Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

دنیا کا طاقتور ترین مقناطیس جو طیارہ بردار بحری جہاز تک کو کھینچ سکتا ہے!

By Akhtar Rasool
ستمبر 14, 2021 2 Min Read
0

پیرس : امریکا میں تیار کیا گیا دنیا کا سب سے طاقتور مقناطیس ’’سینٹرل سولینوئیڈ‘‘ ایک طویل سفر کے بعد بالآخر فرانس میں اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ گیا ہے، جہاں اسے عالمی اشتراک سے بننے والے فیوژن ری ایکٹر یعنی ’’آئی ٹی ای آر‘‘ میں نصب کیا جائے گا

سینٹرل سولینوئیڈ کو امریکی ادارے ’’جنرل اٹامکس‘‘ نے کئی سال کی محنت سے تیار کیا ہے۔ یہ اتنا طاقتور ہے کہ ایک لاکھ ٹن وزنی، طیارہ بردار بحری جہاز تک کو اپنی مقناطیسی طاقت سے کھینچ سکتا ہے

یہ مقناطیس 14 فٹ چوڑا اور 60 فٹ اونچا ہے جو سپر موصل (سپر کنڈکٹر) مادّے استعمال کرتے ہوئے اتنی شدید مقناطیسی قوت پیدا کرسکتا ہے، جو مبینہ طور پر زمینی مقناطیسی میدان کے مقابلے میں 28000 گنا زیادہ ہے

فرانس میں پہنچ جانے کے بعد اسے ’’انٹرنیشنل تھرمونیوکلیئر ایکسپیریمنٹل ری ایکٹر‘‘ (ITER) کی سائٹ تک پہنچایا جائے گا، جہاں یہ فیوژن ری ایکشن سے تجارتی پیمانے پر بجلی بنانے کے اوّلین عالمی منصوبے کا حصہ بن جائے گا

واضح رہے کہ فیوژن ری ایکٹر، جسے ’’تھرمو نیوکلیئر ری ایکٹر‘‘ بھی کہتے ہیں، عین اسی اصول پر کام کرتا ہے جس پر نہ صرف سورج بلکہ کائنات کے تمام ستارے اربوں سال سے زبردست توانائی پیدا کر رہے ہیں

اس عمل میں ہائیڈروجن کے ایٹم آپس میں مل کر ہیلیم بناتے ہیں اور نتیجے میں زبردست توانائی خارج ہوتی ہے

پچھلے ستر سال سے جاری کوششوں کے باوجود، زمین پر اب تک ایسا کوئی ایٹمی ری ایکٹر (بجلی گھر) نہیں بنایا جاسکا جس میں فیوژن کا عمل قابو میں رکھتے ہوئے، تجارتی پیمانے پر توانائی پیدا کی جا سکے

آئی ٹی ای آر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو سابق سوویت یونین کے ’’ٹوکامیک ری ایکٹر‘‘ کا منطقی تسلسل بھی ہے

اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو امید ہے کہ ”آئی ٹی ای آر“ سے توانائی کی اوّلین تجرباتی پیداوار 2026ع تک شروع ہوجائے گی، تاہم اسے مکمل طور پر رُو بہ عمل ہونے میں مزید دس سال لگ جائیں گے اور یہ 2036ع تک ہی بھرپور پیداوار دینے کے قابل ہوسکے گا.

Tags:

Central solenoidFranceFusion reactorGeneral AtomicsITERUSA
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

اونٹ کے منہ میں زیرہ، حکومت کا آٹا، گھی، چینی اور دالوں پر کیش سبسڈی دینے کا اعلان

Next

پانچ گنا زیادہ بجلی محفوظ کرنے والی ”میٹھی“ بیٹری!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme