Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

نوکری سے پیار کرنا سیکھیں، زندگی غلامی ہے!

By Akhtar Rasool
جون 1, 2022 4 Min Read
0

”یار تیرے بھائی کو زندگی ایک موقع دے نا، لات مارے گا اس گھٹیا نوکری پہ اور دیکھنا، اس سے دس گنا زیادہ سیلری پہ کام کرے گا۔ ادھر تو سسٹم ہی خراب ہے، آنے کا ٹائم ہے، جانے کا وقت ہی کوئی نہیں“

ایسی باتیں ہم میں سے کئی لوگ روٹین میں کر رہے ہیں۔ مائنڈ اٹ! یہی ’گھٹیا‘ نوکری آپ کو اس وقت یاد آئے گی، جب خدا نہ کرے آپ کسی دن جاب لیس ہو گئے۔ ایک نوکری سے دوسری نوکری تک کا فاصلہ پاکستان میں اتنا طویل بھی ہو سکتا ہے کہ اس دوران دو حکومتیں آ کے گزر جائیں۔ ایسے میں دفتر کی ایک ایک بات یاد آتی ہے

آپ سوچتے ہیں کہ یار فلاں دن باس سے یوں نہ کہتا تو شاید بات نہ بگڑتی، ایکسپلینیشن والی ای میل پہ تھوڑا ہاتھ ہلکا رکھ لیتا، وہ جو اس دن کولیگ سے منہ ماری ہوئی تھی، میں خود ہی چپ کر جاتا… اور یہ سوچیں تب تک آپ جیب میں لے کر گھومتے رہتے ہیں، جب تک اگلی نوکری سے منتقل ہونے والی تنخواہ ان سوچوں کی جگہ نہیں لے لیتی

انسان مگر نام اسی کا ہے۔ اگلے دفتر جا کے بھی آپ بھول بھال جاتے ہیں اپنی ساری توباؤں کو، اور پھر اسی ٹریک پہ سفر شروع ہو جاتا ہے

بندہ یہ باتیں کیوں کرے؟ آپ تو آزاد ہیں، آزادی مانگنے والی قوم کو غلامی کیوں سکھائی جائے؟ اس لیے کہ نوکری غلامی ہی کا نام ہے!

نوکری غلامی ہے تو کاروبار آزادی ہوگا؟ وہ بھی غلامی ہے۔ جو کام آپ پیسہ کمانے کے لیے کرتے ہیں یا اس سے کوئی بھی فائدے کی امید لگاتے ہیں تو وہ استاد جی! ہے غلامی ہی۔۔۔ نام جو مرضی دے دیں۔ دنیا خیر نری غلامی ہے کیوں کہ مہذب زندگی اس کے بغیر ممکن نہیں، باقی سب باتیں ہیں، نری باتیں!

پیسے کم ملتے ہیں، گزارہ نہیں ہوتا، اوپر والوں کا رویہ ٹھیک نہیں، سارے اسٹاف کو شکایتیں ہیں۔۔۔ یہ سب کیڑے سال چھ ماہ بعد آپ کو ہر جاب میں نظر آئیں گے لیکن یاد رکھیں جاب چھوڑنے کے بعد اپنے مسائل سے نمٹنے والے بھی اکیلے آپ ہوں گے۔ اسٹاف نہیں آئے گا، جو آپ کے ساتھ مل کر یہ سب گاسپ کرتا تھا!

اجتماعی استعفے اتنے ہی نایاب ہیں، جتنی اجتماعی خودکشیاں!

پیر پھنسا کے رکھیں، جاب سوئچنگ ہر انسان کا حق ہے لیکن اگلا اپائنٹمنٹ لیٹر ہاتھ میں آنے سے پہلے پچھلی نوکری کو لات مت ماریں۔ آپ کے پاس دو سال گھر چلانے جتنی بچت موجود ہو پھر بھی ایسا مت کریں۔ کام انسان کو چلاتا ہے، انسان کام کو نہیں چلاتا، یہ ہم سب کی غلط فہمی ہے کہ ہمارے بعد ہماری قدر کی جائے گی، بابا جی کا۔۔۔ آہو!

دوسری بات یہ کہ اگر بہت زیادہ زور سے نوکری تنگ کر رہی ہے تو ایک آدھ ہفتے کی چھٹی لے کے گھر بیٹھ جائیں۔ ساتویں دن کی تیاری پانچویں دن سے شروع نہ کر دی تو نام بدل لیجے گا اپنا! بھائی بے کاری، فرصت، وقت، فراغت اور مہمان، یہ سب تیسرے دن سے برداشت ہونا ختم ہو جاتے ہیں۔ تین سال کی عمر سے آپ اسکول میں داخل ہوئے اور تب سے آج تک ایک سلسلہ چل رہا ہے صبح اٹھ کے گھر سے باہر نکلنے کا، کتنے دن بے مقصد بیٹھ سکتے ہیں؟

کرونا یاد ہے؟ کیسے نوکریوں کے لالے پڑے تھے؟ دو سال ایک پاجامے اور تین قمیصوں میں گزار کے بھی سکون نئیں آیا؟

ہم لوگوں کو اپنے ٹیلنٹ پہ حد سے زیادہ بھروسہ ہے۔ خواہ مخواہ اڑتی ہوئی موٹیویشن پکڑ کے رکھ لیتے ہیں اور اس کے بل پہ ہمیں لگتا ہے اللہ میاں نے ہمیں کوئی بہت ہی خاص کام کے لیے دنیا میں اتارا ہے، یہ چھوٹی موٹی نوکریاں بس ہمارا وقت ضائع کرنے کے لیے ہیں۔ بھائی جان، خاص کام اگر کوئی ہوگا تو اپنے وقت پہ ہو بھی جائے گا، اس کے چکر میں اپنا آج تباہ مت کریں۔ جو بھی کام کرتے ہیں، پوری توجہ سے کر لیں گے تو اسی میں خاص ہونے کا رتبہ بھی مل جائے گا!

دنیا بے شک تجربہ گاہ ہے لیکن ہر بار آپ ہی نے سبجیکٹ کیوں بننا ہے؟ دوسرے کو روسٹ ہوتے دیکھنے کے باوجود اسی سیخ کی طرف کیوں لپکتے ہیں؟ انسان بے شک خسارے میں ہے!

آخر میں ایک ضروری مشورہ لیتے جائیں اور کونے میں پھینک دیں ایز یوژل۔ جب دن رات یہی سوچیں گے کہ آپ تنگ ہیں تو خودبخود تنگ ہونا شروع بھی ہو جائیں گے۔ اچھے کام میں بھی آپ کو سازش نظر آئے گی، دنیا اپنے خلاف لگے گی اور پانی پہ بھی زہر کا گمان ہوگا۔ اگر نوکری کو نوکری سمجھ کے کریں گے، گھر آ کے اسے بھول جائیں گے اور آس پاس والوں کو اپنا ٹیلنٹ ضائع ہونے کی دہائی نئیں دیں گے تو یقین کریں ’ٹیلنٹ‘ بچے نہ بچے، آپ اور آپ کی نوکری بہرحال بچ جائیں گے

غلط وقت پہ چھوڑی گئی نوکری ہزاروں میں سے ایک بندے کو کامیاب کرتی ہے اور اسی ایک کی کہانیاں سنا سنا کر اگلے ہزار ہا بندے اچھلنا شروع کر دیتے ہیں.

بشکریہ: انڈپینڈنٹ

Tags:

Hassnain Jamal
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سر ویوین رچرڈز، کرکٹ کی دنیا کا بے رحم بلے باز

Next

عظیم ترین ناول

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme