Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

کووڈ ویکسین تیار، 90 فیصد تحفظ فراہمی کا دعویٰ، روس نے بھی ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ کر دیا

By Akhtar Rasool
نومبر 10, 2020 3 Min Read
0

دنیا بھر میں نظام زندگی کو درہم برہم کرنے والے کورونا وائرس کے خلاف ایک ایسی موثر ویکسین تیار کر لی گئی ہے جس کے ابتدائی تجرباتی نتائج کے بعد دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ نوے فیصد لوگوں کو کووڈ کی لپیٹ میں آنے سے بچا سکتی ہے

یہ ویکسین تجرباتی سطح پر چھ ملکوں میں 43500 لوگوں پر استعمال کی گئی اور اس کے بارے میں اب تک کوئی شکایت سامنے نہیں آئی ہے

مشترکہ طور پر یہ ویکسین تیار کرنے والی دو بین الاقوامی دوا ساز کمپنیوں فائزر اور بائوٹیک کا ارادہ ہے کہ وہ اس ویکسین کی منظوری ہنگامی بنیادوں پر حاصل کریں تاکہ اس ماہ کے آخری تک اس کا استعمال شروع کیا جا سکے

واضح رہے کہ اس وقت دنیا بھر میں ایک درجن سے زیادہ ویکسینوں پر کام ہو رہا ہے جو کہ تجربات کے تیسرے اور آخری مرحلے میں ہیں لیکن یہ پہلی ویکسین ہے جس کے نتائج سامنے آئے ہیں

ماہرین کے مطابق اس ویکسین کی تیاری میں جو طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے اس میں وائرس کے جنیاتی کوڈ کو خون میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ انسانی جسم کے مدافعاتی نظام کو اس سے نمٹنے کے لیے تربیت دی جا سکے

پہلے تجربات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ویکسین جسم کو اینٹی باڈیز تیار کرنے میں مدد کرتی ہے اور مدافعتی نظام کا ایک اور حصہ جسے ٹی سیل کہا جاتا ہے وہ کورونا وائرس کو ختم کرتا ہے

تین ہفتوں کے وقفے سے اس ویکسین کی دو خوراکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ تجرباتی مرحلے میں امریکہ، جرمنی، برازیل، ارجنٹینا، جنوبی افریقہ اور ترکی میں اس کے استعمال سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اس ویکسین کی دوسری خوراک کے سات دن بعد نوے فیصد لوگوں کو اس وائرس سے محفوظ کر لیا گیا۔

فائزر کو یقین ہے کہ وہ اس سال کے آخر تک پانچ کروڑ خوراکیں تیار کر سکتی ہے اور سنہ 2021 کے اختتام تک ایک ارب تیس کروڑ خوارکیں دستیاب کر دے گی۔

تاہم اس ویکسین کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں کیونکہ اس ویکسین کو انتہائی کم درجہ حرارت یعنی منفی 80 سینٹی گریڈ پر رکھا جانا ضروری ہے۔

اس کے علاوہ ایک اور سوال کا جواب تلاش کرنا ابھی باقی ہے کہ اس ویکسین کا اثر کتنے عرصے تک رہتا ہے اور اس کو بنانے والی کمپنیوں نے مختلف عمر کے افراد میں اس کے موثر ہونے کے بارے میں بھی کوئی اعداد و شمار پیش نہیں کیے ہیں۔

فائزر کمپنی کے چیئرمین ڈاکٹر ایلبرٹ بورلا کا کہنا ہے کہ ‘وہ بڑی حد تک اس ہدف کو حاصل کرنے کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ دنیا بھر کے لوگوں کو ایسی دریافت فراہم کر دی جائے جس سے صحت کے اس عالمی بحران پر قابو پانے میں مل سکے۔

بائیو ٹیک کمپنی کے شریک بانی پروفیسر اوگر ساہن نے ان نتائج کو ایک سنگ میل سے تعبیر کیا۔ یہ ڈیٹا جو اب تک حاصل ہوا ہے وہ حتمی تجزیہ نہیں ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ نومبر کے آخری ہفتے تک تفصیلی نتائج سامنے آ جائیں گے جن کی بنیاد پر وہ ویکسین کو منظوری کے لیے متعلقہ حکام کے سامنے رکھ سکتے ہیں

اس وقت تک مختلف ممالک ویکسین کے استعمال کے لیے اپنی حکمت عملی تیار کر سکتے ہیں۔ برطانیہ نے پہلے ہی چار کروڑ خواراکوں کا آڈر کر دیا ہے جو کہ دو کروڑ افراد کے لیے کافی ہوں گی

دوسری جانب امریکی اور جرمن کمپنی کے اعلان کے بعد روس نے بھی 90 فیصد مثبت نتائج کی حامل ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق روسی وزارت صحت کے ترجمان نے پیر کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کے انسداد کے لیے تیار کی گئی اس کی ویکسین ’’سپوتنک وی‘‘ مرض کے خلاف 90 فیصد سے زائد موثر ہے، ویکسین کو ہرطرح سے آزمایا گیا ہے اور اسے مؤثر پایا گیا ہے

وزارت صحت کے ماتحت ایک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر اوکسانہ ڈراپکینا نے کہا ہے کہ ہم ویکسی نیشن پروگرام میں شامل لوگوں پر سپوتنک وی ویکسین کے پڑنے والے اثرات کی مانیٹرنگ کے ذمہ دار ہیں.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ﺁﺭﻣﯽ ﭼﯿﻒ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﺁﺋﯽ ﺟﯽ ﺳﻨﺪﮪ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﺤﻘﯿﻘﺎﺕ ﻣﮑﻤﻞ، رینجرز اور آئی ایس آئی افسران ذمہ دار قرار

Next

یہ تو ہوگا! ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme