Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالمماحولیات

کراچی کی گندگی اور ہم

By Akhtar Rasool
اگست 21, 2022 4 Min Read
0

ماحولیات کے لیے کام کرنے والے عالمی ادارے ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے مطابق پاکستان میں 55 ارب پلاسٹک کے تھیلے سالانہ استعمال کیے جاتے ہیں اور اس استعمال میں ہر سال 15 فیصد اضافہ ہوتا ہے

پاکستان کے کُل کچرے کا 65 فیصد پلاسٹک کے بیگ، بوتلوں اور پلاسٹک سے بنی دیگر اشیا پر مبنی ہوتا ہے

جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق ہر سال پاکستان میں 33 لاکھ ٹن پلاسٹک کا کچرا بنتا ہے اور اس میں سے زیادہ تر لینڈ فلز یا جگہ جگہ زمین اور پانی میں پھیلا ہوتا ہے

کیا آپ کو معلوم ہے کہ اگر اس 33 لاکھ پلاسٹک کچرے کا انبار لگایا جائے تو اس کی اونچائی 16 ہزار 500 میٹر بنے گی۔ یعنی اس پلاسٹک کے کچرے کے پہاڑ کی اونچائی دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سے تقریباً دگنی ہوگی

پچھلی دو دہائیوں سے اسلام آباد میں مقیم ہوں اور اس سے قبل اتنا ہی عرصہ کراچی میں گزارا۔ وہ کراچی، جہاں بارش کے مزے لے سکتے تھے اور یہ خوف نہیں ہوتا تھا کہ سڑکیں زیر آب آ جائیں گی، بارش میں لمبی ڈرائیو پر نکل جاتے۔ ہاں چند بوندوں کے ساتھ ہی بجلی اس وقت بھی چلی جاتی تھی

ان دو دہائیوں میں کراچی آنا جانا لگا رہا ہے لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو۔ آج کل میں دوبارہ کراچی میں ہوں اور اس بار کئی علاقوں میں جانے کا موقع ملا ہے

فٹبال کے جوتے خریدنے تھے تو لائٹ ہاؤس گیا، محرم میں انچولی اور ناظم آباد گیا، کھانے پینے اور سیرو تفریح کے لیے برنس روڈ سے لے کر ڈیفنس کلفٹن اور سی ویو گیا

لائٹ ہاؤس گیا تو کچھ دیر میں گندگی سے بچ بچ کر چلتا رہا لیکن کچھ دیر بعد احساس ہوا ہے کہ جہاں میں بچ کر چل رہا ہوں وہ بھی گندگی ہے اور سڑک کہیں یا جو بھی، وہ تو مجھے اب تک نظر ہی نہیں آئی

ساتھ ہی ایک نالہ، جس کے بارے میں مجھے کہنا چاہیے تھا کہ بہتا ہوا نالہ لیکن ایسا میں کہوں تو غلط بیانی ہو گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر اس میں پانی نظر آئے گا تو میں یہ کہہ سکوں گا کہ پانی بہہ رہا تھا یا نہیں۔ پانی کے اوپر پلاسٹک کے شاپرز کی ایک تہہ تھی

اس روشنیوں کے شہر کے جس علاقے میں بھی گیا، وہاں شاپرز اور گندگی ہی نظر آئی۔ جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر، تھوڑی تیز ہوا چلے تو درختوں کے پتے نہیں بلکہ پلاسٹکس اڑتے دکھائے دیتے ہیں

ہم سب اگر ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ یہ پلاسٹک جو ہم جگہ جگہ پھینک دیتے ہیں، یہ ہمارے اور ہمارے ماحول کے لیے کتنا مضر ہے

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی پلاسٹک کے کچرے اور دیگر کچرے کا زیرِ زمین پانی میں ملنے سے ایک بڑا خطرہ ہمیں لاحق ہے

کچرے کے ڈھیر تو ہم سب نے دیکھے ہی ہوئے ہیں اور اب ذرا سوچیے کہ یہ کچرا زیر زمین پانی میں مل جائے تو کیا ہوگا۔ ہم جو پانی استعمال کرتے ہیں، اس میں کچرے کے چھوٹے چھوٹے ذرات ملے ہوں گے

حکومت پاکستان نے حالیہ عرصے میں پلاسٹک کی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لیے کئی اقدامات اٹھائے ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ ان اقدامات کے ساتھ ساتھ نئے طریقوں کے استعمال اور سرمایہ کاری کی مزید ضرورت ہے

عالمی رپورٹس کے مطابق جنوبی ایشیا کے ممالک میں پاکستان میں پلاسٹک کے کچرے کو صحیح طور پر ٹھکانے نہ لگانے کا مسئلہ سب سے زیادہ ہے

اگرچہ پاکستان نے بھی دنیا کے کئی ممالک کی طرح پلاسٹک بیگ کے استعمال پر پابندی عائد کی اور اس پر عمل درآمد کچھ عرصے کے لیے سختی سے کیا بھی گیا لیکن کچھ ہی عرصے بعد حالات جوں کے توں ہو گئے

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2020 میں 39 لاکھ ٹن پلاسٹک کا کچرا تھا جبکہ اس میں 70 فیصد یعنی 26 لاکھ ٹن پلاسٹک کے کچرے کو صحیح طور پر ضائع نہیں کیا گیا

ہمیں بھی افریقی ملک روانڈا کی طرز پر پلاسٹک کے استعمال کے خلاف مہم چلانی ہوگی۔ روانڈا نے 2008 میں پلاسٹک بیگز پر پابندی عائد کی تھی اور کامیابی سے اس پر عملدرآمد کروایا ہے

روانڈا میں پلاسٹک بیگ کے استعمال پر جیل ہو سکتی ہے اور جو غیر ملکی بھی روانڈا پہنچتا ہے تو امیگریشن ہی پر اسے تمام پلاسٹک بیگز کو چھوڑنا پڑتا ہے

پلاسٹک آلودگی کے حوالے سے پاکستان میں سیاسی سنجیدگی میں ابھی وقت لگے گا لیکن کیا اس حوالے سے دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے پاس اتنا وقت ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے

اس سے پہلے کہ یہ مسئلہ مزید سنجیدہ ہو ملک بھر میں عوام کو آگاہی دینے کی فی الفور ضرورت ہے، ایک مربوط پالیسی درکار ہے جس پر سختی سے عملدرامد کرایا جائے اور ایک بار کی مہم کافی نہیں ہوتی بلکہ پلاسٹک آلودگی کے بارے میں مہم کو وقفے وقفے اور جدید طریقوں سے چلائے جانے کا وقت آ گیا ہے

صرف کراچی ہی نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کی سوچ ہے کہ حکومت ہی گلی محلوں کو صاف کرنے میں ناکام رہی ہے

ہم اپنی ذمہ داریاں بھول جاتے ہیں۔ گندگی اٹھانے کا چاہے کتنا ہی مربوط نظام کیوں نا ہو اگر ہم شہری اپنی ذمہ داریوں میں غفلت برتیں گے اور جب چاہے اپنی گاڑی میں پلاسٹک بیگ رہنے دیں گے اور چلتی گاڑی سے لفافہ باہر پھینکنے کو ترجیح دیں گے تو پھر اسی طرح ہی سڑک پر نہیں بلکہ گندگی کے اوپر چلیں گے اور گاڑیاں چلائیں گے۔

بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو

Tags:

EnvironmentIrresponsibleKarachiKarachi PeoplePlasticPolluted CityWastage
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بارش اور سیلاب: سندھ کا علاقہ ’کاچھو‘ جہاں ہر دوسرا گاؤں پانی میں گھرا ہے

Next

قرۃ العین حیدر کی نوبیل انعام سے محرومی: سازش یا مداخلت؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme