Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

بلوچستان: ایک اور عید انتظار بن گئی۔۔ فزیوتھراپسٹ فیاض لاشاری لاپتہ

By Akhtar Rasool
اپریل 21, 2023 5 Min Read
0

بلوچستان کے ضلع قلات سے تعلق رکھنے والے محمد اسحاق لاشاری، اپنے بیٹے فیاض لاشاری کو مبینہ طور پر لاپتہ کیے جانے والے کے حوالے سے بتاتے ہیں ”میرے بیٹے نے راستے میں مجھے بتایا کہ اُس نے روزہ رکھا ہوا ہے، ہم نے اپنی استطاعت کے مطابق ان کی افطاری کے لیے اچھے پکوان تو تیار کروائے لیکن وہ انہیں کھانے کے لیے گھر نہیں پہنچ سکا“

محمد اسحاق نے روتے ہوئے گلوگیر آواز میں بتایا ”امتحان دینے کے بعد میرا بیٹا اسلام آباد سے عید منانے کے لیے گھر آ رہا تھا۔ ایسے میں ہم عید کیسے منائیں جب میرا لخت جگر لاپتہ ہے۔ اور یہ بھی علم نہیں کہ وہ کہاں ہے اور کس حال میں ہے؟“

فیاض لاشاری کا تعلق بلوچستان کے ضلع قلات سے ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم قلات سے حاصل کی اور اس کے بعد یونیورسٹی آف بلوچستان سے فزیوتھراپی کی ڈگری لی

وہ اس وقت اسلام آباد میں ہیلتھ سروسز اکیڈمی سے پبلک ہیلتھ سروسز میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ ان کے والد کے مطابق سات بھائیوں میں ان کا نمبر چھٹا ہے

ان کے والد نے بتایا کہ فیاض شادی شدہ ہیں اور ان کی شادی تقریباً ایک سال قبل ہوئی تھی

فیاض لاشاری کے والد محمد اسحاق خود بھی پولیس کے ریٹائرڈ ملازم ہیں اور انہیں ریٹائرمنٹ کے وقت جو پیسے ملے، وہ انھوں نے فیاض اور دوسرے بچوں کی تعلیم پر خرچ کر دیے

ان کا کہنا تھا کہ تاحال فیاض ملازمت نہیں کر رہے ہیں اور اسلام آباد میں ان کی تعلیم کے اخراجات بھی وہ ہی برداشت کرتے ہیں

محمد اسحاق کے مطابق اسلام آباد میں موجود اپنے بیٹے کے ساتھ جب ان کا آخری رابطہ ہوا تو انہوں نے بتایا کہ 14 اپریل کو ان کے دوسرے سمسٹر کا آخری پرچہ ہے، جسے دینے کے بعد وہ کوئٹہ کے لیے روانہ ہوں گے

ان کا کہنا تھا کہ وہ 15 اپریل کو علی الصبح کرائے کی کار میں دو ساتھیوں کے ساتھ صبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب کوئٹہ کے لیے اسلام آباد سے روانہ ہوئے۔ ان کے ساتھ سفر کرنے والوں میں ان کے کلاس فیلو محمد فراز کے علاوہ ڈاکٹر نبی داد بگٹی اور گاڑی کے ڈرائیور شامل تھے

محمد اسحاق نے بتایا کہ فیاض لاشاری کے ساتھ سفر کرنے والوں نے بتایا کہ جب اُن کی گاڑی شام کو ساڑھے چار سے پانچ بجے کے درمیان ضلع پشین کے علاقے زیارت کراس پر پہنچی تو تین گاڑیاں تیزی کے ساتھ آ کر ان کی گاڑی کے سامنے رُکیں۔ ان گاڑیوں میں سے تقریباً پندرہ افراد اترے، جن میں سے بعض مسلح تھے۔ اور ان میں سے چند افراد وردی میں ملبوس تھے اور بعض سادہ کپڑوں میں

محمد اسحاق نے دعویٰ کیا کہ ’نامعلوم افراد نے گاڑی کے قریب آ کر سب سے شناختی کارڈ طلب کیے اور شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد انہوں نے کار ڈرائیور اور سرفراز احمد کو چھوڑ دیا، جبکہ میرے بیٹے فیاض اور ڈاکٹر نبی داد بگٹی کار سے اتار کر اپنی گاڑیوں میں نامعلوم مقام پر لے گئے

محمد اسحاق کا کہنا ہے کہ 16 اپریل کو نبی داد بگٹی کو کوئٹہ کے علاقے بروری روڈ پر صبح چھ بجے چھوڑ دیا گیا لیکن ان کا بیٹا تاحال لاپتہ ہے

محمد اسحاق نے بتایا کہ آخری مرتبہ ان کا فیاض سے رابطہ خانوزئی کے علاقے میں ہوا جو کہ زیارت کراس سے پہلے آتا ہے

ان کے مطابق ’ہم بیٹے کے آنے پر خوش تھے لیکن اس کے وقت پر گھر نہ پہنچنے پر تشویش لاحق ہوئی اور جب فون کیا تو اس کا نمبر بند آ رہا تھا۔ تاہم بعد میں ہمیں یہ معلوم ہوا کہ اسے کو اٹھا لیا گیا ہے۔‘

محمد اسحاق کہتے ہیں کہ ہم فیاض کے کئی ماہ بعد گھر آنے پر خوش تھے، بلکہ وہ بھی ہمارے درمیان عید منانے پر خوش تھا۔ لیکن اب بیٹے کی گمشدگی کے باعث ہمارا پورا خاندان ایک غم میں مبتلا ہے اور ہمیں اس وقت اس کی خیریت کی تشویش ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’کسی گھر کا ایک فرد جیتے جی لاپتہ ہو جائے اور یہ بھی علم نہ ہو کہ وہ کس حال میں ہے تو ایسے لوگوں کی کیا عید ہوگی۔‘

محمد اسحاق کے مطابق انہوں نے متعلقہ تھانے کے حکام کو ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست دی ہے

یاد رہے کہ زیارت کراس کا علاقہ ضلع پشین کی تحصیل کاریزات میں آتا ہے

کاریزات میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس سلسلے میں ایک درخواست آئی ہے تاہم ابھی تک انھوں نے ایف آئی آر درج نہیں کی ہے کیونکہ ابھی تک اس بات کا تعین ہونا باقی ہے کہ یہ واقعہ ان کے علاقے میں پیش آیا یا کسی اور علاقے میں

فیاض لاشاری کی مبینہ جبری گمشدگی پر بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی، لیکن ان سے بات نہیں ہو سکی

تاہم جب اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر پشین یاسرخان بازئی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی واقعہ ان کے علم میں نہیں ہے

ان کا کہنا تھا ”جس علاقے میں اس واقعے کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہاں سے بھی ہمیں کوئی شواہد نہیں ملے“

تاہم ان کا کہنا تھا کہ بدھ کی شام جب انہوں نے تحصیل کاریزات کے اسسٹنٹ کمشنر سے اس سلسلے میں پوچھا تو انظوں نے بتایا کہ انھیں کسی نے واٹس ایپ پر ایف آئی آر کے اندراج کے لیے درخواست بھیجی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ درخواست اگرچہ محمد اسحاق نامی شخص کی جانب سے ہے، لیکن اس پر ان کے دستخط نہیں ہیں

ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ جب کوئی اس سلسلے میں شواہد کے ساتھ باقاعدہ درخواست دے گا تو وہ قانون کے مطابق اس کا جائزہ لیں گے

دوسری طرف بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر تنظیموں نے فیاض لاشاری کی مبینہ گمشدگی کی مذمت کرتے ہوئے ان کی عدم بازیابی کی صورت میں ہسپتالوں کے بائیکاٹ اور احتجاج کی دھمکی دی ہے

کوئٹہ میں دیگر ڈاکٹر تنظیموں کے عہدیداروں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر ڈاکٹر کلیم اللہ خان نے الزام عائد کیا کہ ’ہمارے دو ڈاکٹروں فیاض لاشاری اور نبی داد بگٹی کو زیارت کراس پر جبری طور پر گم کیا گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’گذشتہ دوڈھائی ہفتوں کے دوران یہ ڈاکٹروں کے مبینہ اغوا کا دوسرا واقعہ تھا اور اس سے قبل قلعہ عبداللہ سے ڈاکٹر عبدالہادی کو ان کے کلینک سے اغوا کیا گیا تھا۔ لیکن ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ صوبے میں ڈاکٹر اس وقت عدم تحفظ کا شکار ہیں کیونکہ نہ وہ ہسپتال میں محفوظ ہیں، نہ گھر میں اور نہ ہی کہیں اور

ڈاکٹروں کی تنظیم کے عہدیدار ڈاکٹر وکیل شیرانی نے کہا کہ ماضی میں بھی ڈاکٹروں کے ساتھ یہ ہوتا رہا جس پر ڈاکٹر نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے

ڈاکٹر کلیم اللہ خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے حکومت اور متعلقہ ضلع کی انتظامیہ سے ڈاکٹروں کی بازیابی کے لیے رابطہ کیا لیکن اب تک ان کی جانب سے کوئی خاص جواب نہیں دیا گیا ہے

ان کا کہنا تھا ”اگر کسی ڈاکٹر کے خلاف کوئی الزام ہے تو بتایا جائے تو ہم خود حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون کریں گے لیکن ہم ڈاکٹروں کے اغوا یا ان کو لاپتہ کرنے کے عمل کو کسی طرح برداشت نہیں کر سکتے۔“

Tags:

BALOCHbaloch missing personBaloch Missing Personsbaloch missing persons campbaloch missing persons camp islamabadBalochistan Missing Personscamp for baloch missing persons at islamabadcm hous balochistan pc baloch missing personsmaryam nawaz baloch missing personsMissing PersonMissing PersonsMissing Persons Casemissing persons casesmissing persons in baluchistansong for balochistan missing personsvoice of baloch missing persons
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پنجاب میں نئے الیکشن اور نئی پاک بھارت جنگ کے خطرے کا بہانہ!

Next

اناپورنا کے ڈیتھ زون میں 27 گھنٹے گزارنے والی بلجیت کور کی موت سے بچ نکلنے کی دہشتناک کہانی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme