Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

یورپ : موسمی آفات نے چالیس برس میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ سے زائد لوگوں کی جانیں لیں، رپورٹ

By Akhtar Rasool
فروری 3, 2022 3 Min Read
0

کراچی – یورپ میں شدید موسم کے باعث آنے والی آفات گزشتہ چالیس برسوں میں ایک لاکھ سے زائد شہری ہلاک ہوئے جبکہ مختلف ممالک کو تقریباً پانچ سو ارب یورو کا نقصان اٹھانا پڑا ہے

یورپی ماحولیاتی ایجنسی (ای ای اے) کی جانب سے جمعرات کو شائع ہونے والی رپورٹ میں انفرادی اور ملکی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کی غرض سے اقدامات اٹھانے پر زور دیا ہے

ای ای اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ چالیس برسوں کے دوران یورپ میں سیلابوں اور شدید گرمی کی لہر سے ایک لاکھ بیالیس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ یورپی ممالک کو پانچ سو دس ارب یورو کا خطیر نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے

شدید موسم کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال میں سے تین فیصد واقعات اس قدر تباہ کن تھے کہ یہ سال 1980ع سے 2020ع کے درمیان ہونے والے 60 فیصد مالی نقصانات کا باعث بنے

جبکہ یورپ میں شدید گرمی کی لہر 91 فیصد افراد کی ہلاکتوں کا باعث بنی

سال 2003ع میں شدید گرمی کے باعث تقریباً اَسی ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے

ماحولیاتی ایجنسی کے مطابق سال 2003ع کے بعد بھی اسی نوعیت کی شدید گرمی کی لہر نے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا، لیکن ایئر کنڈیشن انسٹال کرنے کے علاوہ چند دیگر حفاظتی اقدامات کے باعث ہلاکتوں میں کمی واقع ہوئی ہے

ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائیزیشن کے اندازے کے مطابق گذشتہ پچاس سالوں میں دنیا بھر میں موسم کے باعث ہونے والی تباہیوں میں اضافہ ہوا ہے، جن سے تباہی زیادہ ہوئی لیکن کم اموات واقع ہوئیں

ای ای اے کا کہنا ہے کہ گذشتہ چالیس سالہ ڈیٹا کے جائزے سے سامنے آنے والی معلومات سے یہ نتیجہ اخذ کرنا ممکن نہیں، کہ موسمی تباہی کی وجہ ماحولیاتی تبدیلیاں ہیں

ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس عرصے کے دوران مختلف برسوں میں بے ترتیب نقصان دیکھنے میں آیا ہے، لہٰذا موسمیاتی واقعات کی وجوہات کا تعین نہیں کیا جا سکتا

موحولیاتی ایجنسی میں ماہر واؤٹر وینولے کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ موسم یا ماحول سے جڑے نقصانات ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث ہی رونما ہوئے

انہوں نے کہا کہ ’خشک سالی اور جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافے کی وجہ ماحولیاتی تبدیلی ہو سکتی ہے لیکن ژالہ باری کو ان تبدیلیوں سے جوڑنے کے خاطر خواہ شواہد موجود نہیں ہیں۔‘

گذشتہ چار دہائیوں میں موسمی واقعات کے باعث جرمنی نے دیگر یورپی ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔ اس دوران ایک سو سات ملین یورو کا نقصان ہوا جبکہ بیالیس ہزار جرمن شہری متاثر ہوئے

متاثر ہونے والا دوسرا بڑا ملک فرانس ہے، جہاں چھبیس ہزار سات سو افراد ہلاک، جبکہ ننانوے ارب یورو کا مالی نقصان ہوا

اس فہرست میں تیسرے نمبر پر اٹلی ہے، جہاں اکیس ہزار چھ سو افراد ہلاک ہوئے اور نوے ارب یورو کا نقصان اٹھانا پڑا

خیال رہے کہ زلزلوں اور آتش فشاں کے پھٹنے سے ہونے والے نقصانات کو اس رپورٹ میں نہیں شامل کیا گیا

علاوہ ازیں امریکی موسمیاتی ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 1980ع سے اب تک امریکا میں موسم اور ماحول سے جڑے تین سو دس تباہ کن واقعات پیش آئے، جن سے دو ہزار ایک سو پچپن ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا.

Tags:

EnvironmentEuropeGlaciersGlobal warming
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ڈجیٹل دور میں بھی اراضی کے رکارڈ کے لئے پٹواری نظام کو فوقیت حاصل

Next

”کاکروچ کی فارمنگ پر لوگوں نے مجھے پاگل سمجها، لیکن اس کاروبار نے میری قسمت بدل دی“

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme