Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

موبائل فون کمپنیوں کو ساتھ ملا کر کاروباری اصولوں کی خلاف ورزی: گوگل پر تاریخ کا سب سے بڑا جرمانہ!

By Akhtar Rasool
ستمبر 15, 2022 3 Min Read
0

یورپ کی ایک اعلیٰ عدالت نے ٹیکنالوجی دیو اور انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل کو یورپی کمیشن کی طرف سے صحت مند کاروباری مقابلہ بازی کے اصولوں کی شدید خلاف ورزی پر کیے جانے والے چار ارب یورو سے زائد کے ریکارڈ جرمانے کی حتمی توثیق کر دی ہے

یاد رہے کہ گوگل پر یہ جرمانہ 2018ع میں عائد کیا گیا تھا، جس کے خلاف اس بہت بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی نے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا تھا۔ یہ جرمانہ اپنی مالیت کے حوالے سے اینٹی ٹرسٹ اصولوں کی خلاف ورزی پر دنیا بھر میں کسی بھی کاروباری ادارے کو کیا جانے سب سے بڑا جرمانہ تھا

یہ جرمانہ یورپی کمیشن کی طرف سے اس لیے عائد کیا گیا تھا کہ یورپی یونین میں اینٹی ٹرسٹ اصولوں کی خلاف ورزیوں پر کارروائی کرنے اور اس بلاک میں صحت مند کاروباری مقابلے کو یقینی بنانے کی ذمے داری یورپی کمیشن کہلانے والے یونین کے اسی انتظامی بازو کے پاس ہے

برسلز میں یورپی کمیشن کے گوگل کے خلاف اس اقدام کی وجہ موبائل فونز میں استعمال ہونے والا اینڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم بنا تھا۔ اس جرمانے کی مالیت 4.34 ارب یورو (4.8 ارب ڈالر) رکھی گئی تھی۔ سزا کے طور پر جرمانے کے اس فیصلے سے پہلے یورپی کمیشن کی طرف سے کی جانے والی چھان بین کے بعد یہ ثابت ہو گیا تھا کہ تب گوگل نے موبائل فون تیار کرنے والے بڑے صنعتی اداروں اور بڑے بڑے موبائل فون آپریٹرز کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنا لیا تھا کہ ان کے یا ان کے لیے تیار کردہ موبائل فونز پر گوگل سرچ ایپلیکیشن پہلے ہی سے انسٹال ہوگی

اس کے ساتھ ساتھ گوگل نے موبائل فون تیار کرنے والے اداروں کو ایسے فون فروخت کرنے سے بھی عملاﹰ روک دیا تھا، جن پر یا تو اینڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم کی کوئی دوسری ورژن انسٹال ہوتی تھی یا جو اینڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم گوگل کے منظور کردہ نہیں تھے۔ یورپی کمیشن کے مطابق یہ گوگل کا سراسر غلط کاروباری رویہ تھا، جس کے ذریعے ناجائز کاروباری اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کی گئی تھی

یورپی یونین کی جس عدالت نے اس مقدمے میں بدھ 14 ستمبر کے روز اپنا فیصلہ سنایا، وہ یورپی یونین کی دوسری اعلیٰ ترین عدالت ہے۔ لکسمبرگ میں قائم اس عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ گوگل کی طرف سے تب اینڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم والے موبائل فون تیار کرنے والے صنعتی اداروں پر لگائی گئی پابندیاں ’غیر قانونی‘ تھیں اور ان کا مقصد ایک انٹرنیٹ سرچ انجن کے طور پر گوگل کی عالمی سطح پر پہلے ہی سے بہت غالب حیثیت کو ناجائز طریقے سے مزید مضبوط بنانا تھا

اس مقدمے کی سماعت کے دوران یورپی کمیشن کی طرف سے گوگل کے خلاف جو دلائل پیش کیے گئے، ان کی کمیشن کے موقف سے کچھ مختلف وضاحت کرتے ہوئے لکسمبرگ کی عدالت نے اس جرمانے کی مالیت میں 215 ملین یورو کی کمی بھی کر دی۔ یورپی کمیشن نے گوگل کو 4.34 ارب یورو (4.8 ارب ڈالر) جرمانہ کیا تھا، لیکن عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ گوگل کو 4.125 ارب یورو (4.13 ارب ڈالر) جرمانہ تو ادا کرنا ہی ہوگا

گوگل نے یورپی کمیشن کے اپنے خلاف فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے لکسمبرگ کی یورپی عدالت میں مقدمہ گزشتہ برس ستمبر میں دائر کیا تھا۔ اس مقدمے میں بنیاد اس بات کو بنایا گیا تھا کہ یہ جرمانہ ’ہوش ربا حد تک زیادہ‘ اور ’انتہائی غیر متناسب‘ تھا

14 ستمبر کو سنائے گئے عدالتی فیصلے کے بعد گوگل نے اپنے ردعمل میں سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے

واضح رہے کہ سب سے بڑے انٹرنیٹ سرچ انجن پر یورپی یونین کی جانب سے عائد جرمانے میں عدالت کی طرف سے 215 ملین یورو کی کمی کے باوجود یہ جرمانہ اب بھی دنیا بھر میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی مالی سزا ہے۔

Tags:

European CourtEuropean Union CourtgoogleGoogle FineMobile Companies
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

’ملازمتوں کا عالمی بحران’ جو ’ملازمین کے بحران‘ میں تبدیل ہوا۔۔ فائدہ کس کو؟

Next

’برطانیہ نے ہندوستان کو تہذیب سکھائی‘ امریکی ٹی وی اینکر کے بیان پر غم و غصہ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme