Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

تھرپارکر: پگڑی ہو تو جیسو جیسی ہو، ورنہ نہ ہو۔۔

By Akhtar Rasool
اگست 28, 2022 2 Min Read
0

جیسو سندھ کے ضلع تھرپاکر کے شہر مٹھی میں نائی کا کام کرتے ہیں، لیکن ان کی اصل وجہ شہرت سر کے بال کاٹنا نہیں بلکہ سر پر پگڑی باندھنے کی مہارت ہے

ان کی اس مہارت کی وجہ سےان کے پاس دور دور سے لوگ صرف پگڑی بندھوانے آتے ہیں، کیونکہ ان کے خیال میں جیسو جیسی پگڑی کوئی نہیں باندھ سکتا

جیسو پگڑیاں باندھنے کا کام گذشتہ ڈھائی دہائیوں سے کر رہے ہیں

لیکن پگڑی باندھنے کی شروعات کیسے ہوئی؟ ساٹھ سالہ جیسو اس سوال کا جواب ایک قصہ سنا کر ہیں

وہ بتاتے ہیں ”ایک مرتبہ میں دکان پر بیٹھا تھا تو وہاں سے ایک بارات گزر رہی تھی، میرے استاد بھی ساتھ تھے تو ان کو کسی نے کہا کہ باراتیوں کو پگڑیاں باندھنی ہیں۔ مجھے شوق تو تھا، پر اس وقت مجھے پگڑی باندھنی نہیں آتی تھی“

جیسو کہتے ہیں کہ اس دن انہیں احساس ہوا کہ انہیں یہ ہنر ہر صورت سیکھنا ہے

بقول جیسو ”ایک ماہ تک ہر روز بار بار پگڑی باندھ کر آخرکار میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا۔ اب وہی لوگ مجھے کہتے ہیں کہ آپ ہمیں سکھا دیں“

جیسو نائی کہتے ہیں ”تھرپارکر میں ہندو اور مسلمان ایک ساتھ رہتے ہیں تو شادی بیاہ کی تقریبات میں بھی لوگ پگڑیاں باندھتے ہیں۔ دولہا تو پگڑی باندھتا ہی ہے۔ اس لیے جیسو کے بعد بھی یہ کارواں یا کام رکے نا“

انہوں نے بتایا ”مجھے لوگ دس، دس دن پہلے پیسے دے جاتے ہیں اور شادی سے ایک دن پہلے گاڑی میں اپنے گاؤں یا شہر پگڑی باندھنے لے جاتے ہیں“

اس کام کے معاوضے کے بارے میں جیسو بتاتے ہیں ”دولہے کی پگڑی باندھنے کے کوئی پانچ سو تو کوئی ایک ہزار روپے دیتا ہے“

پگڑیوں کی اقسام کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ان میں مارواڑی، سندھی، وڑی، بلوچی اور بوسکی شامل ہیں۔ ”جس کو جو انداز پسند ہو، وہ ویسے باندھتا ہے اور ہر علاقے کی بھی اپنی ثقافتی حیثیت ہے تو پگڑی بھی الگ“

جیسو اس ہنر کے حوالے سے کہتے ہیں ”نوجوان آگے آئیں اور اس کام میں اپنی دلچسپی ظاہر کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ جیسو کے بعد یہ روایت دم توڑ دے“

ان سے پگڑی بندھوانے والے ایک شخص نے بتایا کہ تھرپارکر میں جب بھی کوئی تقریب ہوتی ہے تو وہ انتظار کرتے ہیں کہ ان کی باری آئے اور جیسو ہمیں پگڑی باندھیں

وہ کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسو کی باندھی گئی پگڑی محفل میں الگ ہی حیثیت رکھتی ہے

Tags:

JesuSindhTharparkarturban
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

شیلٹر میں کتے گلے لگ کر بچانے کی فریاد کرتے رہے

Next

حیدرآباد کی ایک کالونی، جہاں آج بھی گھر کا کرایہ دس روپے ماہانہ ہے!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme