Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

اب درخت کے پتوں سے آلودگی کی شدت کا اندازہ لگایا جائے گا

By Akhtar Rasool
ستمبر 18, 2020 2 Min Read
0

شہروں کے آلودہ ماحول میں دھویں کی آلودگی کی پیمائش کے لئے مہنگے اور حساس سینسر لگائے جاتے ہیں، لیکن اب خود درخت کے پتوں پر جمع ہونے والے مقناطیسی ذرات سے آلودگی کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔

تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی آف یوٹاہ کے ماہرین نے تجربات کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ خود درختوں کے پتے آلودگی کا سینسر بن سکتے ہیں۔

مایرین کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کے دھویں اور رکازی ایندھن جلنے کے بعد معمولی مقدار میں مقناطیسی ذرات خارج ہوتے ہیں، جو پتوں پر جمع ہو کر آلودگی کا ثبوت بنتے رہتے ہیں۔ اس طرح پتوں کو دیکھ کر اطراف کی ہوا اور فضا کے معیار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یوں درختوں کے پتوں پر جمع ہونے والے مقناطیسی ذرات شہری علاقوں میں ہوا کے معیار کی خبر دے سکتے ہیں۔

تاہم مقناطیسی ذرات اتنے باریک ہوتے ہیں کہ عام انسانی آنکھ سے ان کو دیکھ پانا ممکن نہیں  بلکہ انہیں ان حساس میگنیٹو میٹر سے ہی نوٹ کیا جاسکتا ہے، جو ماہرِ ارضیات مختلف تحقیقات میں استعمال کرتے ہیں

ماحولیاتی سائنسدانوں نے پائن (صنوبر) کے درخت کے نوکدار ابھار جمع کئے، جو یونیورسٹی آف یوٹاہ کیمپس کے احاطے میں لگے درختوں سے اتارے گئے تھے۔ ان میں سے تین درخت سڑک کنارے واقع تھے جہاں روزانہ ٹریفک گزرتا ہے جبکہ چوتھا درخت ٹریفک سے دور تھا۔ لیکن اس کا موازنہ اس دَور سے بھی کیا گیا جب روایتی آلات نے یوٹاہ میں ہوا کا معیار بہتر اور بدتر ثابت کیا تھا ۔

الیکٹرون مائیکرو سکوپی اور میگنیٹو میٹر کی بدولت تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ جو پتے فضائی آلودگی کے دَور میں لئے گیے تھے وہ صاف ہوا والی اوقات کے مقابلے میں مقناطیسی ذرات سے تین گنا زائد اٹے ہوئے تھے

دلچسپ بات یہ ہے سائنسدانوں نے آلودہ ترین مقامات والے درختوں کے پتوں سے ٹائٹانیئم، وینیڈیئم اور زرکونیئم جیسے عناصر بھی دیکھے جن کا تعلق براہِ راست گاڑیوں کی آلودگی سے ہوتا ہے۔

اسی تصور کو آگے بڑھاتے ہوئے ماہرین نے تھری ڈی پرنٹر سے صنوبر کے درخت کی ایک مصنوعی شاخ تیار کی جس پر صنوبر درخت کی طرح سوئیاں تھیں۔ اس آلے کے ذریعے وہ مزید تحقیق کرکے یہ جان سکیں گے کہ آیا ان پر بھی مقناطیسی ذرات جمع ہوسکتے ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ یہ مصنوعی آلہ برسات کی مقدار بھی نوٹ کرتا رہے گا۔

مصنوعی شاخ سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ آخر صنوبر کے اصلی درختوں پر بارش سے مقناطیسی ذرات دھل جاتے ہیں یا نہیں کیونکہ اس صورت میں تحقیقات اور نتیجہ اخذ کرنے میں غلطی ہوسکتی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ مصنوعی درخت کو باآسانی 250 ڈالر میں تیار کیا جاسکتا ہے یہ پورے ماحول اور فضائی کیفیات کا ریکارڈ مرتب کرسکتا ہے۔

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کورونا سے نمٹنے کے لیے 3 ارب 55 کروڑ سے زائد امداد ملی. وزارت خزانہ

Next

جاپان کا الٹرا وائلٹ سی روشنی سے کورونا وائرس کو ختم کرنے کا تجربہ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme