Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

مصر میں پارلیمنٹ نے انوکھا قانون پاس کر لیا

By Akhtar Rasool
جولائی 13, 2020 2 Min Read
0

"دھڑ بھیڑ کا اور سر بکرے کا” کے مصداق مصر کی پارلیمنٹ نے جمہوریت کے شجر میں عسکری پیوند کاری کو قانونی جواز بخش دیا اور فوج کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے حق میں ووٹ دے کر طاقت کے منبع کے طور پر مسلح افواج کی حیثیت کو مزید تقویت بخش دی ہے۔

جمہوری اقدار سے بھونڈا مذاق کرتے ہوئے مصر کی پارلیمنٹ نے حاضر سروس فوجی اہلکاروں کے صدراتی انتخابات میں حصہ لینے کا قانون پاس کرلیا ہے۔

یہ آئینی ترمین مصری پارلیمنٹ نے گزشتہ روز منظور کر لی ہے، جس کے بعد اب موجودہ یا سابق فوجی اہلکار صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہوں گے۔ پارلیمنٹ نے یہ قانون بھاری اکثریت سے ہاس کر لیا ہے۔

مذکورہ ترمیم کے لئے پارلیمنٹ نے جنگ کے دوران فوج کی مدد لینے کے لئے 1968 کے ایک قانون میں موجود "مقبول قوتوں” کے قیام کی شق کا سہارا لیا ہے.

اس نئے قانون کے بعد اب آرمی چیف صدر عبدالفتاح السیسی کو 2030 تک صدر برقرار رہنے کی اجازت بھی مل گئی ہے۔ السیسی کو ﺳﻨﮧ 2022 ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﭼﺎﺭ ﺳﺎﻟﮧ ﻣﺪﺕ ﮐﮯ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﭘﺮ اپنے عہدے سے سبکدوش ہونا ﺗﮭﺎ۔

ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﻨﮧ 2012 ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮ ﻣﯿﮟ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺮﺳﯽ ﻣﺼﺮ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﺻﺪﺭ بنے ﺗﮭﮯ، ﻟﯿﮑﻦ صرف ﺍﯾﮏ ہی ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ السیسی ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺎ ﺗﺨﺘﮧ ﺍﻟﭧ کر اقتدار پر قابض ہو گئے تھے. جس کے بعد ملک بھر میں عوامی احتجاج بھی شروع ہو گیا تھا لیکن فوج نے ہزاروں مظاہرین کو ہلاک کر کے اس احتجاج کو سختی سے کچل دیا تھا.

عوامی جمہوریہ بننے کے بعد سے مصر کے صرف دو صدور کے علاوہ باقی تمام فوجی پس منظر کے حامل رہے ہیں۔واضح رہے کہ مصر کی سیاست اور حکومت میں ہمیشہ فوج کا اثر رسوخ بہت زیادہ رہا ہے۔ مصر میں اس وقت سابق اعلیٰ فوجی افسران وزارتوں کے ساتھ گورنروں کے منصب پر بھی فائز ہیں.

Tags:

EgyptMarshal LawParliament
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

نسلی تعصب پر بات کرتے ہوئے مائیکل ہولڈنگ رو پڑے.

Next

دس ملین بچے شاید دوبارہ کبھی اسکول نہ لوٹ سکیں

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme