکیورٹی فورس کا قیام بھی غلط اقدام تھا جس کا ردعمل ہم نے اس وقت دیکھا جب مسعود محمود کی فرضی گواہی ممکنہ طور پر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے میں کلیدی ثابت ہوئی۔ یہ بیان کسی بھی طور پر سزائے موت دینے کے لیے کافی نہیں لیکن ضیاالحق اور لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق جنہوں نے پروموشن کی خاطر، اس فرضی بیان کی بنیاد پر ہی بھٹو کو سزائے موت دے دی۔

حالیہ دنوں میں چھ ججز کی جانب سے لگائے گئے مداخلت کے الزامات، ذوالفقار علی بھٹو کی سزا کے خلاف اپیل کی سپریم کورٹ میں ہونے والی پیش رفت کی یاد دلاتے ہیں۔ 1979ء-1978ء میں 9 رکنی بینچ جس سے توقع تھی کہ وہ 4-5 سے بھٹو کے حق میں فیصلہ دے گا اس بینچ کو کسی طرح دھوس دھمکیوں سے 7 ججز تک لایا گیا جس کے بعد توازن تبدیل ہوا اور پھر بھٹو کے خلاف 3-4 سے ججز کا فیصلہ سامنے آیا۔ جو ججز اس کے خلاف تھے انہوں نے تمام تر دھمکیوں اور دباؤ کے باوجود سزا کی مخالفت میں ہی فیصلہ دیا۔

گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے تاخیر سے دیے گئے اپنے فیصلے میں کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو شفاف ٹرائل کا موقع نہیں دیا گیا۔ یہ بات عوام تو طویل عرصے سے جانتے ہیں لیکن اب عدلیہ بھی اس کی معترف ہے۔ عدالت کے مشکوک فیصلے کو واپس نہیں لیا جاسکتا۔ البتہ انتہائی عجلت میں دی گئی یہ سزائے موت ملکی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی (لیکن انتہائی غیرمنصفانہ) قتل ایسی عمر میں ہوا جو انسان کے لیے سب سے اہم ہوتی ہے۔ وہ اپنی پھانسی کے وقت محض 51 برس کے تھے۔ ان کے چھوٹے بیٹے شاہ نواز کا 26 سال کی عمر میں انتقال ہوا، بڑے بیٹے میر مرتضٰی 42 جبکہ ان کی بیٹی محترمہ بےنظیر بھٹو کو 54 برس کی عمر میں قتل کردیا گیا۔

مسلم دنیا کے لیے یہ دھچکا تھا کیونکہ 50 سال قبل 1974ء میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کرنے والے اسلامی ممالک کے سربراہان میں سے ذوالفقار علی بھٹو وہ تیسرے لیڈر تھے جن کا یوں انتقال ہوا۔ جس سے قبل 1975ء میں سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فیصل اور بنگلہ دیش کے شیخ مجیب الرحمٰن قتل ہوچکے تھے۔ بعدازاں 1981ء میں مصر کے انور سادات اور پھر 30 سال بعد 2011ء میں لیبیا کے معمر قذافی کو قتل کیا گیا۔

تاہم بھٹو کے تناظر میں دیکھا جائے تو ان کے انتقال کے بعد پاکستانی قوم کی حالت مزید ابتر ہوئی ہے۔

بشکریہ روزنامہ ڈان۔
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

1977 martial law and zulfiqar ali bhutto1977 martial law and zulfiqar ali bhutto hangingmartial law and zulfiqar ali bhutto hangingpm zulfiqar ali bhuttozulfikar ali bhuttoZulfiqar Ali Bhuttozulfiqar ali bhutto and zia ul haqzulfiqar ali bhutto barsizulfiqar ali bhutto casezulfiqar ali bhutto father namezulfiqar ali bhutto hangingzulfiqar ali bhutto juniorzulfiqar ali bhutto quoteszulfiqar ali bhutto trialzulfiqar bhutto and zia ul haq
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Trip-to-Tharparkar-Jain-Temple-and-Heritage-Protection
Previous

تھرپارکر کے جین مندر اور وراثت کی حفاظت کا سفر

Who-was-the-first-Muslim-Azimullah-Khan-to-shout-Bharat-Mata-Ki-Jai
Next

سب سے پہلے ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگانے والے مسلمان عظیم اللہ خان کون تھے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme