Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

’ہوا میرا نام جانتی ہے‘ امریکی سرحد پر خاندانوں کی جدائی کا المیہ اور ازابیل آئی اینڈے کا ناول

By Akhtar Rasool
جون 22, 2023 3 Min Read
0

”پنچھی ندیا پون کے جھونکے، کوئی سرحد نہ انہیں روکے۔۔ سرحدیں انسانوں کے لئے ہیں، سوچو! تم نے اور میں نے کیا پایا انساں ہوکے؟“ یہ جاوید اختر کی ایک نظم کے بول ہیں، جس میں سرحدوں کی وجہ سے انسانوں کی دوریوں اور اس کے درد کو موضوع بنایا گیا ہے۔ بدقسمتی سے یہ درد کسی ایک خطے تک محدود نہیں ، بلکہ دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے

دنیا بھر کے ادب میں اس درد کی عکاسی نظر آتی ہیں، امریکہ اور میکسیکو سرحد پر تارکینِ وطن کےخاندانوں کا ایک دوسرے سے جدا ہو جانا، مصنفہ ازابیل آئی اینڈے کے لیے بھی ہمیشہ تکلیف دہ رہا ہے، لیکن جب ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں ازابیل نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا تو پہلا خیال انہیں اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے بچوں کو ان کے والدین کے ساتھ دوبارہ ملانے میں مدد کرنے کا آیا، جس کے بعد چلی سے تعلق رکھنے والی مصنفہ نے اس تکلیف دہ صورتحال کو اپنی نئی کتاب کا موضوع بنانے کا سوچا

ایوارڈ یافتہ اور دنیا میں ہسپانوی زبان کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مصنفہ کا نیا ناول "The Wind Knows My Name” ہے، جو امیگریشن، تشدد، یکجہتی اور محبت جیسے موضوعات کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ ناول جون کے شروع میں شائع ہوا ہے

ازابیل آئی اینڈے کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی اب تک سات کروڑ ستر لاکھ سے زیادہ کتابیں فروخت ہو چکی ہیں۔ اَسی سالہ مصنفہ کو، سرحد پر بچوں کی ان کے والدین سے علیحدگی نے ماضی کے ایسے ہی تکلیف دہ واقعات کی یاد دلائی، جب غلام بنائے گئے یا مقامی خاندانوں کے بچے ان کے والدین سے چھینے جا رہے تھے

ازابیل نے کیلیفورنیا میں فرانسیسی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ”میں نے یہ خوفناک واقعات پہلی بار نہیں دیکھے۔ یہ ان والدین اور ان کے بچوں کے لیے ایک خوفناک، بھیانک، المناک اور تکلیف دہ صورتحال ہوتی ہے، جس کی ٹِیس وہ اپنے دل میں دبائے پروان چڑھتے ہیں۔بس یہی میری اس نئی کتاب کا ماخذ ہے“

اس ناول میں حقیقت اور افسانے کو ملایا گیا ہے اور ان فیصلوں پر غور کیا گیا ہے، جو مائیں اپنے بچوں کو بچانے کے لیے کرتی ہیں، یہ تشدد کے سامنے بچوں کی لچک کے بارے میں بھی ایک کہانی ہے

لیکن اصل خیال ایک سات سالہ نابینا لڑکی جولیانا پر یہ ناول لکھنا تھا۔ ازابیل نے جولیانا کے بارے میں ازابیل آئی اینڈے فاؤنڈیشن کے توسط سے جانا۔ یہ فاؤنڈیشن، خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ میکسیکو کی سرحد پر کام کرنے والے گروپوں کی مالی مدد بھی کرتی ہے

2019 میں اپنے خاندان کے ساتھ امریکہ پہنچنے پر، جولیانا کو اپنی ماں سے الگ کر دیا گیا، جبکہ وہ امیگریشن سسٹم کے ریکارڈ میں کہیں موجود نہیں تھی، لیکن وکلاء کی کوششوں کی بدولت وہ آٹھ ماہ کے بعد اپنے والدین سےجا ملی

اگرچہ مصنفہ کو جولیانا سے ذاتی طور پر ملنے کا موقع نہیں ملا، کیونکہ اسے اپنے خاندان سمیت میکسیکو واپس بھیج دیا گیا تھا لیکن اس کہانی نے آئی اینڈے کو لکھنے کی تحریک دی

ازابیل آئی اینڈے ،کئی دہائیوں سے امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں مقیم ہیں وہ کہتی ہیں کہ جب میں لکھتی ہوں تو کوئی پیغام یا وعظ کرنے کی کوشش نہیں کرتی بلکہ وہی لکھتی ہوں جو محسوس کرتی ہوں یا جس نے میرے دل پر گہرا اثر اور نقش چھوڑا ہوتا ہے

اس ناول میں آئی اینڈےنے دیگر وجوہات کے علاوہ تشدد، غربت یا بدعنوانی کی وجہ سے بھاگنے والے خاندانوں کے ٹوٹنے کے ساتھ ساتھ امیگریشن پالیسیوں اور ان کے اثرات کا بھی ذکر کیا ہے، جسے ازابیل طاقت کا غلط استعمال کہتی ہیں، اور ان ہزاروں وکلاء، سماجی کارکنوں، ماہرین نفسیات اور دیگر رضاکاروں کو خراج تحسین پیش کیا ہے، جو ان خاندانوں کو دوبارہ ملانے میں مدد کے لیے بغیر معاوضے کے کام کرتے ہیں

چالیس سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ شدہ پچیس سے زیادہ کتابوں کی مصنفہ ازابیل آئی اینڈے کے لیے، ناول لکھنا کپڑے سے سینری بنانے کے مترادف ہے، جس میں آہستہ آہستہ نقطے جوڑے جاتے ہیں اور رنگ شامل کیے جاتے ہیں ۔وہ کہتی ہیں ”جب یہ انجام کو پہنچتا ہے تو آپ کو ایک زبردست راحت محسوس ہوتی ہے۔“

اس ناول کے کرداروں کے بارے میں وہ کہتی ہیں، ”ان کو میں نے اپنے دماغ میں ایک سال سوچا، بنایا سنوارا۔۔ اور اس دوران انہوں نے میری نیندیں بھی اڑائے رکھیں اور اب آخر کار سب کے سب ناول کے صفحات میں قید ہو گئے ہیں۔“

Tags:

Borderborder crisisborder patrolborder wallcanada border deathscanada-us border deathscentral americaemerson manitoba borderemerson/pembina borderfamiliesfamily frozen canada-us bordermexican bordermexican border documentarymexico bordermigrant familiessouthern bordersouthern border crisisus canada borderus mexican borderus mexican border crisisus mexican border crossingus mexican border newsus mexico border
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

اسپیشل اولمپک گیمز میں چار میڈل جیتنے والے سیف اللہ سولنگی: ”امی نے کہا تھا میں سب کچھ کر سکتا ہوں“

Next

جاپان میں لوگوں کو مسکرانے کی تربیت دینے کی نوبت کیوں آئی؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme