Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

ایٹمی پلانٹ سے خارج ہونے والی گاما شعاعیں کیا ہوتی ہیں؟

By Akhtar Rasool
فروری 27, 2022 2 Min Read
0

کراچی – روس کے یوکرین پر حملے کے بعد وہاں موجود چرنوبل کے ایٹمی پاور پلانٹ کے تحفظ کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے

واضح رہے کہ روسی حملے کے دوسرے دن جمعے کو یوکرینی حکام نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو پیغام بھیجا کہ چرنوبل پر روسی افواج نے قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سے گاما شعاعوں کا اخراج بڑھ گیا ہے

یوکرین کی نیوکلیئر ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا کہ تابکاری قابل قبول حد سے زائد ہے، جبکہ موجودہ صورتحال میں اس کی وجہ معلوم کرنا مشکل ہے

تابکار گاما شعاعیں کیا ہیں؟

دنیا میں کئی ایسے تابکار عناصر ہیں، جن سے شعاعیں خارج ہوتی ہیں جو انسانی صحت کے لیے مضر ہیں۔ ایٹمی توانائی کے حصول کے لیے استعمال ہونے والے عنصر یورینیم سے تین اقسام کی شعاعیں خارج ہوتی ہیں۔ ان شعاعوں کو سائنسدانوں نے الفا، بِیٹا اور گاما کے نام دے رکھے ہیں

سائنسی علم فزکس کے مطابق الفا شعاعیں مثبت کی جانب چارج ہوتی ہیں اور کاغذ کی تہہ کو پار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں جبکہ بِیٹا شعاعیں منفی چارج کی حامل ہوتی ہیں جو کاغذ کے آر پار ہو جاتی ہیں، تاہم ایلومینیم کی سطح ان کو روک سکتی ہے۔
ان دونوں کے مقابلے میں خارج ہونے والی گاما شعاعیں انتہائی طاقتور اور تابکاری کی حامل ہیں جن کو ایلومینیم کی سطح بھی نہیں روک پاتی اور ان کو روکنے کے لیے سیسے کا استعمال کیا جاتا ہے

گاما شعاعیں انسانی جسم میں کینسر اور جینیاتی تبدیلیوں کا باعث بنتی ہیں اور زیادہ تابکاری سے متاثر ہونے کی صورت میں موت بھی واقع ہو سکتی ہے

امریکی سائنسی تحقیقاتی ایجنسی ناسا کے مطابق گاما شعاعوں کی طول موج یا ویو لینتھ نہایت کم ہوتی ہے اور برقی مقناطیسی سپیکٹرم میں کسی بھی لہر کی سب سے زیادہ توانائی کی حامل ہوتی ہیں

گاما شعاعیں کائنات میں سب سے زیادہ گرم اور توانائی بخش اشیا، جیسے نیوٹران ستارے اور پلسر، سپرنووا دھماکے اور بلیک ہولز کے ارد گرد پیدا ہوتی ہیں

ناسا کے مطابق زمین پر گاما شعاعیں جوہری دھماکوں، بجلی گرنے، اور تابکار سرگرمیوں سے پیدا ہوتی ہیں۔
آپٹیکل لائٹ اور ایکسرے کے برعکس گاما شعاعوں کا آئینے کی مدد سے پتا لگایا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کو منعکس کیا جا سکتا ہے

ناسا کی ایک رپورٹ کے مطابق گاما شعاع کی ویو لینتھ اتنی ہلکی یا چھوٹی ہے کہ وہ ایک ڈیٹیکٹر کے ایٹموں کے اندر موجود خلا سے گزر سکتی ہے۔
گاما شعاعوں کو دیکھنے کے لیے مخصوص ڈٹیکٹر ہیں جن میں عام طور پر گھنے پیک کرسٹل بلاکس ہوتے ہیں۔ جیسے ہی گاما شعاعیں وہاں سے گزرتی ہیں، وہ کرسٹل میں موجود الیکٹرانوں سے ٹکرا جاتی ہیں.

Tags:

Chernobyl nuclear plant
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کیا اب چین بھی تائیوان پر دھاوا بول دے گا؟

Next

ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ: جنہوں نے 1973ع کے آئین پر دستخط نہیں کیے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme