Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

’پتھر‘ کا عجیب و غریب پودا، جسے تلاش کرنا بہت مشکل ہے

By Akhtar Rasool
اگست 7, 2022 3 Min Read
0

کیا کوئی پتھر جاندار بھی ہو سکتا ہے؟ کیا آپ نے اس کے بارے میں سنا ہے، جسے ’زندہ پتھر‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کوئی افسانوی کہانی نہیں

جی ہاں، ’لیتھوپس‘ Lithops نامی پودے کو ’کنکریوں والا پودا‘ یا ’زندہ پتھر‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ رسدار پودا قدرتی طور پر چھوٹے چھوٹے ‘پتھروں‘ کے اندر چھپا ہوتا ہے تاکہ کوئی اسے کھا نہ سکے

افریقہ کے جنوبی علاقوں میں پائے جانے والے لیتھوپس کے پودوں کو بنیادی طور پر ‘کیموفلاج پلانٹس‘ قرار دیا جاتا ہے، جو عام نظر میں صرف پتھر جیسے ہی معلوم ہوتے ہیں

چونکہ ان پودوں کے بیرونی حصے کی مشابہت پتھر سے ہوتی ہے، اس لیے انہیں لیتھوپس کہا جاتا ہے۔ یہ نام یونانی زبان کے لفظ ‘لیتھوس‘ اور ‘اوپسیس‘ سے ماخوذ ہے۔ یونانی زبان میں لیتھوس کا مطلب ‘پتھر‘ جبکہ اوپسیس کا ‘مشابہت‘ کے ہیں۔ یعنی پتھر جیسا پودا

اس چھوٹے سے پتھر نما پودے کے دو پتے اور ایک انتہائی چھوٹا سا نہ نظر آنے والا تنا ہوتا ہے۔ اس کے پتے اور تنا زمین کے اندر ہی ہوتے ہیں جبکہ اس کا پتھر نما اوپری حصہ ظاہر ہوتا ہے۔ اس پودے کی جِلد یا کھال اس قدر سخت ہوتی ہے کہ کوئی بھی کیڑا اسے کھا نہیں سکتا

اس انتہائی چھوٹے پودے کی بقاء کا راز ماحول سے مطابقت بھی قرار دیا جاتا ہے۔ یہ پودا چونکہ بیرونی طور پر پتھر کی طرح سخت ہوتا ہے، اس لیے سخت موسم کے علاوہ کیڑے مکوڑے بھی اسے نقصان نہیں پہنچا سکتے

یہ اس طرح نشوونما پاتے ہیں کہ ایک ہی پودا پتھروں کے متعدد جوڑوں کی طرح دیکھائی دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ لیتھوپس کو ڈھونڈنے کی خاطر ماہر آنکھ کی ضرورت ہوتی ہے

برطانوی ماہر نباتات ولیم جان برچیل نے سن 1811ع میں اس پودے کو دریافت کیا تھا۔ تب سے اس پودے کی متعدد اقسام دریافت کی جا چکی ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے نئی دریافت سن 2006ع میں ہوئی تھی

اب تک لیتھوپس کی مختلف رنگوں اور شکلوں والی 37 اقسام اور 145 انواع دریافت کی جا چکی ہیں۔ کچھ تو دیکھنے میں بالکل چھوٹی چھوٹی کنکریاں ہی معلوم ہوتی ہیں

لیتھوپس کی ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ انتہائی کم یا پانی کی عدم موجودگی میں بھی زندہ رہ سکتا ہے۔ ماہر حیاتیات کے مطابق یہ انتہائی سخت حالات میں بھی پچاس برس تک زندہ رہ سکتا ہے

اس کا تنا زیرِ زمین ہوتا ہے، جبکہ جڑیں کافی لمبی ہوتی ہیں، جو نہایت آہستگی سے بڑھتی ہیں جبکہ اس کو مکمل طور پر کِھلنے میں تین برس کا عرصہ لگتا ہے

جب اندھیرا ہوتا ہے تو اس کے پتے پودے کو ڈھانپ دیتے ہیں تاکہ پانی ضائع نہ ہو۔ اس کی اسی قابلیت کی وجہ سے یہ پودا اپنے اندر پانی جمع کر لیتا ہے اور صحرائی علاقوں میں بھی یہ کئی ماہ تک پانی کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے

لیتھوپس کے پودے کھائے بھی جاتے ہیں۔ تاہم انہیں ڈھونڈنا ایک مشکل کام ہے۔ ان کا ذائقہ ہری مرچ جیسا ہوتا ہے

نمبیبیا، بوسٹوانا، جنوبی افریقہ اور بالخصوص انگولا کے کچھ صحرائی سرحدی علاقوں میں ان کا پتہ چلانا آسان نہیں ہے

ان کو ڈھونڈنے کی خاطر ماہر آنکھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم جب علم ہو جائے کہ یہ کہاں کھلے ہوئے ہیں تو لوگ اس عجیب و غریب پودے کو جڑی بوٹہ کے طور پر ہربل ادویات سازی کے علاوہ کھانوں میں بھی استعمال کرتے ہیں۔

Tags:

PlantstoneStone Plantstrange plantstrange stone plan
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

حالیہ بارشوں کے بعد موہن جو دڑو سے ملنے والی مورتی کا راز کیا ہے؟

Next

کیا ڈپریشن کے بارے میں اب تک کیے جانے والے دعوے بے بنیاد تھے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme