Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

بھوک، غصے اور چڑچڑے پن کا آپس میں کیا تعلق ہے؟

By Akhtar Rasool
جولائی 10, 2022 2 Min Read
0

محققین کو بھوک اور غصے کے درمیان پائے جانے والے ایک تعلق یا ربط کے بارے میں پتہ چلا ہے۔ اس ربط کو ’ہینگری‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

اس رپورٹ میں بھوک اور منفی جذبات کے درمیان کیا تعلق کے بارے میں جاننے کی کوشش کی گئی ہے

اسی حوالے سے حال ہی میں ”پولز ون‘‘ نامی جریدے میں بھوک اور منفی جذبات کے درمیان تعلق کے جائزے پر مبنی ایک رپورٹ شائع کی گئی ہے

بھوک اور غصے کے درمیان تعلق کو طویل عرصے سے بول چال کی انگریزی اصطلاح ”ہینگری‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح یا لفظ “ہنگر اور اینگری‘‘ (بھوک اور غصہ) کا مرکب ہے

اس تحقیق میں بھوک، غصے اور چڑچڑے پن کے احساسات کے درمیان ایک ربط پایا گیا ہے اور اس طرح اصطلاح ”ہینگری‘‘ کی ساکھ بھی مزید قابل اعتبار ہو گئی ہے

اس تحقیق میں وسطی یورپ سے تعلق رکھنے والے چونسٹھ شرکاء کی جذباتی کیفیات کا جائزہ لیا گیا ہے

اکیس روز تک اس تحقیق میں شامل افراد کی پانچ کیفیات کی نگرانی کی گئی۔ یہ کیفیات بھوک، غصہ، چڑچڑاپن، خوشی اور جوش تھیں

اس مطالعے سے پتا چلا کہ بھوک میں خوشی کے جذبات کے برعکس غصے اور چڑچڑے پن کے جذبات میں اضافہ ہو جاتا ہے

محققین کے مطابق، ”یہ نتائج اس بات کا ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ روز مرہ زندگی میں بھوک منفی جذبات سے جُڑی ہوئی ہے‘‘

بھوک اور چڑچڑے پن کے درمیان تعلق کس طرح قائم ہوتا ہے اور جسمانی ہارمونز اس حالت میں کیسے کام کرتے ہیں، اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے

تاہم مطالعہ کے مصنف ویرن سوامی کہتے ہیں ”اس کی ایک ممکنہ وضاحت یہ ہو سکتی ہے کہ خون میں شوگر کی کمی کے بعد دماغ میں جذبات کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے‘‘

ایک اور امکان یہ بھی ہے کہ جب بھوک لگی ہو تو انسان بیرونی عوامل پر مختلف ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور وہ جلدی پریشان ہو جاتے ہیں

محققین کے مطابق، ”اس صورتحال کے ذمہ دار مذکورہ دونوں عناصر بھی ہو سکتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھوک کے دوران غصے کی کیفیات آنے میں نفسیاتی عوامل زیادہ کردار ادا کرتے ہیں

تاہم کئی دوسرے محققین بھوک اور غصے کے درمیان پائے جانے والے تعلق کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ جرمنی کی فُولڈا یونیورسٹی میں نیوٹریشن اور ہیلتھ سائیکالوجی کے پروفیسر یوہان کرسٹوف کلوٹیر نے اس تحقیق کی اہمیت پر شکوک کا اظہار کیا ہے

پروفیسر کلوٹیر نے نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا ”جب بھوک اور غصے کے درمیان تعلق کی بات آتی ہے تو ’وجہ اور اثر‘ کو الگ نہیں کیا جا سکتا اور یہ بھوک بذات خود غصے کا مظہر ہو سکتی ہے“

Tags:

angerHungerirritability
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ہیپاٹائٹس اے وائرس کے طریقہ واردات کا بنیادی راز افشا

Next

چوبیس لاکھ تنخواہ حکومت کو واپس کرنے کے دعوے دار ٹیچر کے اکاؤنٹ سے ہزار روپے بھی نہ نکلے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme