Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

بلوچستان: امداد کے منتظر سیلابی پانی میں محصور بلوچ دیہاتی اور مسافر

By Akhtar Rasool
جولائی 28, 2022 5 Min Read
0

بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے علاقے اوڑکی سے تعلق رکھنے والے خیر محمد بلوچ پیر کے روز 2 بجے سے اپنے خاندان کی خواتین اور بچوں سمیت سیلابی ریلے میں پھنسے ہوئے ہیں اور 48 گھنٹے سے زیادہ وقت گزر جانے کے باوجود تاحال امداد کے منتظر ہیں

خیر محمد نے اپیل کرتے ہوئے کہا ”خدارا ہمیں کھانے پینے کی اشیا فراہم کی جائیں۔ اگر سرکاری سطح پر فراہمی ممکن نہیں تو ہم خود پیسہ دینے کے لیے بھی تیار ہیں“

واضح رہے کہ بلوچستان میں حالیہ شدید اور مسلسل بارشوں سے خضدار، لسبیلہ اور جھل مگسی سمیت آس پاس کے علاقوں میں سیلابی صورتحال ہے۔ لسبیلہ کو سب سے زیادہ سنگین صورتحال کا سامنا ہے، جہاں کئی دیہی علاقے اس وقت پانی میں گھرے ہوئے ہیں

پیر سے متعدد وڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر ہو رہی ہیں، جن میں پھنسے ہوئے لوگ مدد کی اپیل کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں

ایسی ہی ایک وڈیو میں ایک خاندان جس میں خواتین اور نوعمر بچے بھی شامل ہیں اپنی جھگی کی چھت پر بیٹھا ہے اور خاندان کے سربراہ قرآن مجید اٹھائے مدد کی اپیل کر رہے ہیں

حکومت کی جانب سے ہیلی کاپٹر سے ریسکیو آپریشن کا اعلان کیا گیا، تاہم بدھ تک یہ شروع نہیں ہو سکا تھا

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق خیر محمد بلوچ نے فون پر بتایا ”اوڑکی کے علاقے میں ان کے خاندان کے سو کے قریب لوگ سیلابی ریلے کے باعث پھنسے ہوئے ہیں اور سیلابی پانی کی وجہ سے ان کے لیے نکلنا ممکن نہیں“

وہ پیر کے روز دوپہر دو بجے کے قریب سیلابی ریلے میں پھنس گئے تھے، جس میں نہ صرف ان کے گھر اور جھگیاں زیر آب آ گئیں بلکہ کھانے پینے کی اشیا بھی پانی کی نظر ہو گئیں

انہوں نے تشویشناک صورتحال کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا ”ہمارے خاندان کے لوگوں کے پاؤں ایک سڑک کی وجہ سے پھر بھی زمین پر ٹکے ہیں، لیکن کچھ فاصلے پر لوگ پانی سے بچنے کے لیے درختوں پر چڑھے ہوئے ہیں“

بیلہ کے رہائشی عاصم لاسی کا کہنا ہے ”شہ ندی کی صورتحال سنگین ہے، یہاں سے یہ سارا پانی اوڑکی کی طرف جاتا ہے۔ وہاں سینکڑوں لوگ پھنسے ہوئے ہیں، جن سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا۔ کل جب موبائل نیٹ ورک کام کر رہا تھا تو متاثرین رابطے میں تھے۔ اس وقت تو نیٹ ورک بھی کام نہیں کر رہا“

غلام علی لاسی نے بتایا کہ پچاس سے ساٹھ لوگوں کو وہ اپنی مدد آپ کے تحت باہر لائے ہیں۔ بعض مقامی لوگ سیلابی ریلے میں اُترے اور رسے باندھ کر لوگوں کو باہر نکال کر لائے۔ جبکہ حکومت کی طرف سے کوئی ریسکیو ٹیم نہیں آئی

رپورٹ کے مطابق سیلاب سے رابطہ سڑکیں شدید متاثر ہوئی ہیں، جن سے کیچ، گوادر، لسبیلہ، جھل مگسی اور کچھی میں نہ صرف متعدد علاقوں کے رابطے، ایک دوسرے سے سڑکوں اور پلوں کو پہنچنے والے نقصان کے باعث منقطع ہو گئے، بلکہ ضلع لسبیلہ میں سیلابی ریلوں کی وجہ سے بلوچستان کا کراچی سے بھی زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے

دوسری جانب کراچی سے کوئٹہ اور گوادر و تربت جانے والی آمد و رفت گذشتہ کئی گھنٹوں سے معطل ہے

حب سے صحافی اسماعیل ساسولی کے مطابق، حب دریا کے پُل کے چار پِلر گر گئے ہیں جس کی وجہ سے کراچی اور حب میں آمدورفت متاثر ہے، اس کے علاوہ گڈانی کے مقام پر باگڑی ندی اور اوتھل کے مقام پر لنڈا پل سیلابی پانی سے متاثر ہیں

آر سی ڈی روڈ، اوتھل اور بیلہ کے درمیان چھ کلومیٹر تک زیر آب آگئی ہے، جس کے باعث بیلہ اور دوسری طرف خضدار جانے والی ٹریفک معطل ہے۔ اسی طرح ہنگول ندی میں بھی تغیانی ہے جس سے کوسٹل ہائے وے زیر آب آ گئی اور گوادر اور تربت اس وقت زمینی راستے سے منقطع ہیں

خضدار رتو دیرو سی پیک سڑک بھی بارشوں سے محفوظ نہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر خضدار کے مطابق سڑک کو بحال کرنے میں ایک ہفتے سے زیادہ وقت درکار ہوگا

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی سے بلوچستان کے دیگر علاقوں کی طرف جانے والی کوچوں، کاروں کے مسافر اور گڈز ٹرانسپورٹر اس وقت اوتھل، خضدار اور ھنگول میں پھنسے ہوئے ہیں، جن کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ ان علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا بھی ختم ہو چکی ہیں

نور خان کوئٹہ سے آ رہے ہیں اور بیلہ کے مقام پر پھنس گئے۔ دو روز وہاں گزار اب اپنی مدد آپ کے تحت یہاں پہنچ چکے ہیں

انہوں نے بتایا ’راستے میں نہ کھانے اور نہ پینے کی سہولت موجود تھی۔ کچھ بسیں تو واپس کوئٹہ روانہ ہو رہی تھی سینکڑوں لوگ وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔‘

عثمان بلوچ پنجگور سے آ رہے ہیں۔ انہیں بیلہ پہنچنے میں چار دن لگ گئے ہیں۔ بیلہ میں راستہ بند تھا

انہوں نے چار پانچ آٹو رکشے اور گاڑیاں تبدیل کیں اور یہاں تک پہنچے ہیں۔ اس کے لیے انہیں پانی میں بھی چلنا پڑا تاہم انتظامیہ کی جانب سے کوئی مدد نہیں ہو رہی ہے

کوئٹہ سے کوچ میں کراچی آنے والے چوہدری الیاس کا کہنا تھا کہ ’ڈی سی بیلہ نے وعدہ کیا تھا کہ کوئیک ریسپانس ہو گا لیکن کچھ نہیں ہوا۔ کم از کم واپس کوئٹہ تو لے کر جائیں۔‘

انہوں نے ایک بچے کو دیکھتے ہوئے کہا کہ کیا ہمارا فرض نہیں کہ اس بچے کو کچھ کھانے پینے کے لیے دے سکیں

’ان کی والدہ وہاں بیٹھیں ہیں۔ یہاں ایسے سینکڑوں بچے اور خواتین زمین پر بیٹھ کر رات گزار رہے ہیں۔‘

بلوچستان کے چونتیس اضلاع میں سے اکثر میں طوفانی بارشوں سے جانی اور مالی نقصان ہوا ہے

قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کی جانب سے 26 جولائی تک جاری کیے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق 13 جون سے اب تک بارش اور سیلابی ریلوں سے مجموعی طور پر ایک سو پانچ لوگ ہلاک ہوئے، جن میں اکتالیس مرد، تیس خواتین اور چونتیس بچے شامل ہیں

اس عرصے میں چھ ہزار گھر مکمل اور جزوی طور پر متاثر ہوئے جبکہ دو لاکھ ایکڑ اراضی پر فصلوں کو بھی نقصان پہنچا

بلوچستان حکومت کے ترجمان فرح عظیم شاہ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ لسبیلہ میں لوگوں کو ریسکیو کرنے اور ان کو ریلیف کی فراہمی کے لیے نہ صرف آرمی کے ہیلی کاپٹر استعمال کیے جا رہے ہیں بلکہ وزیر اعلیٰ نے حکومت بلوچستان کے طیارے کو بھی اس مقصد کے لیے حوالے کیا ہے

ان کے بقول، ساری انتظامیہ، فوج اور ایف سی کے اہلکار لوگوں کو ریسکیو کرنے اور انھیں ریلیف کی فراہمی میں لگے ہوئے ہیں اور ہر جگہ پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں

ترجمان بلوچستان حکومت کے مطابق ’موسم کی وجہ سے تھوڑی بہت تاخیر ہو سکتی ہے لیکن امدادی ٹیمیں ہر فرد تک پہنچیں گی اور کسی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔‘

Tags:

Baloch PeopleBalochistanDeathsHeavy RainHouse DamagesInfrastructure DamagedUrban floodUrban Flooding
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

زمبابوے نے مقامی کرنسی کی قدر میں کمی کے بعد سونے کے سکے متعارف کرا دیے

Next

چین کا بے قابو راکٹ: زمین پرکہیں بھی گر سکتا ہے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme