Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

1965: بھارتی جنگی جہاز پاکستان میں غلطی سے اترا تھا یا اتارا گیا تھا؟

By Akhtar Rasool
ستمبر 6, 2022 4 Min Read
0

جب اسکواڈرن لیڈر ولیم گرین کامیاب مہم کے بعد اپنے نیٹ فائٹر جیٹ کے ساتھ پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر اترے تو ان کا مزاج بہت خوشگوار تھا، لیکن جب انہیں پتہ چلا کہ ان کے ایک ساتھی برج پال سنگھ سکند واپس نہیں آئے تو وہ پریشان ہو گئے

یہ وہ زمانہ تھا جب بیشتر جنگی جہاز GPS سسٹم یا ریڈار سے لیس نہیں ہوتے تھے۔ پائلٹ واپسی کے لیے نقشوں یا قطب نما کا استعمال کیا کرتے تھے۔ سکند اپنی فارمیشن سے بچھڑ گئے تھے۔ ان کے پاس ایندھن کم تھا، اس لیے انہیں اوپر سے جو فضائی پٹی دکھائی دی، اسی پر وہ یہ سوچ کر اتر پڑے کہ وہ کوئی ویران بھارتی فضائی پٹی ہوگی

لیکن سکند یہ جان کر دنگ رہ گئے کہ وہ پاکستان میں پسرور کی ایک فضائی پٹی پر اتر گئے ہیں۔ انہیں فوری طور پر جنگی قیدی بنا لیا گيا۔ دوسری طرف جب سکند پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر کافی دیر تک واپس نہیں آئے تو دو ویمپائر جہاز ان کی تلاش کرنے کی مہم پر نکلے۔ انہوں نے سکند کے جہاز کے ملبے کو اوپر سے تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اندازہ یہ تھا کہ ان کا جہاز گر کر تباہ ہو گیا ہوگا۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ سکند کا نیٹ جنگی طیارہ سرحد پار پاکستان میں پسرور کے ہوائی اڈے پر اتر چکا ہے

فیلڈ مارشل ایوب کے بیٹے گوہر ایوب خاں بتاتے ہیں کہ سکند کا نیٹ غلطی سے پسرور میں نہیں اترا بلکہ اسے پاکستان کے ایک اسٹار فائٹر طیارے نے زبردستی پسرور میں اترنے پر مجبور کیا تھا

گوہر ایوب کا کہنا تھا ”اس طیارے کو میرے بَیچ مَیٹ حکیم اللہ اڑا رہے تھے۔ حکیم اللہ بعد میں پاکستانی فضائیہ کے سربراہ بنے۔ انہوں نے جب سکند کے طیارے کو پاکستانی علاقے میں اڑتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے اسے یہ پیغام بھیجا کہ وہ نیچے کی پٹی پر اپنا جہاز فوراً اتاریں ورنہ وہ اسے اڑا دیں گے“

سکند کو جنگی قیدی بنانے کے بعد فلائٹ لیفٹیننٹ سعد حاتمی اس نیٹ کو اڑا کر پشاور کے ہوائی اڈے لے گئے۔ انہوں نے برطانیہ میں اپنی تربیت کے دوران نیٹ جہاز اڑانے کا تجربہ حاصل کیا تھا

پاکستان میں ہوا بازی سے متعلق مؤرخ قیصر طفیل بتاتے ہیں ”سکند نے پوچھ گچھ کے دوران تفتیش کاروں کو بتایا تھا کہ ان کے طیارے میں ایک ساتھ کئی خرابياں پیدا ہو گئی تھیں۔ میں نے بھی جنگی ہوائی جہاز اڑائے ہیں اور میں تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ کسی طیارے میں ایک ہی وقت میں اتنی ساری مشکلیں پیدا نہیں ہو سکتیں۔’

جب برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اس معاملے میں سکند کی رائے لینے کی کوشش کی تو انہوں نے یہ کہہ کر بات کرنے سے انکار کر دیا کہ ’اب میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں‘

سکند نے کچھ اخباروں میں مضامین لکھ کر یہ بتانے کی کوشش کی کہ وہ غلطی سے پسرور میں اترے تھے اور اس کا احساس ہونے پر انہوں نے دوبارہ ٹیک آف کرنے کی کوشش بھی کی تھی

اس کے جواب میں قیصر طفیل کہتے ہیں: ‘لینڈ کرنے کے بعد ایک فائٹر جیٹ فوری طور پر ٹیک آف نہیں کر سکتا۔ انہوں نے تو اپنا انجن بھی پوری طرح سے آف کر دیا تھا اور اس وقت وہ پٹی کے بالکل آخر تک پہنچ چکے تھے، جہاں سے دوبارہ ٹیک آف کرنا ناممکن تھا“

لیکن سکند کی حمایت میں پی ایس جگن موہن اور سمیر چوپڑا اپنی کتاب ‘دی انڈیا پاکستان ایئر وار آف 1965′ میں دعویٰ کرتے ہیں: حکیم اللہ اس علاقے میں بھلے ہی اڑ رہے ہوں جہاں یہ نیٹ اترا تھا، لیکن پاکستانی ذرائع کے علاوہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ نیٹ کو زبردستی پسرور میں اتروایا گيا ہو۔’

قیصر طفیل نے ایک دوسرے مضمون میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حکیم اللہ نے اس وقت تک نیٹ کو نہیں دیکھا تھا، جب تک انہوں نے اسے پسرور کی فضائی پٹی پر اپنے بریک شوٹ کے ساتھ کھڑے پایا

اس واقعے کا ایک اور گواہ امرتسر میں ریڈار اسٹیشن کے ونگ کمانڈر ڈانڈ پانی تھے۔ انہوں نے جگنموہن کو بتایا کہ وہ انھیں اسی وقت پتہ چل گيا تھا، جب جب سکند کا طیارہ اپنے فارمیشن سے الگ ہوا تھا لیکن اس کے بعد وہ طیارہ ریڈار کی اسکرین سے غائب ہو گيا

گوہر ایوب خان نے ایک اور دلچسپ بات یہ بتائی ہے کہ اس نیٹ جہاز کو بعد میں پاکستانی ایئر فورس کی تربیت کے لیے استعمال کیا گیا۔ اسی تربیت کے دوران ایک پرندہ اس جہاز کی کینوپی سے ٹکرا گیا، جس کی وجہ سے اس کو کافی نقصان پہنچا

‘اس وقت یوگوسلاویہ کی فضائیہ میں کئی نیٹ جہاز استعمال ہوتے تھے۔ ہم نے اس کی کینوپی وہاں سے حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن انھوں ہماری بات نہیں مانی۔ ہمارا نصیب اچھا تھا کہ انگلینڈ میں ایک پٹرول پمپ پر تعینات ایک پاکستانی ایئر اتاشی کی ایک انگریز سے ملااقت ہو گئی

وہ انگریز بھارت میں ‘بھارتی ایرونٹکس فیکٹری’ میں کام کر چکا تھا۔ گوہر ایوب خان کے مطابق: جب ہمارے ایئر اتاشی نے ان سے کہا کہ ہم نیٹ کی کینوپی تلاش کر رہے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ اس کا حصول کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوگا۔’

اس انگریز کا شکریہ کہ اس کی کینوپی کو بنگلور کی فیکٹری سے باہر لایا گیا اور خفیہ طور پر پاکستان کو بھیج دیا گیا اور نیٹ جنگی جہاز دوبارہ پرواز کے لائق بن گيا۔ آج بھی یہ نیٹ پاکستانی ایئر فورس میوزیم میں رکھا ہوا ہے۔

Tags:

1965 WarIndiaPakistan
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بڑے ڈیموں سے سیلاب آنے کا خطرہ کم ہوتا ہے یا مزید بڑھ جاتا ہے؟

Next

پاکستان میں تباہ کن سیلاب: کیا اس کی وجہ امریکہ کا ہارپ منصوبہ ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme