Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

آسٹریلوی شخص نے عام میٹل ڈیٹیکٹر سے دو کلو سے زائد سونا ڈھونڈ نکالا

By Akhtar Rasool
مارچ 29, 2023 3 Min Read
0

ایک آسٹریلوی شخص عام میٹل ڈٹیکٹر کی مدد سے ایک ایسی چٹان ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہو گیا، جس میں دو لاکھ چالیس ہزار آسٹریلوی ڈالر مالیت کا سونا موجود تھا

اس شخص کو، جس نے اپنی شناخت خفیہ رکھی ہے، یہ پتھر وکٹوریہ کے گولڈ فیلڈز سے ملے۔ یہ وہی علاقہ ہے کہ جو انیسویں صدی میں سونے کی تلاش کا مرکز رہ چکا ہے

یہ جاننے کے لیے کہ آیا اس چٹان کی کوئی قیمت ہے، وہ اسے جانچ کے لیے جیلونگ کے لکی اسٹرائیک گولڈ کے پاس لے گیا

اس پتھر کی مالیت کا اندازہ لگانے اور پھر اسے خریدنے والے ماہر ڈیرن کیمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے چار دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اپنے کریئر میں ایسی دریافت نہیں دیکھی

ڈیرن کیمپ کہتے ہیں ”میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔ ایسی چیز زندگی میں ایک بار ہی ملتی ہے“

ڈیرن کیمپ بتاتے ہیں ”لوگ عموماً میرے پاس سونے جیسی دکھائی دینے والی دھاتیں لے کر آتے رہتے ہیں، لیکن جب وہ شخص ایک بڑا بیگ لیے میری دکان پر پہنچا تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس میں سے ایسی چیز بھی برآمد ہو سکتی ہے“

ڈیرن کیمپ نے بتایا ”اس نے بیگ سے پتھر نکالا اور مجھے دے کر کہا، ’کیا آپ کے خیال میں اس میں دس ہزار ڈالر کا سونا ہو سکتا ہے؟’ میں نے اسے دیکھا اور کہا ایک لاکھ ڈالر کی بات کرو“

ڈیرن کے مطابق پھر اس شخص نے انہیں بتایا کہ اس کے پاس ایسا ہی ایک اور پتھر بھی ہے۔ اس شخص کے پاس موجود پتھروں کا وزن چار کلو چھ سو گرام تھا اور اس سے 83 اونس یا دو کلو چھ سو گرام سونا نکالا گیا

ڈیرن کیمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے جب یہ پتھر اس شخص سے خرید لیے تو وہ بولا ’ارے واہ، میری بیگم بہت خوش ہوگی۔‘

یہ معلوم نہیں ہے کہ مذکورہ شخص کتنے عرصے سے سونے کی تلاش کر رہا تھا، لیکن میٹل ڈٹیکٹرسٹ اکثر چھٹی کے دن شوقیہ طور پر اس علاقے میں گھومنے نکل جاتے ہیں

مسٹر کیمپ نے کہا ”پراسپیکٹنگ نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ اگر آپ نے مجھ سے کچھ سال پہلے پوچھتے تو میں کہتا کہ اس شوق کی اوسط عمر پچاس سال یا اس سے زیادہ ہے، لیکن اب ہم بیس اور تیس کی دہائی میں بہت سے لوگوں کو یہ کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں“

سونے کی تلاش کئی وجوہات کی بنا پر ایک خوشگوار تفریح سمجھی جاتی ہے، لیکن حالیہ دنوں میں اس نے فطرت سے تعلق اور چند روپے کمانے کی صلاحیت کی وجہ سے ممکنہ امکانات کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے

مسٹر کیمپ نے کہا، ”یہاں بہت سے شوقین ویک اینڈ پراسپیکٹرز ہیں جو جھاڑیوں میں جا کر دن کا لطف اٹھانا پسند کرتے ہیں، اور اگر انہیں کچھ سونا مل جائے تو یہ صرف ایک بونس ہے“

یہ اس طرح کی پہلی دریافت نہیں ہے۔ 2020 میں ایک جوڑے نے وکٹوریہ میں دھات کا پتہ لگانے والے آلات کا استعمال کرتے ہوئے ساڑھے تین کلو گرام سونا نکالا تھا

مائننگ ویکلی کے کالم نگار جیڈ ڈیون پورٹ نے 2014 کے تاریخی واقعات کے تجزیے میں لکھا تھا ”میٹل ڈٹیکٹر جنوبی افریقہ میں امکانات کا جائزہ لینے کے لیے کم کارآمد ثابت ہوتے ہیں، جہاں سونے کو چٹان کی شکلوں میں تقسیم کیا جاتا ہے بجائے اس کے کہ وہ صاف ستھرا نگٹس بنے۔ لیکن، تاریخی طور پر پومالانگا میں پلگرمز ریسٹ کے ارد گرد ڈلے پائے گئے ہیں

شمالی وسطی وکٹوریہ کا یہ علاقہ بیلارٹ، بینڈیگو اور سینٹ ارناؤڈ کے درمیان پھیلا ہوا ہے، جس میں چھوٹے چھوٹے قصبوں جیسے ڈیلس فورڈ، میریبورو اور کیسل مین شامل ہیں۔

1850 کی دہائی کے خوشحال سونے کے رش کے دوران، ان قصبوں کو خوبصورت عمارتیں وراثت میں ملی تھیں – بہت سے اب عجائب گھروں، گیلریوں اور کیفوں کے طور پر دوبارہ تیار کیے گئے ہیں

اس علاقے سے سونے کے ڈلے/نگٹس اپنی مقدار، سائز اور پاکیزگی کے لیے مشہور تھے، جن میں سے زیادہ تر جلو والے تھے (نہروں یا ندیوں کے تہوں میں پائے جاتے تھے)

آسٹریلیا میں اگرچہ اس طرح کی دریافتیں نایاب ہیں، لیکن ایک اندازے کے مطابق آسٹریلیا میں دنیا کے سب سے بڑے سونے کے ذخائر ہیں اور وہاں پہلے بھی سونے کے بڑے ڈلے مل چکے ہیں

اگرچہ 4.6 کلو گرام کی چٹان کی حالیہ دریافت واقعی متاثر کن ہے، لیکن یہ ویلکم اسٹرینجر کے مقابلے میں ہلکی ہے – 1869 میں مولیاگول کے قریب 72 کلو گرام سونے کی ڈلی ملی تھی

آج، اس طرح کی ڈلی تقریباً 6.8 ملین ڈالر حاصل کر سکتی ہے

Tags:

biggest gold nugget ever founddetectordetector de metalfinding goldfinding gold in riversGoldgold findsgold foundgold hunting with metal detectorgold mininggold nugget foundgold prospectinggold rushharga metal detectorhow to find goldlargest gold nuggetslot kilograms of goldmetal detectingmetal detecting findsmetal detectormetal detector findsthe most informative metal detecting show in australiatitan ger 1000 gold detector
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

جنوبی امریکہ کے فٹبال ہیڈ کوارٹر میں لیونل میسی کا مجسمہ نصب

Next

سابق فوجی افسر کے اہل خانہ نے سویلین بیٹے کے کورٹ مارشل پر خاموش توڑ دی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme