Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

گوادر کا شاہی بازار اور تاریخی ’کریمک ہوٹل‘

By Akhtar Rasool
جنوری 16, 2023 4 Min Read
0

کریمک ہوٹل شاہی بازار میں واقع ہے، جس کے ساتھ مشہور گوادر کی سوغات خدا بخش گوادری کی حلوے کی دکان ہے۔ اس تنگ گلی میں بس یہی ہوٹل اور ایک پان کی دکان کئی سال گزرنے کے بعد اب بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ قطار میں کھڑے خستہ حال، کھنڈر نما اور ٹوٹ پوٹ کی شکار عمارتیں تاحدِ گَلگ منڈی کے شمال مشرقی راستے تک، پھر یہاں سے فعال دکانیں شروع ہوتی ہیں

گوادر کی قدیم آبادی کی بیچوں بیچ کا یہ تنگ گلیوں پر مشتمل علاقہ شاہی بازار کہلاتا ہے۔ اس بازار کی طرز تعمیر شہر کی باقی عمارتوں سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں مٹی اور پتھر کے بنے دو منزلہ عمارات، لکڑیوں سے بنی بالکونیاں اور دکانیں کئی سو سال قدیم ہیں

اس بازار کی تاریخ کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ پندرہویں صدی میں پرتگیزیوں کے بلوچستان کے ساحل پر قبضہ کرنے کے وقت اس بازار کو فوجیوں نے جلا دیا تھا۔ گوادر کے سینئر صحافی سلیمان ہاشم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ پرتگیزیوں نے سالار ساحل میر حملِ جیند کی گرفتاری کے بعد گوادر کے اس بازار کو آگ لگائی تھی جسے اٹھارویں صدی میں سلطنت آف عمان کے دور میں دوبارہ تعمیر کیا گیا

موجودہ آثار بھی عمانی دور کی نشانیاں ہیں، جو اب انتہائی خستہ حالی کا شکار ہیں۔ اس بازار کی ایک اور خوبصورتی یہاں کی بین المذہبی اشتراکیت کی اعلیٰ مثال ہے، جہاں بالکل قریب قریب مندر، اسماعیلیوں کا جماعت خانہ اور مساجد ہیں

سلطنت آف عمان کے دور کے مشہور شاہی بازار کی مشہور چیز ’کریمک ہوٹل‘ کی چائے ہے۔ باہر سے آئے ہوئے لوگوں کو ان کے میزبان یہاں کے پرسکون ماحول کی سیر ضرور کرواتے ہیں اور انہیں کریمک ہوٹل کی چائے بھی پلاتے ہیں

اس ہوٹل میں صبح شام بزرگ اور نوجوان اپنے دوستوں کے ساتھ پرسکون ماحول کی تلاش میں آتے ہیں اور ہر گروپ کی الگ الگ محفل سجتی ہے

کریمک ہوٹل کے ایک گاہک شعبان بلوچ کے مطابق یہ ہوٹل قیام پاکستان سے پہلے کا ہے اور گودار کا قدیم ترین مقام ہے

انہوں نے بتایا ”میں گودار کا مقامی باشندہ ہوں اور ایک ماہی گیر کا بیٹا ہوں۔ کافی عرصے سے یہاں کام کر رہا ہوں۔ میرے والد صاحب کہا کرتے تھے کہ یہ جگہ 1948ع سے پہلے کی ہے۔ یہ ایک قدیمی اور تاریخی جگہ ہے“

شعبان بتاتے ہیں ”پہلے یہ ہوٹل ایک کمرے پر مشتمل تھا، بعد میں دو کمرے ہو گئے۔ یہاں ہزاروں لوگ آتے ہیں۔ سیاسی، سماجی لوگ، مزدور، ماہی گیر، ڈرائیور اور کبھی کبھی ڈپٹی کمشنر بھی یہاں چائے پینے کے لیے آتے ہیں“

اس ہوٹل کو ’امن پسند لوگوں کا ڈھابہ‘ قرار دیتے ہوئے شعبان نے مزید بتایا ”لوگ محنت مزدوری کر کے اپنی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے یہاں چائے پینے آتے ہیں اور وقت گزاری کرتے ہیں“

یہاں کے ایک مستقل گاہک ذاکر داد، جو کہ فلم میکنگ کے شعبے سے منسلک ہیں، نے بتایا کہ وہ یہاں اس لیے آتے ہیں کیونکہ انہیں روز یہاں نئے کردار مل جاتے ہیں اور نئی نئی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں

کہا جاتا ہے کہ اس بازار کا شمار ناصرف مکران بلکہ بلوچستان کے پُر رونق ترین بازاروں میں ہوتا تھا مگر اب شاہی بازار معدومیت کے خطرے کا شکار ہے

گوادر کی ترقی کے ساتھ ساتھ شروع دن سے ہی مقامی آبادی کو کئی خدشات لاحق ہیں، جن میں ان کے روزگار، مستقبل اور ثقافتی ورثے کی تحفظات شامل ہیں۔ گوادر کے نوجوانوں اور تعلیم یافتہ طبقے نے شہر کی تاریخی و ثقافتی ورثوں کی تحفظ اور بحالی کے لیے کئی دفعہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بھی چلائے ہیں۔ مگر اب تک عملی طورپر کچھ بھی ہوتا دکھائی نہیں دے رہا

ناصر رحیم سہرابی ایک سماجی کارکن اور استاد ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ثقافتی ورثے کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ”ثقافتی ورثے اور آثار قدیمہ ناصرف کسی قوم اور علاقے کی شناخت ہوتے ہیں بلکہ یہ بنی نوع انسان کی وراثت ہیں۔ اس لیے ان کی تحفظ اور بحالی کے لیے جتنا ہوسکے کرنا چاہیے وگرنہ ان کی خاتمے سے ہم ایک پوری تاریخ کو کھو دیں گے“

سلیمان ہاشم گوادر شاہی بازار کے نام کے حوالے سے اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ یہ نام ستر کی دہائی میں اس وقت رکھا گیا، جب گوادر میں مسلم کمرشل بینک کی پہلی برانچ کا افتتاح کیا گیا تو باقاعدہ سے بینک کے سائن بورڈ پر مسلم کمرشل بینک شاہی بازار لکھا گیا۔ اس سے پہلے یہ بازار صرف گوادر بازار کے نام سے جانا جاتا تھا

ناصر سہرابی کہتے ہیں کہ یہ بازار پرانے وقتوں میں سمندری اور خشکی دونوں اطراف کے تجارت کا مرکز تھا کیونکہ یہیں سے تجارت کے سامان سمندری راستے سے عرب، ہندوستان اور افریقی ممالک میں درآمد وبرآمد کیے جاتے تھے۔ وہ مزید کہتے ہیں “خشکی سے اونٹوں کے قافلوں کے ذریعے مکران اور بلوچستان سے بھی یہاں سے تجارت ہوا کرتی تھی

گوادر شاہی بازار کی یہ تنگ گلی آج سے سینکڑوں سال پہلے ایک انتہائی پررونق مقام تھا جہاں ناصرف کاروبار ہوا کرتا تھا بلکہ سیاسی و ادبی حلقوں کی بھی یہاں بیٹھکیں لگتی تھیں۔ دور دراز کے علاقوں کے لوگ اونٹوں کے قافلوں کی شکل میں یہاں تجارت کے لیے مختلف اشیا لے کر آتے تھے اور یہاں سے خُشک مچھلیاں اور نمک لاد کر لے جایا کرتے تھے۔

Tags:

bazar in gwadargawadarGwadargwadar airportgwadar balochistangwadar bazargwadar beachgwadar citygwadar city tourgwadar cpecgwadar cricket stadiumgwadar historygwadar jannat bazargwadar marine drivegwadar pakistanGwadar Portgwadar shahi bazargwadar tourgwadar vloggwadari halwagwaderHistory of Gwadarjannat bazar gwadarshahi bazaarshahi bazarShahi Bazar Gwadarshahi bazar gwadar halwashahi bazar in gawadar
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سندھ کے ماہی گیر سیلابی پانی میں مچھلی کے شکار پر مجبور

Next

روٹی انسان کو کھا گئی، زرعی ملک خوراک کی قلت کا شکار کیوں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme